ماں کیوں ہوتی ہے ؟ ♥ ♥ ♥


 

ماں کیوں ہوتی ہے ؟ ♥ ♥ ♥

اللہ تعالٰی قدرت رکھتا ہے کہ جوان بچے کسی درخت میں سے نکال دے کسی پتھر میں سے نکال دے ، جس طرح پتھر میں سے حضرت صالح علیہ السلام کی دعا سے گابھن اونٹنی نکلی تھی یا جیسے موسم برسات میں کئی کیڑے مکوڑے پیدا ہوجاتے ہیں یا حیوانوں اور انسانوں کے فضلہ میں کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں یہی سوال حضرت موسٰی علیہ السلام نے کیا کہ ماں کیوں ہوتی ہے ؟ اللہ تو بچے کسی درخت سے بھی تو پیدا کرسکتا ہے اللہ نے فرمایا تیری بات ٹھیک ہے مگر آ تجھے حکمت بتلاتے ہیں بلکہ دکھاتے ہیں ، حکم ہوا چھپ کر سامنے والے درخت کی طرف دیکھو آپ علیہ السلام نے تعمیل کی تھوڑی دیر کے بعد درخت شق ہوا چار جوان نکلے کسی نے ایک دوسرے سے کلام کرنا تو کجاہ دیکھا تک نہیں اور اپنی اپنی سمت چل پڑے ، اللہ تعالٰی نے موسٰی علیہ السلام سے فرمایا دیکھا ؟ ایک درخت سے پیدا ہوئے آپس میں ملے تک نہیں میں ماں اس لئے بناتا ہوں اس ایک ماں کی وجہ سے باپ کے رشتہ داروں سے تعلق جڑجاتا ہے کوئی چچا ہے ، کوئی دادا ہے ، کوئی چچی ہے کوئی دادی ہے کوئی پھوپھی ہے اور ماں کے رشتہ داروں سے بھی تعلق جڑ جاتا ہے کوئی خالہ ہے کوئی نانی ہے کوئی خالو ہے کوئی نانا ہے کوئی ماموں ہے کوئی ممانی ہے ایک ماں کی وجہ سے ایک کنبہ تیار ہوجاتا ہے ۔

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on October 6, 2012, in اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: