Ishq e Rasool S.A.W: Ashfaq Ahmad


پھر سرتاج عاشقان حضرت اویس قرنی نے حضور کے چہرہ اقدس کی تفصیلات بیان کرنا شروع کیں ، اور رفیقان رسول وہیں کھڑے کھڑے شبیہ مبارک ملاحظہ فرماتے رہے –

جب آپ خاموش ہو گئے تو حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہا نے پوچھا !

سیدنا ! آپ تو حضور کی خدمت اقدس میں تشریف نہیں لا سکے ، اور آپ نے تو انھیں ایک مرتبہ بھی نہیں دیکھا ، پھر آپ کس طرح ان کے رخ مبارک کے خد و خال کی تفصیلات بیان فرما رہے ہیں –

حضرت اویس قرنے نے اپنی سفید داڑھی جبہ مبارک سے ملتے ہوئے کہا !

” آپ حضرات نے حضور کو “ہونے” کے مقام پر دیکھا ہے ، اور میں نے ” نہ ہونے ” کے مقام پر محبوب کی خدمت میں اپنی روح کو حاضر رکھا ہے –

آپ خوش نصیب تھے کہ نعمت ہر وقت آپ کے روبرو تھی –
ہم دور تھے اور قرب کی دید سے محروم تھے –

اور خوش نصیب اور محروم میں یہی فرق ہوتا ہے کہ محروم ہر وقت نعمت کے بارے میں سوچتا رہتا ہے اور اس کے لیے حریص رہتا ہے –

” نہ ہونے ” کے مقام پر دیکھنے والے کی صرف آنکھیں ہی نہیں دیکھتیں اس کا سارا وجود طلب بن جاتا ہے – ”

از اشفاق احمد سفر در سفر

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on July 21, 2012, in اقتباس کولیکشن, اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: