Novel Jannat Ke Pattay se Iqtibas: Nimra Ahmad


ناول جنت کے پتے

‘مگر میں اس غم کا کیا کروں جو میرے اندر سلگ رہا ہے؟’

‘تمہارے پرانے مسئلے حل ہو گئے مگر نئے مسئلوں نے تمہیں اتنا الجھا دیا کہ تمہارے پاس ان بھولے بسرے مسئلوں سے نکلنے پر اللہ کا شکر ادا کرنے کا وقت ہی نہیں رہا۔’

واقعی اس کے وہ سارے مسئلے حل ہو گئے تھے۔ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں۔

’ہر شخص کی زندگی میں ایسا لمحہ آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا اور اس کے راز کھلنے والے ہوتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور پر کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو اللہ اسے بچا لیتا ہے ۔ یہ اللہ کا احسان ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں وہ نہیں بھولتا۔ تم اپنے مسئلے کے حل کلئےا اس کا شکر ادا کیا کرو جو ساری زندگی تمہارے مسئلے حل کرتا آیا ہے وہ آگے بھی کر دے گا۔ تم وہی کرو جو وہ کہتا ہے پھر وہ وہی کرے گا جو تم کہتی ہو ۔ پھر جن کے لئے تم روتی ہو وہ تمیارے لئے روئیں گے مگر تب تمہیں فرق نہیں پڑے گا۔‘

’ میرا لائف سٹائل بہت مختلف ہے میں ان چیزوں سے خود کو ریلیٹ نہیں کر پاتی ۔ لمبی لمبی نمازیں،تسبیحات یہ سب کچھ نہیں ہوتا مجھ سے۔ میں عائشے گل نہیں بن سکتی۔ میں ان چیزوں سے بہت دور آ گئی ہوں ‘
’ دور ہمیشہ ھم آتے ہیں اللہ وہیں ہے جہاں پلے تھا ۔ فاصلہ پیدا ہم کرتے ہیں اور اس کو مٹانا بھی ہمیں ہوتا ہے ۔‘

حلیمہ آنٹی کیا کؤمیرے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے؟

’پہلے جس نے حل کئے تھے وہ اب بھی حل کرے گا۔ حیا ! لوگ کہتے ہیں زندگی میں یہ ضروری ہے وہ ضروری ہے میں تمہیں بتاؤں زندگی میں کچھ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ نہ لوگوں کی محبت ۔ بس آپ ہونے چاہئیں اور آپ کا اللہ سے ہر لمحہ بڑھتا ہوا تعلق ہونا چاہیئے ۔ باقی یہ مسئلے تو بادل کی طرح ہوتے ہیں ۔جہاز کی کھڑکی سے نیچے کوئی بادل تیرتا دیکھا ہے؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بے ضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا اس کا پورا آسمان بادل ڈھانُ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہو گئی اور دنیا تاریک ہو گئی۔ غم بھی ایسے ہوتے ہیں ۔ جب زندگی پہ چھاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے لیکن اگر تم زمین سے اٹھ کر دیکھو تو تم جانو گی کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا ۔ اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نا حیا تو ہماری زندگی میں رحمت کی کوئی بارش نہ ہو۔‘

نمرہ احمد

 

 

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on September 9, 2012, in اقتباس کولیکشن. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: