Ae Allah, Itne Chotey se Larkey Mein Itna Dukh


اے اللہ!! اتنا دکھ اتنے چھوٹے سے لڑکے کے سینے میں 🙂

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں مسجد میں استاد تھا۔پندرہ سال کا یہ بچہ ہر روز مغرب کے بعد مسجد میں بیٹھا کرتا تھا…چھوٹا سا قرآن اٹھائے پڑھتا رہتا تھا… نہیں…وہ پڑھتا نہیں تھا…ظاہر ایسے کرتا کہ وہ پڑھ رہا ہے۔ لیکن اصل میں چوری چھپے ہمیں ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعددیکھتا رہتا تھا.. یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ہم کیا کرتے ہیں.. ہماری باتیں سننے کی کوشش… کرتا تھا… اور جب بھی میں اس کی طرف دیکھتا..وہ اپنی آنکھیں پھیر کر ..دوبارہ قرآن پڑھنے میں اپنے آپ کو مشغول کر لیتا..جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو… ہر روز…وہ اسی طرح شرمندہ سا بن کر بیٹھا رہتا..سہمی سہمی نظروں سے دیکھتا رہتا.. .آج میں نے عشا کی نماز کے بعد.. اس سے ملنے کا عزم کر لیا۔ ”میرا نام سلمان ہے۔مسجد میں پڑھاتا ہوں” میں نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔ ”اور میرانام خالد ہے”اس نے فورا جواب دیا۔ عجیب!!اس نے یہ جواب میرا سوال ختم ہونے سے پہلے ہی دے دیا۔جیسا کہ وہ یہ جواب کئی مہینوں سے یاد کر رہا ہو..یا جیسا کہ اسے اس سوال کا بہت عرصے سے انتظار ہو۔ ”خالد ! آپ کیا پڑھتے ہیں؟” میں نے بات بڑھاتے ہوئے پوچھا۔ ”میں نویں کلاس کا طالب علم ہوں..اور قرآن پاک سے مجھے بہت محبت ہے”اس نے جواب دیا۔ میری حیرانگی اور بڑھ گئی…بھلا اس آخری جملے کی کیا ضرورت تھی..؟! میں نے سوچا۔ ”خالد !کیا آپ مغر ب کے بعد فارغ ہوتے ہیں؟ اگر آپ مسجد میں پڑھنے آئیں گے تو ہمیں بہت خوشی ہو گی” میں نے مزید بات کو بڑھانا چاہا۔ ”آں…ہاں..قرآن پاک…مسجد… جی …جی ..ضرور…ان شاء اللہ میں آئوں گا” اس نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔ ”تب ..ہم کل ملیں گے”میں الوداعی سلام کرتے ہوئے مسجد سے باہر نکل آیا۔ ساری رات میں اُس عجیب سے لڑکے کے بارے میں سوچتا ہی رہا’لیکن کچھ سمجھ نہ آیا…آخر کار نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا.. اللھم انی اسلمت وجھی الیک…وفوضت امری الیک… دن گزرتے رہے.. خالد مسجد میں روز آتا رہا..بہت محنتی تھا وہ … اس نے سب کو بہت پسند کیا… اور سب نے اس سے محبت کی.. قرآن پاک ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا تھا… بہت اچھی عادات کا مالک تھا وہ.. .صرف ایک چیز ہمیں بہت عجیب لگی اس میں… اسکی گہری سوچیں…کبھی کبھار ایسا لگتا کہ اسکا جسم تو ہمارے ساتھ ہے لیکن اس کی روح…کسی اور دنیا میں تیرتی پھر رہی ہے… میں یک دم اسے ڈرا دیا کرتا تھا…تو وہ بات گول مول کر نے کے لیے ایسے بہانے بناتا جس کے بارے میں اسے خود پتا ہوتا کہ ہم ان پر یقین نہیں کریں گے.. ایک دن میں اسے سمندر کی سیر کروانے لے گیا. .شائید کہ اس کی دل کی بات سمندر کے دل کی بات سے جا ملے ..اور اس کا نفس غموں سے خالی ہو جائے اور اسکی روح سے دکھ مٹ جائیں۔ ہم سمندر پر پہنچے…اسکے کنارے پر ٹہل قدمی کرنے لگے… رات کا وقت تھا… چاند چمک رہا تھا… عجیب سماں تھا… آسمان کا اندھیرا…سمندر کے اندھیروں سے مل رہا تھا.. اور چاند کی روشنی… ان دونوں کے درمیان ایسے حیران کھڑی تھی جیسے میں خالد کے سامنے حیران و پریشان کھڑا تھا۔ سفید چاند کی پرسکون خاموش روشنی.. اس خاموش سمندر کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ میں اس خاموش لڑکے کے سامنے کھڑا ہو گیا.. ہر طرف خاموشی تھی… خاموشی ہی خاموشی.. کوئی آواز نہیں…سوائے خاموشی کی آواز کے… اور اچانک !! اس پرسکون خاموشی میں… خالد کے رونے کی آواز سنائی دینے لگی.. خالد پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا… میں اُسے چپ کروا کر ‘ رونے کی لذت توڑنا نہیں چاہتا تھا…شائید کہ اسے اسی میں راحت ملتی ہو اور اس کا غم ہلکا ہو جائے۔ چند لمحوں بعد …وہ روتے روتے بولا: ”میں آپ سے محبت کرتا ہوں..سر سلیمان!! میں قرآن سے محبت کرتا ہوں… اور قرآن والوں سے محبت کرتا ہوں.. نیک لوگوں سے… پاکیزہ روحوں ..سے محبت کرتا ہوں۔ لیکن…میرے والد صاحب…والد..”اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ ”آپکے والد صاحب.. خالد !! ان کو کیا مسئلہ ہے؟” میں نے نہایت پیار سے پوچھا۔ ”میرے والد صاحب…وہ مجھے آپ لوگوں سے ڈراتے ہیں..نفرت کرتے ہیں آپ لوگوں سے..مجھے آپ کے پاس جانے سے ڈراتے ہیں… جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں آپ لوگوں کے بارے میں… اور مجھے بھی آپ کی وجہ سے نفرت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں.. لیکن.. جب میں آپ لوگوں کو مسجد میں قرآن پڑھتے ہوئے دیکھتا ہوں..مجھے آپکے چہروں پر نور کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا… روشنی ہی روشنی نظر آتی ہے… آپکے لباس میں نور… آپکی باتوں سے نور ٹپکتا ہے… یہاں تک کہ آپ کی خاموشی بھی کسی نور سے کم نہیں نظر آتی… مجھے اپنے والد کی باتوں پر یقین نہیں آتا…اسی لیے میں مغرب کے بعد مسجد میں قرآن لے کر بیٹھ جایا کرتا تھا..آپ سب کی طرف دیکھتا رہتا… اپنے آپ کو تصوروں میں آپ لوگوں کے ساتھ دیکھتا..شائید کہ آپکے نور کا کچھ حصہ مجھے بھی مل جائے… سر سلیمان..!! یاد ہے.. یاد ہے وہ دن.. جب آپ عشا کے بعد میرے پاس آئے تھے.. میں کتنے عرصے سے آپ کا انتظار کر رہا تھا کہ آپ آئیں.. میری روح کر پکڑ کر اپنی روحوں کے ساتھ لٹکا دیں.. عفت اور پاکیزگی کی دنیا میں… نور اور استقامت کی دنیا میں… آپ کے کہنے پر میں مسجد میں قرآن پڑھنے کے لے داخلہ لیا۔ میں نے بہت محنت کی.. سونا چھوڑ دیا.. دن رات قرآن کے ساتھ گزارتا تھا.. لیکن …!! جب میرے والد نے یہ تبدیلی محسوس کی.. اور کسی کے ذریعے پتا کروایا کہ میں نے مسجد میں داخلہ لے لیا ہے اور مولویوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا ہے… تو..!! اس رات… وہ اندھیری رات… جب ہم رات کو والد صاحب کا انتظار کر رہے تھے.. ہر روز کی طرح رات کا کھانا کھانے کے لیے.. وہ اپنے اندھیر چہرے کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے.. کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے.. ہر کوئی خاموش تھا.. ہمیشہ کی طرح.. ان کی موجودگی میں کوئی بات کرنے کی جرات نہ کر سکتا تھا.. اس پرسکون ماحول میں ان کی آواز بجلی کی طرح کڑکی… خالد..!! میں نے سنا ہے کہ تم مولویوں سے میل جول رکھنے لگ گئے ہو..؟” انہوں نے مجھے گھورتے ہوئے پوچھا۔ مجھے تو جیسے قتل کر دیا گیا ہو… زبان کو تالے لگ گئے.. دل دھک دھک کرنے لگا.. صفائی پیش کرنے کے زبان کھولنے کی کوشش کی تو کلمات گڈ مڈ ہونے لگے.. لیکن … انہیں کون سا میرے جواب کا انتظار تھا… چائے کا تھرماس اٹھایا.. اور میرے منہ پر پھینک مارا.. میری آنکھوں کے سامنے تارے چمکنے لگے.. گھر کی چھت اور دیواروں میں فرق نہ کر سکا… زمین پر گر گیا.. میری امی جان نے مجھے اپنی گود میں اٹھا لیا۔ اپنی امی کے نرم و گرم ہاتھوں میں آکر تھوڑا سا بے ہوشی سے آفاقہ ہوا کہ ابو جان کی گونجتی ہوئی آواز آئی.. ” اسے چھوڑ دے… ورنہ تیرے ساتھ بھی یہی سلوک کرونگا..” میں جلدی سے اپنی امی سے دور ہو گیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ..لیکن کتنی ہی دیر تک ان کی گالیوں کی آوازیں میرے کمرے تک آتی رہیں۔ پھر تو کوئی ایسا دن نہ گزرتا کہ انہوںنے مجھے مارا نہ ہو، بلا ناغہ مارتے… گالیاں دیتے… ٹھڈے مار مار کر انہوں نے میرا جسم تختی کی طرح بنا دیا۔ رنگ برنگی تختی..ایسی تختی جو سب رنگوں سے مل کر بنی ہو.. میں سب کچھ خاموشی سے برداشت کرتا رہا… اور پھر… ایک دن جب ہم ٹیبل پر کھانے کے لیے بیٹھے تھے… والد نے گرجدار آواز میں مجھے حکم دیا کہ ”نکلو یہاں سے… اور ہمارے ساتھ کھانے کی کوئی ضرورت نہیں…” اور اس سے پہلے کہ میں اٹھتا… وہ خود ہی اٹھے اور میری کمر میں ٹھڈا مار کر …مجھے کھانے کی پلیٹ پر گرا دیا… اس دن… اس ٹائم… اس وقت… میں نے سوچا… کہ میں اس انسان سے بدلہ ضرور لوں گا… مجھے ان سے نفرت ہو گئی… میں تصور میں انہیں کہنے لگا… میں تم سے بدلہ ضرور لونگا… ایسے ہی مارونگا جیسے تم مارتے ہو…گالیاں دونگا… بالکل ایسا سلوک کرونگا جیسا تم کرتے ہو… دیکھنا… ایک دن .. جب میں بڑا ہو جائونگا… اور طاقت ور بن جائوں گا.. اور تم بوڑھے ہو کر .. کمزور ہو جائو گے.. اس دن میں تم سے سارے بدلے لونگا.. کبھی معاف نہیں کرونگا… پھر میں گھر سے بھاگ نکلا.. اور آپ کے ساتھ اس گہرے سمندر تک پہنچ گیا…” اپنی مختصر سی کہانی سناتے ہوئے پتا نہیں اس کی آنکھوں سے کتنے خاموش آنسو نکلے .. چاند کی روشنی میں سطع ہو گئے جیسے جواہر مشاعل کی روشنی میں سطع ہوتے ہیں…اور سمندر کی پانی میں مل گئے۔ میرے زبان سے کچھ نہیں نکل رہا تھا… سمجھ نہیں آ رہا تھا کن الفاظوں سے اسے حوصلہ دوں.. اتنی دکھی کہانی… اے اللہ!! اتنا دکھ اتنے چھوٹے سے لڑکے کے سینے میں… حیرانگی سے میری زبان کو تالے لگ گئے تھے… کیا میں اُ س ظالم باپ پر حیران ہوں…؟ جس کا دل رحمت کے معانی سے خالی تھا.. اور.. جسکے دل میں سختیوں کے علاوہ کچھ نہ تھا.. یا میں اِ س صابر بچے پر حیران ہوں.. جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے ہدایت چاہی.. اور اس کو ثابت قدم رکھا.. یا میں ان دونوں پر حیران ہوں..؟ کیسے باپ اور بیٹے کا رشتہ ‘ شیر اور چیتے.. یا .. بھیڑئے اور لومڑی .. کے رشتے جیسا بن گیا.. آخر میں نے حوصلہ کرتے ہوئے اس لڑکے کے کندھے پر ہاتھ رکھا..اسکے آنسوں کو صاف کیا… اسے دلاسہ دیا.. اس کے لیے دعا کی.. اسے اپنے والد سے نیکی کی نصیحت کی.. ان کے ظلم پر صبر کی نصیحت کی..اور اس سے وعدہ کیا کہ میں اسکے باپ کے پاس ضرور جائونگا.. محبت سے بات کرونگا… شائید کہ میری باتوں سے ان کا دل نرم ہو جائے۔ اور ہم واپسی کے لیے چل دیے.. دن گزرتے رہے.. او ر میں سوچتا رہا کہ کس طرح خالد کے والد سے بات کروں گا..؟ کیسے سمجھائوں گا اسے..؟ بلکہ اسے اپنے بارے میں کیا بتائوں گا..؟ اپنا تعارف کیسے کروائوں گا؟اوراس کا دروازہ ہی کیسے کھٹکائوں گا…؟ اور آخر کار… میں نے اپنی تمام قوت جمع کی.. اپنے افکار کو ترتیب دی… اور عزم کر لیا کہ آج..پانچ بجے میں ضرور اس کے گھر جائوں گا۔ پورے پانچ بجے.. مختلف قسم کے سوالات اور افکار کو سمیٹتے ہوئے میں خالد کے گھر کی طرف چل پڑا.. کانپتے ہوئے ہاتھوں سے بیل بجائی… ٹانگٰیںمیرا بوجھ اٹھانے سے انکار کر رہی تھیں.. پھر..!! دروازہ کھلا.. اور وہی سخت ترش رو چہرہ… میں ہلکا سا مسکرایا کہ شائید وہ اپنی غضب ناک آنکھیں مجھ پر سے ہٹا لے.. اور اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا..!! اس نے میرا گریبان پکڑا…اور اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہنے لگا…” تو ہی وہ مولوی ہے نا جو خالد کو پڑھاتا ہے؟” ”آ..آں…ہاں..ہاں جی” میں نے بامشکل جواب دیا۔ ” اللہ کی قسم اگر میں نے آج کے بعد اس کے ساتھ پھرتا ہوا دیکھ لیا تو ٹانگیں توڑ دونگا..اور.. سن !! خالد آج کے بعد کبھی نہیں آئے گا..”یہ کہتے ہی اس نے اپنے منہ سے سارا تھوک جمع کر کے.. اللہ کے اس فقیر بندے کے منہ پر پھینک کر دروازہ بند کر لیا… جس چیز سے اس نے میری مہمان نوازی کی تھی .. اسے میں نے اپنے منہ پر سے صاف کیا اور اپنے آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے واپسی کی راہ لی.. رسول اللہ ْۖ کے ساتھ تو اس بھی زیادہ ظلم کیے گئے تھے.. آپ کی قوم نے جھٹلایا تھا.. گالیاں دیں.. پتھر پھینکے.. پائوں تک خون بہا.. دانت شریف توڑے.. کوڑا پھینکا.. انکے وطن سے نکالا.. انکی زمین سے بے دخل کیا.. خیر..اسی طرح دن گزرتے گئے.. مہینے گزرتے گئے.. لیکن خالد کبھی نہ آیا۔اس کا باپ اسے نماز کے لیے بھی نکلنے سے منع کرتا تھا.. اور ہمیں بھی اس سے ملنے یا بات کرنے نہ دیتا تھا… ہم اس کے لیے دعا مانگتے رہے۔ اور پھر ہم اسے اس اندھیر دنیا میں بھول گئے… کتنے سال گزر گئے.. اور ایک رات.. عشا کے بعد… وہی سخت ہاتھ … میرے کندھے پکڑتا ہے.. آہ… یہ تو وہی ہاتھ ہے جس نے چند سال پہلے میرا گریبان کھینچا تھا… آہ.. یہ تو وہی چہرہ ہے جس نے چند سال پہلے میری مہمان نوازی… تھوک پھینک کر کی تھی… لیکن…!! یہ تو کافی تبدیل نظر آ رہا ہے… ترش رو اور سخت چہرہ. . . انکساری سے جھکا ہو تھا… غصہ والی زبان…..خاموش ہو چکی تھی… جسم کو غم و دکھوں نے بوڑھا کر دیا تھا… ”خوش آمدید.. چچا جان!!” میں نے انکے سر پر پیار کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ لیکن جواب میں… وہ پھٹ پڑا… بچوں کی طرح رونے لگا.. سبحان اللہ…! اللہ کی قدرت..!! میں نے کبھی نہ سوچا تھا کہ یہ پہاڑ کبھی اتنا نرم بھی بن جائے گا..نہ یہ سمندر اس طرح خشک ہو جائے گا.. ”بولیے چچا جان.. کہیے.. کیا ہوا..؟ خالد کیسا ہے؟” خالد..!! یہ سوال پوچھ کر میں نے تو جیسے ان کی یادوں میں خنجر مار دیا ہو.. ان کے کلیجے میں چھری اتار دی ہو.. گہری سانس لینے کے بعد وہ بولنے لگے.. ”بیٹے!! خالد اب وہ خالد نہیں رہا جسے تم جانتے تھے… وہ خالد نہیں جو محبت کرنا والا.. خاموش طبعیت .. اور دور اندیش ہوتا تھا… جب سے میں نے اُسے تمہارے پاس آنے سے منع کیا… اس نے ایک اور گروپ کو اپنا دوست بنا لیا.. اس نے برے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا… سگریٹ پینا شروع کر دی… اس دن میں نے اسے بہت مارا.. بہت گالیاں دیں.. لیکن ..اس کا جسم مار کھانے کا عادی ہو چکا تھا… گالیاں سننا اس کا معمول بن چکا تھا… وہ بہت جلدبڑا ہو گیا.. ساری رات اپنے دوستوں کے ساتھ جاگ کر گزارتا..فجر سے پہلے گھر نہ آتا.. اسے سکول سے نکال دیا گیا.. پھر تو اس نے گھر کا چکر بھی لگانا چھوڑ دیا.. اسکی باتیں پہلی جیسی نہ رہیں… اسکا چہری وہ چہرہ نہ رہا.. وہ خوبصورت بھرا ہوا جسم … کمزور لاغر اور بیمار جسم میں بدل گیا… وہ روشن سفید چہرہ… گناہوں سے کالا ہو گیا… وہ شرمسار صاف آنکھیں… آگ کی طرح سرخ رہنے لگیں.. ایسا لگتا کہ جو وہ برائیاں کرتا ہے .اللہ اس کا بدلہ آخرت میں دینے سے پہلے اُ س کی آنکھوں پر اتار دیتا ہے.. وہ شرم و حیا ختم ہو گئی… اس کی جگہ بدتمیری اور بے ادبی نے لے لی.. اس پاک نیک دل کی جگہ .. پہاڑ سے بھی سخت دل نے لے لی… کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ اس نے مجھے گالیاں نہ دی ہوں.. ٹھڈے نہ مارے ہوں… تصور کرو..!! سوچے بیٹے..!! میں اس کا باپ… اور وہ مجھے مارتا..” یہ کہہ کر وہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گئے.. پھر خود ہی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولے.. ”سلیمان..!! میرے عزیز بیٹے..!! میری ایک ہی گزارش ہے تم سے..اللہ کے لیے خالد کے پاس آئو.. اسے اپنے ساتھ لے جائو.. میری طرف سے اجازت ہے.. میرا گھر تمہارے لیے کھلا ہے.. اس کے پاس جائو.. وہ تو تم سے محبت کرتا تھا.. تمہارے ساتھ و سیر وسیاحت کے لیے جائے.. مجھے کوئی اعتراض نہیں..بلکہ مجھے تو خوشی ہو گی اگر وہ تمہارے گھر میں رہے.. تمہارے ساتھ اٹھے بیٹھے.. مجھے تو بس اپنا خالد چاہیے… پہلے والا خالد… سلیمان..!! میں تمہارا ہاتھ چومتا ہوں.. پائوں چاٹتا ہوں.. یہ کہہ کر وہ پھر رونے لگ گئے.. میں نے انہیں رونے دیا .. جب وہ چپ ہوئے تو میں نے عرض کیا.. اے چچا..! وہ آپکی کھیتی تھی… اور آج آپ اسے کاٹ رہے ہیں.. لیکن پھر بھی… میں کوشش کرونگا..

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on August 30, 2012, in اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: