Dilon ki Basti ke Log Mohsin


 

اُجاڑ بستی کے باسیو! ایک دوسرے سے پَرے نہ رہنا
ہوا درختوں سے کہہ گئی ہے، کسی بھی رُت میں ہَرے نہ رہنا

میں اپنے رُوٹھے ہوئے قبیلے کی سازشوں میں گھِرا ہوا ہوں
تم اجنبی ہو تو میرے آنگن کی وحشتوں سے ڈرے نہ رہنا

… پھٹے ہوئے بادباں کے پرزے بکھر بکھر کے یہ کہہ رہے تھے
شکستہ کشتی کے ناخداؤ! ہواؤں کے آسرے نہ رہنا

یقیں ہے اب کے وصال، موسم کے بانجھ پن کی دلیل ہو گا
تمہاری آنکھوں کی سیپیوں کا یہ موتیوں سے بھرے نہ رہنا

سخنورو! اس منافقت سے تو خودکشی کا شعار سیکھو
زبان کا زخم زخم ہونا، حروف کا کھُردرے نہ رہنا

دلوں کی بستی کے لوگ محسنؔ! اجڑ اجڑ کے یہ کہہ گئے ہیں
جہاں وفاؤں میں کھوٹ دیکھو، وہاں سخن میں کھرے نہ رہنا

محسنؔ نقوی

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on July 14, 2012, in اردو شاعری. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: