Ek Boorhey ki Iltija


ایک بوڑھے کی اللہ سے التجا۔۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک شخص تھا جو خوش الحان تھا۔ وہ مختلف محفلوں میں اشعار وغیرہ سنا کر (گانا نہیں) کچھ پیسے کما یا کرتا تھا۔ وہ شخص بوڑھا ہو گیا۔ آواز بیٹھ گئ۔ کمائی کا ذریعہ ختم ہو گیا۔ نوبت فاقوں پر پہنچ گئی۔

ایک دن بھوک کے عالم میں جنت البقیع کے قبرستان میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گیا اور اللہ سے باتیں کرنے لگا۔ “اے اللہ جب تک جوان تھا۔ آ…واز ساتھ دیتی تھی۔ کماتا تھا اور کھاتا تھا۔ اب آواز بیٹھ گئی ہے۔ بھوک لگی ہے ۔ پہلی بار تیرے در پہ آیا ہوں۔ مایوس نہ لوٹانا۔“
حضرت عمر رضی اللہ تعالی مسجد نبوی کے صحن میں سوئے ہوئے تھے۔ خواب میں آواز آئی “اٹھ میرا ایک بندہ جنت البقیع میں مجھے پکار رہا ہے۔ اس کی مدد کو پہنچ، عرش ہل رہا ہے۔۔۔“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ ننگے پاوں بھاگے۔ اس بوڑھے نے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کو آتے دیکھا تو اٹھ کر بھاگا کہ شاید مجھے مارنے آرہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ “مت بھاگ میں خود نہیں آیا بلکہ بھیجا گیا ہوں۔“ بوڑھے نے پوچھا “کس نے بھیجا ہے۔؟“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ اسی ذات نے بھیجا ہے جس کو پکار رہے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بوڑھے نے زندگی میں پہلی بار اللہ کو پکارا اور پکارا بھی تو روٹی کیلئے ۔ لیکن اللہ نے اپنے بندے کو مایوس نہ کیا۔

اللہ سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔ علماء بتاتے ہیں کہ دعا کے قبول ہونے کیلئے مضطرب ہونا شرط ہے۔ دل سے اللہ کو پکاریئے۔ وہ ضرور پہنچے گا۔ صرف ہاتھ اٹھا لینا اور خیال کا کہیں اور بھٹک رہا ہونا دعا کی صحت کے
خلاف ہے
۔

اقتباس از : تقریر مولانا طارق جمیل صاحب

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on July 16, 2012, in اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: