Iqtibas: Izzat ki Zindagi


میں عزت دار آزاد آدمی کی طرح زندہ رہنا چاہتا ہوں۔ جس سے چاہوں مقابلہ کروں۔جس سے چاہوں بحث مباحثہ کروں اور جس پر چاہوں تنقید کروں۔ میں اچھے یا برے الفاظ ، اچھے اور برے لوگوں کے منہ پر کہوں نہ کہ ان کی خوشامد کروں، نہ ہی ان سے دب کر رہوں۔

بےشک وہ آدمی جواحسانوں کی زنجیر میں بندھا ہے وہ ایک آزاد اور شریف آدمی نہیں ہو سکتا، لہٰذا لوگ مجھے احسانات اور لین دین سے باز رکھیں۔میں ان کے ہاتھوں میں ان کا غلام یا ان کا قیدی بننا پسند نہیں کرتا۔ میں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ میں غریب اور لوگوں سے دور رہنے والا بن کر زندگی گزار دوں، اس بات پر کہ میں لوگوں کے آگےذلیل اور دھتکارا بن کر رہوں۔

میں اس بلندی کو بھی پسند نہیں کرتا جو کھجور اور سرو کے درخت کی ہے اور جس بلندی کو میرے ہاتھ نے سینچا نہ ہو۔میرے لیے اتنی بزرگی کافی ہے جس میں سے میں اپنا وہ حصہ حاصل کر لوں جو اللہ تعالیٰ نے میرا مقدر کیا ہے، اس سے زیادہ کی مجھے کوئی تمنا نہیں۔

اقتباس ازعربی کتاب “ـمختارات من ادب العرب”، مولانا سید ابو الحسن علی الحسنی ندوی

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on July 10, 2012, in اقتباس کولیکشن. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: