Ja Kisi Allah Walay Ki Sohbat Mein Beth: Molana Room


 

ایک چوہے نے اونٹ کی مھار لیکر بھاگنے کی کوشش کی اونٹ نے یہ حرکت دیکھ کر اس کی بیو قوفی کو اور ڈھیل دی اور اپنے کو اسکے تابع کر دیا وہ چو ہا جدھر جاتا اونٹ اسکے پیچھے چلتا رہا یہاں تک کہ آگے دریا آگیا اب چوہے کے اوسان خطا ھوے اور سو چنے لگا کہ اب تک اتنے بڑے جسم والے اونٹ کی رھبری کرتا رہا ہوں اب دریا کیسے پار کروں گا اونٹ نے کہا اے میرے رھبر مھار پکڑئے اور دریا پار کرنے کیلے رہبری کیجے چوھا…

کینے لگا میں ڈوب جاونگا اونٹ نے کیا میں دیکھتا ھوں کتنا پانی ھے آیا تم ڈوب سکتے ھو یا نیہں اونٹ نے ایک قدم رکھا اور کہنے لگا اے میرے رھبر جناب چوہا صاحب صرف گھٹنے گھٹنے پانی ھے چوہا کہنے لگا اے اونٹ جہاں پانی تمھارے گھٹنے تک ھے وھاں وہ میرے سر پر کئی گنا اونچا ھوگامیرے اور تیرے گھٹنے میں فرق ھے ا اونٹ نے کہا تمھیں رھبری کاشوق ھے اب پانی میں اترو
چوہا بولا
گفت توبہ کردم از بہر خدا
بگزراں زیں آب مھلک مرمرا
چوہے نے کہا میری توبہ میں اس پانی میں اترا تو ھلاک ھو جائوں گا
اونٹ نےاسے اپنے اوپر سوار کرکے کہا 100تیرے جیسے اور چوہےمیرے اوپر بیٹھ سکتے ھیں ،…،،.تو رعایا بن کے رہ اگر تجھے خدا نے سلطان نیھیں بنایا اور کشتی مت چلاجب تجھے چلانی نہ آتی ھو اور مثل تانبہ کے تو اھل کیمیا کی خدمت کر وہ اپنی صحبت سے تجھے سونا بنادینگے
گر تو سنگ خارہ ومرمر بوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چوبصاحبدل رسی گوھر شوی
اگر تو پتھر کی طرح بے حس ھے تو جاکسی اللہ والے کی صحبت میں بیٹھ تجھے موتی بنادینگے
تونے مجھکو کیا سے کیا شوق فرواں کردیا
پھلے جاں پھر جان جاں پھر جان جاناں کرد
از مولانا رومی مثنوی روم رحمۃ اللہ

 

 

 

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on August 30, 2012, in اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: