وہ اپنی چوتھی بیوی کیتھرین کے بارھویں شوہر ہیں


سلمیٰ مبین خان کی تیسری بیوی تھی اوراب مبین خان کو چوتھی شادی کرنے کا جنون سوار تھا کیونکہ کسی نجومی نے بتایا تھا کہ ان کی چوتھی بیوی ان کے لیے مبارک ثابت ہوگی اور صحیح معنوں میں گھر کی لکشمی بھی اور تیسری شادی کئے بغیر چوتھی دلہن لانا ناممکن تھا۔
مبین خان صرف سترہ برس کی عمر میں اپنا گھر بار چھوڑ کر پردیس سدھار گئے تھے ۔ گاؤں کے بے رحم حالات نے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا شہر کی چمچماتی زندگی اور منہ زور ہوا نے ان کو ایسا جکڑا کہ لوٹ کر جانے کا سوچ بھی نا پائے ۔ پہلے بس کنڈیکٹر اور رفتہ رفتہ بس ڈرایﺅر کے عہدے پر آگئے اورایک دن اپنے ذاتی لاریوں کے اڈے کا خواب دیکھ رہے تھے ۔ اور کیوں نہ دیکھتے خواب دیکھنا تو ہر آذاد شہری کا حق ہے اور یوں بھی خواب دیکھنے پر کونسا ٹیکس لگتا ہے یا کوئی خاص پرمٹ لینا ہوتا ہے لہٰذا وہ یہ کام دل کھول کر کرتے جب بھی موقع ملتا ایک نسوار کی چٹکی آستین سے نکال کر منہ میں دانتوں اور گال کے درمیان بھری اور ایک لمبا سانس لیکر خوابوں کا تانا بانا بننے میں مصروف ہوگئے ۔بڑی بے فکر زندگی تھی۔ایک دن اچانک نا جانے کس کی دعا سے ان کا یہ خواب پورا ہوگیا۔
کچھ سال بعدہی کراچی کے کسی لاریوں کے اڈے کے مالک نے مبین خان سے اپنی اکلوتی بیماربیٹی کی شادی نا صرف ان سے کردی بلکہ اپنا لاریوں کا اڈا بھی اسے سونپ ڈالا اور خود جہان فانی سے چل بسا۔ اب مبین خان زندگی کو تبدیلیوں کی جانب جاتا دیکھ رہے تھے۔ کچھ عرصے بعد اچانک ہی مبین خان کی بیوی بھی ایک بیٹی کو جنم دیکر اس دنیا سے سدھار گئی۔ اب اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔ محلہ اور پڑوس کی عورتوں اور مردوں نے مل کر ان کی ایک ماہ کے بعد ہی دوسری شادی کروادی۔ مگر وہ بیوی راشدہ ان کے لئے عذاب سے کم نہ تھی ۔ سارا دن وہ ان کی مرحوم بیوی کو کوستی رہتی اور مبین خان کی کم مائیگی کا رونا ہر آنے جانے والے سے کرتی رہتی۔ ان کی بچی کو پالنا تو درکنار تھا سارا دن وہ بے ماں کی بچی بلکتی رہتی اور ایک دن وہ یونہی بلکتے بلکتے کسی بیماری نے اسے اپنی آغوش میں لیکر اسے اس کی حقیقی ماں کے پاس پہنچا دیا۔ مبین خان نے اس صدمے کو سہنے کے لئے راشدہ کو طلاق دے دی اور لاریوں کے اڈے کو بھی اونے پونے بیچ کر کسی نہ کسی طرح دوبئی آپہنچے۔ نہ تعلیم نہ ہنر اور نہ پیسہ بالکل خالی ہاتھ وہ در در نوکری کی تلاش میں کبھی مزدوری کرتے کبھی کسی ہوٹل میں برتن دھوتے اور کبھی کبھی سارا دن شہر کی خاک چھان کر آٹھ دس لوگوں کے مشترکہ کمرے میں کسی نا کسی طرح اپنی نیند پوری کر لیتے۔ایک دن ان کی ملاقات چودھری افضل سے ہوئی جو لوگوں کو جعلی پاسپورٹ اور ویزوں پر یورپ اور امریکہ بھیجا کرتا تھا۔ مبین خان نے بھی اپنی قسمت آزمانے کا سوچا اور اپنی جمع پونجی چودھری افضل کے حوالے کرکے جاڑوں کی ایک تاریک رات کو وہ جعلی پاسپورٹ پر سفر کرکے جرمنی آپہنچے ۔ برف سے ڈھکی سڑکیں ، گورے گورے لوگ اور سردی کے مارے اس کا سفید چہرہ عجیب ماتمی منظر پیش کر رہا تھا۔ سرحدی پولیس اور مترجم کے سامنے اس نے رٹی رٹائی کہانی سنانا شروع کر دی مگر اختتام سے پہلے ہی وہ سیاسی پناہ کی جیل میں گرم کپڑوں،بستر اور پھیکے مگر صحت مند کھانوں کا لطف اٹھا رہے تھے۔وہ دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ کتنے اچھے اور کتنے سادہ ہیں یہ لوگ۔ انکو معلوم ہے کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں مگر پھر بھی ہم سے انسانوں جیسا سلوک کرتے ہیں انکو یاد آگیا کہ ایکبار جب کراچی میں مہاجر پٹھان جھگڑے ہوئے تھے تو وہ سچ کے ساتھ بھی اپنا دفاع نہیں کر پائے تھے بلکہ الٹا ہی پولیس کی مار کے ساتھ ساتھ اپنی تین بسوں کے جلنے کا نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا ۔ گذرے دن یاد کرتے کرتے پتا نہیں کب ان کی آنکھ لگ گئی۔ اگلے دن انھوں نے پکا سوچ لیا تھا کہ یہی ان کی منزل ہے کچھ ہو نا ہو یہاں انصاف تو ہے۔ انسان کے ہاتھوں انسان کی تحقیر تو نہیں ہے۔ انکی جیل کے کمرے میں ایک اور ہندوستانی بھی موجود تھا اور اس نے ہی بتایا کہ اب یہاں سیاسی پناہ ملنا دن بہ دن دشوار ہوتا جارہا ہے صرف شادی یا بچہ ہی اسے یہاں کے قانونی شہری کی حیثیت دلا سکتا ہے۔
مبین خان کو بچپن میں کسی نجومی کی کہی بات یاد آگئی کہ ٬٬ تیری چوتھی بیوی ہی تیرے نصیب کھولے گی اور تیری لکشمی ہوگی وہ ٬٬ وہ دل ہی دل میں چہک اٹھے۔ مگر یہاں کون کرے گا مجھ سے شادی یا کون کروائے گا میری شادی ۔۔۔ وہ نہ کسی کو جانتا ہے یہاں اور نہ ہی زبان آتی ہے کہ جان پہچان کا کوئی سلسلہ بن سکے۔ اب دن رات ان کو یہ فکر ستانے لگی جیل کے صحن میں کھلی ہوا میں سانس لیتے ہوئے بھی اب انھیں گھٹن محسوس ہونے لگی تھی ۔ ِ
کچھ عرصہ بعد انھیں جیل سے ایک ہاسٹل میں منتقل کر دیا گیا۔جرمنی آئے سات ماہ ہونے کو تھے سوائے ایک افغان مترجم اور ایک دو سکھ پنجابیوں کے انکو اپنا کوئی ہم زبان نہیں مل سکا تھا۔اب رفتہ رفتہ یہاں کی معمول کی زندگی سے انہیں اکتاہٹ ہونے لگی تھی۔ایک بار انکی زندگی میں اچانک خوشگوار تبدیلی آئی ان کی ملاقات سلمیٰ سے ہو گئی۔ سلمیٰ کوئی اٹھارہ سالہ دوشیزہ نہیں تھی بلکہ وہ ایک پینتالیس سالہ تجربہ کار عورت تھی۔ جو پاکستان میں آنے والے زلزلے کی تباہی کے بعد سیاسی پناہ کے لئے جرمنی آئی تھی ۔ پاکستان میں زلزلے کی تباہی نے تو اسکا گھر بار ختم کر ہی دیا تھا مگر کچھ بے رحم لوگ اس اکیلی عورت کی عزت کے بھی درپے تھے ۔ایک انسان دوست سماجی تنظیم کے کارکن کی مدد سے وہ جرمنی سیاسی پناہ کے لئے آگئی تھی۔ سلمیٰ سے ملکر مبین خان کی زندگی میں بہار آگئی تھی۔ہاسٹل کے عملے سمیت تمام ہی لوگوں نے اس بات کو محسوس کیا تھا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں لہٰذا انھوں نے بھی ان دونوں کو ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے کے لئے مواقع فراہم کرنا شروع کر دئے۔
مبین خان نے موقع ملتے ہی سلمیٰ سے نکاح کر لیا اور ساتھ ساتھ رہنے لگے۔ مگر بار بار یہ خیال ستاتا تھا کہ وہ اس پینتالیس سالہ پکی عمر کی عور ت کے ساتھ اپنی تیس سالہ جوانی نہیں گذار سکتے ۔ ذہنی ہم آہنگی ہونے کے باوجود بھی مبین خان کو اپنی زندگی میں خلا محسوس ہوتا تھا۔ریستوران میں کام چل رہا تھا اور سیاسی پناہ کا کیس بھی ۔ امیدیں کم ہونے کے باوجود سلمیٰ کے ساتھ زندگی دوڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی مگر مبین خان اس دوڑ سے اس وقت اکتا گئے جب انہیں کیتھرین ریستوران میں ملی۔
اگرچہ وہ عمر میں سلمیٰ سے چند ہی برس چھوٹی ہوگی مگر جب وہ ٹوٹی پھوٹی ہندی زبان کے گانے گاتی ،بے باک اشارے کرتی تو مبین خان کا دل اتھل پتھل ہونے لگتا۔ انھوں نے اب کیتھرین سے اصل اور دستاویزی شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ سلمیٰ کو ایک بار پھر اپنی زندگی میں زلزلے کے جھٹکے کھانا پڑے مگر وہ سنبھل گئی۔زبانی طلاق زبانی نکاح اور زبانی وعدے۔۔۔۔ دل کا حال تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔
مبین خان کو چوتھی بیوی لکشمی کے روپ میں ملے گی جرمنی میں کاغذات پکے ہو جائینگے زندگی کو ٹھکانہ مل جائے گا ۔ میونسپل کارپوریشن نے شادی کی درخواست قبول کرکے دو ہفتے بعد شادی کی تاریخ مقرر کی تھی ۔ مبین خان خوشی سے پاگل ہو رہے تھے۔ قسمت کی دیوی ان پہ مہربان تھی۔
دو ہفتے بعد جب وہ اپنے سیاسی پناہ کے ہاسٹل سے رخصت ہو کر کیتھرین کے ایک کمرے کے فلیٹ میں آئے تو ان پہ عقدہ کھلا کہ وہ اپنی چوتھی بیوی کیتھرین کے بارھوے شوہر ہیں مگر قانونی طور پر شاید ساتواں نمبر ہے اور ان کے گاوئں میں ساتواں نمبر بڑا مبارک مانا جاتا تھا۔ کئی وسوسوں کے ساتھ اب ایک نئی امید نے ہاتھ تھام کر انہیں خوابوں کی دنیا میں داخل کر دیا تھا۔

چوتھی بیوی از عشرت معین سیما برلن ۔ جرمن

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on May 23, 2012, in اقتباس کولیکشن, اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: