Azaab e Deed: Mohsin Naqva


 

مجھے معلوم ہے کہ 🙂

میں اِسبے چہرہ عہد کی ریزہ ریزہ خواہشوں میں اور کٹی پھٹی خراشوں میں
بکھرا ہوا ایک ایسا فنکار ہوں جس کے ہونٹوں پر حرف حرف پیاس جم گئی
ہے۔ میرے خدوخال آئینے سے شرمندہ ہیں کہ دھندلے پڑ چکے ہیں

مجھے احساس ہے کہ
میں گزشتہ زمانوں کی راکھ سے آئیندہ محبتوں کا سراغ لگا رہا ہوں،
حلانکہ راکھ کے ڈھیر تلے دبی چنگاریاں اپنے آپ کو بے اماں سمجھ کر دم
توڑنے میں ہمیشہ جلد کرتی ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ
میں جسے متاعِ حیات سمجھ کر پرستش کے قرینے سوچتا رہا وہ محبت نہیں
کچھ اور تھی، مگر یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ سب کچھ سرابِ نظر ہے مَیں
نے ہمیشہ آنکھیں بند کر کے احساسِ خود فریبی کی پرورش کی ہے۔۔۔۔۔کہ
خواب کو خواب سمجھ کر دیکھنا بھی اضطرابِ نارسائی کی تسکین کا باعث
ہوتا ہے

کتنی عجیب بات ہے کہ
میں نے دوسروں کو سمجھنے کی کوشش میں اپنا آپ گنوا الا۔ اور اب
رائیگاں چاندنی یا اپنی طرح شہر بدر ہوا کے خاک بسر جھونکے کبھی کبھی
میرے حواس کو میری خبر دیتے ہیں

میرا کوئی شہر نہیں کہ
سارے شہر میرے اپنے شہر ہیں۔۔۔۔ہر دل کی دُکھن میری شہ رگ کا
اثاثہ اور ہر سینے کا زخم میرے وجود کا سرمایہ ہے۔ مقتل کو سجانے والا ہر
سر کشیدہ میرے قبیلے کا فرد اور ہر سر بُریدہ مظلوم میرے لشکر کے سردار کی
حیثیت رکھتا ہے، میری سوچ میرے جیسے ہر انسان کی وراثت
ہے۔۔۔۔میری شاعری کسی ایک خطے کی آب و ہوا کے حصار میں اسیر
نہیں، نہ ہی کسی ایک فرد کے فکر و عمل کی عکاس ہے بلکہ جہاں جہاں
امن کی خوشبو، فاختاﺅں سے اٹی فضا، انمول محبت کے سائے اور
چاہتو ں کے آبشارنغمے برسا رہے ہیں وہاں وہاں میری غزلوں کی
دھنک، میری نظموں کی رعنائیاں اور میرے مرثیوں کی کسک اپنی
باز گشت سمیت پھیلنے اور بکھرنے میں مصروف ہے

اور شاید اسی لئے
کبھی کبھی تو نا شنا سائی کے گھنے جنگلوں میں ضدی بارشیں تک میری
سوچوں کو نہلا دیتی ہیں۔ اس کی ایک نفسیاتی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ

وہ سَر سے پاﺅں تلک
!دھنک ، دھنک چاندنی ہے
دُھلے دُھلے موسموں کی بے ساختہ
!!غزل بخت شاعری ہے
(مرے ہنر کے سبھی اثاثوں سے قیمتی ہے)

،وہ مجھ میں گھل مل گئی ہے لیکن
ابھی تلک مجھ سے اجنبی ہے

کسی ادھوری گھڑی میں
جب وہ بے ارادہ محبتوں کے
!چُھپے چُھپے بھید کھولتی ہے
تو دل یہ کہتا ہے
“جس کی خاطر وہ اپنی ”سانسیں
وفا کی سُولی پہ تولتی ہے
(!وہ آسماں زاد، کہکشاں بخت۔۔۔(کچھ بھی کہہ لو۔۔
جو اُس کی چاہت کا ”آسرا“ ہے
وہ ”میں“ نہیں ہوں
!کوئی تو ہے جو مِرے سوا ہے
وہ شہر بھر کے تمام ”چہروں“ سے ہٹ کے
اِک”اور مہرباں“ہے
جو اُ س خواہش کا ”آسماں“ ہے
(کسے خبر کون ہے، کہاں ہے؟)
مگر مجھے کیا؟
!کہ میں زمیں ہوں
وہ جس کی چاہت میں اپنی سانسیں لُٹا رہی ہے
!وہ ”میں“ نہیں ہوں
!!وہ آنکھوں آنکھوں میں بولتی ہے

(محسن نقوی)
(عذابِ دید)

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on October 6, 2012, in اردو شاعری. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: