Khana Kaa’ba: Insaan k Ansu Isi Muqam k Liye Hen


میں بارگاہِ خداوندی کے جاہ و جلال کے تصور سے لرزتا ہوا اندر داخل ہوا صحن میں پاؤں رکھتے ہی … خانہ کعبہ پر نظر پڑی اور مجھے اچانک ایسا محسوس ہوا کہ اس کی چھت آسمان کو چھو رہی ہے سینکڑوں آدمی وہاں طواف کر رہے تھے کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنا …گوارا نہ تھا جو طواف سے فارغ ہو چکے تھے ان میں سے کوئی حطیم کے اندر نفل پڑھ رہا تھا اور کوئی غلافِ کعبہ تھام کر گریہ و زاری کر رہا تھا کسی کو کسی سے سروکار نہ تھا کسی کو کسی سے دلچسپی نہ تھی دو تین چکر لگانے کے بعد مجھے خیال آیا کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں اس کے ساتھ ہی میری آواز بیٹھ گئی میری قوت گویائی جواب دے گئی اور آنسوؤں کا سیلاب جو نہ جانے کب سے اس وقت کا منتظر تھا میری آنکھوں سے پھوٹ نکلا یہ ایک ایسا مقام تھا جہاں بچے کی طرح سسکیاں لینا بھی مجھے معیوب معلوم نہیں ہوتا تھا کسی نے میری طرف دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کسی نے یہ نہ پوچھا کہ تم کیا کر رہے ہو ان کی بے اعتنائی اور بے توجہی ظاہر کر رہی تھی کہ ایک انسان کے آنسو اسی مقام کے لیے ہیں

نسیم حجازی، پاکستان سے دیارِ حرم تک

 

 

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on July 30, 2012, in اقتباس کولیکشن. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: