Peer e Kamil S.A.W By Umera Ahmad


پیر کامل میں‌ کاملیت ہوتی ہے۔ پیر کامل وہ شخص ہوتا ہے جو دل سے اللہ کی عبادت کرتا ہے، نیک اور پارسا ہوتا ہے۔ اس کی ہر دعا قبول ہوتی ہے ۔ اس حد تک جس حدتک اللہ چاہے۔ اس کے الفاظ میں تاثیر بھی ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کو ہدایت بھی دیتا ہے مگر اسے ال…ہام نہیں ہوتا۔ اسے وجدان ہوتا ہے ۔وحی اترتی ہے اس پر اور وحی کسی عام انسان پر نہیں اترتی۔ صرف پیغمبر پر اترتی ہے ۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے ہر پیغمبر کامل تھا۔ مگر پیر کامل وہ ہے جس پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا جاتا ہے۔
ہر انسان کو زندگی میں کبھی نہ کبھی کسی پیر کامل کی ضرورت پڑتی ہے۔ کبھی نہ کبھی انسانی زندگی اس موڑ پر آ کر ضرور کھڑی ہو جاتی ہے جب یہ لگتا ہے کہ ہمارے لبوں اور دل سے نکلنے والی دعائیں بے اثر ہو گئی ہیں۔ ہمارے سجدے اور ہمارے پھیلے ہوئے ہاتھ رحمتوں اور نعمتوں‌ کو اپنی طرف موڑ نہیں پا رہے ۔ یوں‌لگتا ہے جیسے کوئی تعلق تھا جو ٹوٹ گیا ہے۔ پھر آدمی کا دل چاہتا ہے اب اس کے لیے کوئی ہاتھ اٹھائے کسی اور کے لب اس کی دعا اللہ تک پہنچائیں۔ کوئی اللہ کے سامنے اس کے لیے گڑگڑائے۔ کوئی ایسا شخص جسکی دعائیں قبول ہوتی ہوں جسکے لبوں سے نکلنے والی التجائیں اس کے اپنے لفظوں‌کی طرح واپس نہ موڑ دی جاتی ہوں۔ پھر انسان پیر کامل کی تلاش شروع کرتا ہے۔ بھاگتا پھرتا ہے۔ دنیا میں‌ کسی ایسے شخص کے لیے جو کاملیت کی کسی نہ کسی سیڑھی پر کھڑا ہو۔
پیر کامل کی یہ تلاش انسانی زندگی کے ارتقا سے اب تک جاری ہے۔ یہ تلاش وہ خواہش ہے جو اللہ خود انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے۔ انسان کے دل میں یہ خواہش ، تلاش نہ اتاری جاتی تو وہ پیغمبروں‌پر کبھی یقین نہ لاتا۔ کبھی ان کی پیروی اور اطاعت کرنے کی کوشش نہ کرتا۔ پیر کامل کی یہ تلاش ہی انسان کو ہر زمانے میں اتارے جانے والے پیغمبروں کی طرف لے جاتی رہی پھر پیغمبروں کی مبعوثیت کا یہ سلسلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا گیا۔ آپ کی امت کے لیے آپ کے بعد کسی اور پیر کامل کی گنجائیش نہیں رکھی گئی۔
کون ہے جسے اب یا آئیندہ آنے والے زمانے میں‌ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی مقام دیا جائے۔
کون ہے جسے آج یا آئندہ آنے والے زمانے میں کسی شخص کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کاملیت دے دی جائے؟
کون ہے جو آج یا آئندہ آنے والے زمانے میں کسی شخص کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر شفاعت کا دعوٰی کر سکے؟
جامد اور مستقل خاموشی کی صورت میں آنے والا نفی میں‌ یہ جواب ہم سے صرف ایک سوال کرتا ہے
پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ہم دنیا میں اور کسی وجود کو کھوجنے نکل کھڑے ہوئے ہیں؟؟؟ پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے بیعت شدہ ہوتے ہوئے ہمیں دوسرے کسی شخس کی بیعت کی ضرورت رہتی ہے؟؟
پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر چلنے کی بجائے ہمیں دوسرا کون سا راستہ ہمیں اپنی طرف کھینچ رہا ہے؟؟
کیا مسلمانوں‌کے لیے ایک اللہ، ایک قرآن، ایک رسول اور ان کی سنت کافی نہیں؟؟؟
اللہ ، اسکے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی کتاب کے علاوہ اور کون سا شخص ، کون سا کلام ہے جو ہمیں‌دنیا اور آخرت کی تکلیفوں‌سے بچا سکے گا؟؟ جو ہماری دعاؤں‌ کو قبولیت بخشے ، جو ہم پر نعمتیں‌ اور رحمتیں‌ نازل کر سکے؟؟
کوئی پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم کا فرقہ بتا سکتا ہے، نہیں‌ بتا سکتا۔
ڈاکٹر سبط علی کہہ رہے تھے
“وہ صرف مسلمان تھے ، وہ مسلمان جو یہ یقین رکھتے تھے کہ اگر وہ صراط مستقیم پر چلیں‌گے تو وہ جنت میں‌ جائیں گےتو۔ اس راستے سے ہٹیں گے تو اللہ کے عذاب کا نشانہ بنیں‌ گے۔
اور صراط مستقیم وہ راستہ ہے جو اللہ اپنے پیغمبر کے ذریعے قرآن پاک میں بتاتا ہے۔ صاف ، دوٹوک اور واضح الفاظ میں۔ وہ کام کریں جس کا حکم اللہ اپنے رسول محمد کے ذریعے دیتا ہے۔ اور اس کام سے رک جایئں جس سے منع کیا جاتا ہے
اللہ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات میں‌ کوئی ابہام نہیں‌رکھتے۔ قرآن کو کھولئے ، اگر اس میں‌کہیں‌دو ٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں کسی دوسرے پیر کامل یا پیغمبر کا ذکر ملے تو اس کی تلاش کرتے رہیے اور اگر ایسا کچھ نظر نہیں‌ آتا تو پھر صرف خوف کھائیے کہ آپ اپنے پیروں‌ کو کس دلدل میں‌ لے جا رہے ہیں۔ اپنی پچاس ساٹھ سالہ زندگی کو کس طرح اپنی ابدی زندگی کی تباہی کے لیے استعمال کر رہے ہیں کس طرح خسارے کو سودا کر رہے ہیں۔۔ ہدایت کی تلاش ہے، قرآن کھولیے ۔ کیا ہے جو وہ آپ کونہیں‌ بتا دیتا؟؟؟ وہ آپ کو معصوم ، انجان اور بے خبر نہیں‌رہنے دیتا۔ آپ کا اصل آپ کے منہ پر دے مارتا ہے۔ کیا اللہ انسان کو نہیں‌ جانتا ہو گا؟؟ اس مخلوق کو، جو اس کی اربوں کھربوں تخلیقات میں‌ سے ایک ہے
دعا قبول نہیں ہوتی تو آسرے اور وسیلے تلاش کرنے کی بجائے صرف ہاتھ اٹھا لیجئے ، اللہ سے خود مانگیں۔ دے دے تو شکر کریں، نہ دے تو صبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ہاتھ آپ خود ہی اٹھائیں۔
زندگی کا قرینہ اور سلیقہ نہیں‌ آ رہا تو اسوۃ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے جائیں۔ سب کچھ مل جائے گا آپ کو۔
احترام ہر ایک کا کریں۔ ہر ولی کا، ہر مؤمن کا، ہر بزرگ کا، ہر شہید کا، ہر صالح کا، ہر پارسا کا، مگر اپنی زندگیوں‌ میں ہدایت اور راہنمائی صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے لیں۔ کیونکہ انہوں‌ نے آپ تک اپنے ذاتی احکامات نہیں‌پہنچائے۔ جو کچھ بتایا ہے وہ اللہ کا نازل کردہ ہے۔

اقتباس : پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم از عمیرہ احمد

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on July 16, 2012, in اقتباس کولیکشن, اردو نثر. Bookmark the permalink. 1 Comment.

  1. Umdaa tareen!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: