Iqtibas: Ghusa Pahar ki Choti ki Tarah By Mumtaz Mufti


 

پرانے زمانے میں جب انسان جنگی دور میں تھا ۔۔ تو غصہ ایک اندھا جزبہ ہوا کرتا تھا ۔۔ ہوتا یوں تھا کہ اگر آپ پر کسی نے پتھر پھینکا اور پھر بھاگ گیا ‘ اس پر آپ کو غصہ آجاتا ۔۔۔آپ اپنا تیر کمان اٹھا لیتے اور گھر سے نکل جاتے ۔ باہر کوئی بھی چلتا پھرتا نظر آتا ۔۔چاہے وہ انسان ہو یا پرندہ یا پڑوسی کی بھینس آپ اس پر تیر چلادیتے ۔۔ اور پھر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کے بعد جھونپڑے میں داخل ہوکر آرام سے اپنے کام کاج میں مصروف ہوجاتے ۔۔ اس زمانے میں بدلے یا انتقام کاسوال نہ تھا ۔۔ صرف دل ٹھنڈا کرنے کی بات تھی ۔۔اس کے بعد انسان آہستہ آہستہ مہزب ہوتا گیا ،،اور اس کی سمجھ میں آگیا کہ غصّہ نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ غصّہ دلانے والے کو سزا دی جائے ۔۔۔
آج کی صورت حال دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہم پھر سے جنگلی دور میں جا داخل ہوئے ہیں۔۔ جب بھی ہم غصّے میں آتے ہیں تو جوش میں باہر نکلتے ہیں۔۔ سڑک پر چلتی بسوں کو روک کر انہیں آگ لگا دیتے ہیں ۔۔ چلتی گاڑیوں پر پتھر پھینکتے ہیں ۔۔ چار ایک نعرے لگاتے ہیں منہ سے جھاگ نکالتے ہیں ۔۔ اور یوں دل ٹھنڈا کرنے کے بعد اپنے کارنامے پر نازاں خوشی خوشی گھر لوٹتے ہیں ۔۔ سمجھ میں نہیں آتا دورِ جدید کے لوگ ہر وقت غصے میں کیسے رہتے ہیں ؟
بھئی غصّہ تو آنی جانی چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اسے قائم کرلینا یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی ۔۔۔
سیانوں کا کہنا ہے ۔۔
” غصہ پہاڑ کی برفیلی چوٹی کی طرح ہے ۔۔ آپ چوٹی پر جاسکتے ہیں ‘ وہاں قیام نہیں کرسکتے ۔۔”

از رام دین ۔۔ ممتاز مفتی

 

 

 

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on August 8, 2012, in اقتباس کولیکشن. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: