Khuda Kya Hai? Baba Sahiba: Ashfaq Ahmad


 

بابا جی خدا کیا ہے ؟

خدا نہ جانا جاتا ہے نہ جانا جا سکتا ہے – اس کے بارے میں تمہارا ہر خیال حقیقت کے خلاف ہے –

تو پھر آپ ہر وقت خدا کی باتیں کیوں کرتے رہتے ہیں ؟

پرندہ ہر وقت گاتا کیوں رہتا ہے ؟ پرندہ اس لیے نہیں گاتا کہ اس کے پاس کوئی اعلان ہوتا ہے – کوئی خبر ہوتی ہے ، کوئی دو پہر کا ضمیمہ ہوتا ہے – وہ اس لیے گاتا ہے کہ اس کے پاس ایک گیت ہوتا ہے –

کوئی ایسا فارمولا بتائیے جس سے خدا کی محبت پیدا ہو ؟

اپنے ہاتھ آپس میں رگڑو شاباش ، دونوں ہتھیلیاں ………………. کیا کوئی گرمی پیدا ہوئی –
جی بہت –

بس اسی طرح رگڑتے رگڑتے گرمی محبت بھی پیدا ہوجاتی ہے کام میں لگنا ضروری ہے پوچھتے رہنا نہیں –

جو نہ دیکھا جا سکے نہ سمجھا جا سکے نہ تصور میں لایا جا سکے اس کو ماننے والے صاحب ایمان لوگ سمجھے جاتے ہیں – تصور میں بھی لے آتے ہیں اور دیکھ بھی لیتے ہیں صحیح اور سچی زندگی خدا پر ایمان رکھنے سے حاصل ہوتی ہے – اور خدا پر ایمان رکھنا اسی کو جاننا اور اسی کی جے جے کار کرنا ہے –

روح تو ایک سوکھی پیاسی اسفنج کا ایک ٹکڑا ہوتی ہے – خدا کا تعلق ہی اس کو سرشار اور شرابور کرتی ہے ورنہ یہ سوکھی پیاسی ہی ختم ہو جاتی ہے –

از اشفاق احمد بابا صاحبا

 

 

 

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on October 6, 2012, in اقتباس کولیکشن. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: