Dam Parha Hua Pani: Ashfaq Ahmad


 

پرسوں جب میری پوتی کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو میں گھر سے کانچ کا ایک گلاس لے کر مسجد چلا گیا-

وضو کی ٹونٹی سے اس میں پانی بھرا اور نماز کے بعد ہر نمازی سے اس پر دم کروایا-

واپسی پر جب میں نے پڑھا ہوا پانی اپنی بہو کو دیا تو اس نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور بڑی محبت سے کہا

” ابو وائرس اور جراثیم پر یہ پانی کس طرح سے اثر انداز ہو سکتا ہے-
اس میں تو اپنے بہت سے جراثیم ہوں گے-

میں نینا کو ابلا ہوا پانی دیتی ہوں، وہ بھی نکال دیتی ہے- یہ پانی تو اس کے لئے بہت ہی خطرناک ہو گا-”

جب میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا تو وہ احتراماً بولی.

” میں اس پانی کو زمین پر نہیں گراؤں گی ،اپنے منی پلانٹ کے پودے میں ڈال دوں گی- مجھے پتہ ہے پڑھے ہوئے پانی کو زمین پر نہیں پھینکا کرتے-”

میں چپ چاپ اس کے گھر سے باہر نکل گیا –

از اشفاق احمد، صبحانے فسانے ، صفحہ نمبر 263

ا

 

 

 

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on August 30, 2012, in اقتباس کولیکشن, اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: