Dikh Dard Ko Bhoolna Kon C Bari Baat Hai?


 

♥ ♥ دُکھ درد کو بھولنا کونسی بڑی بات ہے ♥ ♥

آپ تو بڑے آدمی ہو صاحب، ایک مقصد ہے آپ کی زندگی کا، شہر سے دور اس گاؤں میں جہاں لوگوں نے کبھی کمپاؤنڈر کی شکل نہیں دیکھی تھی اتنا بڑا ہسپتال بنا کر لوگوں کا مفت علاج کر تے ہو، آپ تو گھنا درخت ہو صاحب، جو چھاؤں بھی دیتا ہے پھل بھی۔ ہم تو کیکر کانٹے ہیں، راستے میں پڑے رہتے ہیں، کوئی مقصد بھی تو ہو جینے کا۔”
اور اس آخری جملے پر سمیر کا میڈیسن نکالتا ہُوا ہ

اتھ وہیں رک گیا ( کتنی جانی پہچانی سی بات تھی) اس نے سر اُٹھا کر غور سے صابر کو دیکھا۔
ایسا مت کہو صابر، ہر شخص کی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اور تم جیسے لوگ تو بہت نایاب اور اہم ہوتے ہیں، تمہارے گلے میں جب سُر جاگتا ہے تو لگتا ہے، کائنات گردش کرنا بھول گئی ہے، ہر شے کی حقیقت ختم ہوگئی ہے، بس وہ ایک درد باقی ہے جو ہماری۔ ۔ ۔ ۔، ہماری روح کی بند کوٹھڑیوں میں، پنجرے میں قید پرندے کی مانند پھڑپھڑاتا رہتا ہے مگر رہائی نہیں پا سکتا۔ اور پھر تم تو اُستاد بھی ہو، بستی کے رُلتے ہُوئے بچوں کو پڑھاتے ہو، جانتے ہو! اُستاد کا رُتبہ کتنا بلند ہوتا ہے۔”
“آپ خود اچھے ہیں اسی لیئے آپ کو سب اچھے لگتے ہیں۔” وہ اپنے مخصوص سادہ انداز میں مُسکرا کر بولا۔ ” ورنہ ایک میٹرک پاس نے بھلا کیا کسی کو پڑھانا ہے۔”
” بات یہ ہے کہ صابر، آج تمہیں اپنی تعریف سننے کا شوق ہو رہا ہے۔” سمیر نے مُسکرا کر کرسی سے ٹیک لگالی۔ صابر بھی آہستہ سے ہنس دیا۔ ” مجھے لگتا ہے کہ باہر بارش ہو رہی ہے، تم اتنی رات گئے گھر کیسے جاؤ گے۔”
” صاحب ہم کونسے مٹّی کے بنے ہیں جو ڈھے جائیں گے، ہمیں تو مالک نے ریت کی ڈھیری بنایا ہے، بس اوپر سے ذرا گیلی، اندر وہی کرکری سوکھی ریت۔”
” ٹھہر جاؤ صابر۔ بارش رک جائے تو چلے جانا، تمہارے کونسے بیوی بچے انتظار کر رہے ہیں۔” سمیر نے کتاب بند کرتے ہوئے صابر سے کہا جو پینتیس برس کا ہو کر بھی چھڑاچھانٹ تھا۔ ” چلو آج تم کچھ سناؤ۔”
” نہیں ڈاکٹر صاحب۔” وہ زمین پر پڑے گدّے پر بیٹھ گیا۔
” سُر کے جاگنے کا بھی اپنا ایک وقت ہوتا ہے، جب اندر حبس بڑھ جاتا ہے، جب اندر کچھ ان کہی باتیں دل کی ویران گھاٹیوں پر راستہ بھول جانے والی کونجوں کی طرح چکرانےلگتی ہیں، جب روح کا پرندہ سر مار مار کر پنجرہ توڑ ڈآلتا ہے ، تب من میں ایک بگولہ سا اُٹھتا ہے اور انسان کے تمام دُکھ درد ایک سُر میں ڈھل جاتے ہیں۔ انسان کہیں کا بھی رہنے والا ہو، اندر کے درد کا رنگ ایک سا ہوتا ہے، جسے ہم پہچانیں نہ پہچانیں ہماری روحیں ضرور پہچانتی ہیں، تبھی تو جب میں ہیر پڑھتا ہوں تو اُن لوگوں کی آنکھیں بھی رو پڑتی ہیں جنہیں اس کا ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آتا۔” اس نے اپنی خالی خالی نظریں سمیر کی جانب اُٹھائیں، ” دل سے اگر آواز نہ نکلے تو سُر خالی ڈھول کی مانند ہوتا ہے، جھوٹا اور بے تان اور میں جھوٹے سُر کی تان نہیں لگا سکتا۔”
” صابر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” سمیر کچھ سوچتے ہوئے اُسے پکار بیٹھا۔ صابر نے بے حد عزّت سے اس کی جانب دیکھا،
” فرماؤ ڈاکٹر صاحب ۔”
” وہ کون تھی صابر ، جس کی یاد کا دُکھ آج تک تمہارے گلے میں بولتا ہے۔”
” پتا نہیں صاحب جی، اب تو اتنا عرصہ گزر گیا ہے کہ لگتا ہے کوئی بھی نہیں تھا، کچھ بھی نہیں تھا۔ دُکھ کی بھی اپنی مدّت ہوتی ہے، جس طرح بہت رونے کے بعد آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں، اسی طرح ایک عرصے تک دُکھ کی ہمراہی میں سفر کرتے کرتے وہ اپنا دوست بن جاتا ہے، زندگی کا ساتھی، اور ڈاکٹر صاحب! ہم کیا ہمارے دُکھ درد کیا۔ باہر نکل کر دیکھیں تو ہر انسان قسمت کا مارا نظر آئے گا، اس کا ہاتھ تھام لیں تو انسان اپنی ہستی تک بھول جاتا ہے، دُکھ درد کو بھولنا کونسی بڑی بات ہے، یسے بھی اب تو زمانہ گُزر گیا دل کے دروازے کی کُنڈی ہلائے ہؤے۔” اور وہ خاموشی سے کھڑکی کے کواڑوں پر پڑنے والی بوندوں کو تکتا رہ گیا

 

 

 

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on September 19, 2012, in اقتباس کولیکشن, اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: