Mein Jese Jese Maut k Qareeb Ja Raha Hoon


! میں جیسے جیسے موت کے قریب جا رہا ہوں ♥ ♥

مجھے ڈاکٹروں نے کینسر بتایا ہے…شاید کچھ دن نکل جائیں… شاید نہیں…” وہ بہت حوصلے سے مگر آہستہ آہستہ بولا. “نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ” وہ بہت بے بسی سے بولی. ” کیوں نہیں ہو سکتا ،میں انسان ہوں اور انسانوں کے ساتھ کیا نہیں ہوتا. اور اس دنی…ا میں جتنی uncertain life انسان گزار رہا ہے ،کوئی اور نہیں. اور آج کل کے دور میں survive کرنا کتنا مشکل ہو گیا ہے.یہاں تو کسی چیز کی گارنٹی ہی نہیں ہے.” وہ اپ…نا حوصلہ یکجا کرتا ہوا بولا. “لیکن اتنی جلدی یہ سب ….یہ نہیں ہو سکتا. ” اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے. “جلدی کیا یا دیر کیا.. جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے. اور جو نہیں ہونا ہوتا چاہے لاکھ کوشش کرو نہیں ہوتا…. جتنا انسان نے سمیٹنا ہوتا ہے اتنا ہی سمیٹتا ہےاور چلتا بنتا ہے اور جو نہیں سمیٹ سکتا چاہے اس کے لئے لاکھ سر پٹخے کتنی بھی کوشش کرے کچھ نہیں ملتا. زوحا ! میں جیسے جیسے موت کے قریب جا رہا ہوں مجھ پر ایسی ایسی حقیقتیں کھل رہی ہیں کہ میں خود ہی حیران ہو رہا ہوں.. ایسی سچی اور تلخ کہ میں سوچتا ہوں کہ میں نے پہلے کبھ

ی کیوں ان کے بارے میں نہ سوچا تھا.” وہ ایک دم موڈ بدلتے ہوے بولا. ” کیسی حقیقتیں….؟ اس نے حیرت سے پوچھا. “یہی کہ انسان اس دنیا میں کس قدر بے بس ہے … قدرت نے اس کو وسیع دائرے کے اندر کھڑا کر دیا ہے اور وہ دیوانہ وار دائرے کے اندر بھاگتا رہتا ہے اور دائرے کے اندر دوڑ کو کبھی اپنی محنت کا نام دیتا ہے کبھی اپنی کوشش کا اور جب کبھی دائرے کے اندر اوپر ٹیلوں پر چڑھتا ہے تو اسے اپنی خوش قسمتی کا نام دیتا ہے اور اس خوش بختی کے نشے میں وہ بار بار اس دائرے کو پھلانگنے کی کوشش کرتا ہے مگر منہ کے بل گرایا جاتا ہے اور اس کو بتایا جاتا ہے کہ یہ تمہاری قسمت کی باؤ نڈری لائن ہے جس کو تم کبھی بھی پار نہیں کر سکو گے….بس یہی ہے انسان… یہی ہیں اس کے اختیارات .. اور جب وہ قسمت کے ہاتھوں بار بار گرایا جاتا ہے تو اس کی وقعت اس کی حقیقت خود اس پر عیاں ہوتی ہے کہ وہ کیا ہے…محض ایک زرہ…. ایک بے حقیقت وجود جس کو چاہے تو قدرت اس طرف لے جائے چاہے تو اس طرف…چاہے اس پر باد نسیم چھوڑ دے چاہے آگ کے بگولے… چاہے اس پر موسلا دھار مینہ برسایے چاہے پھوہار یا پھر بجلی کی کڑک… وہ کچھ بھی نہیں …..محض پانی کا بلبلا….” وہ افسردگی سے بولا.
از قیصرہ حیات، ذات کا سفر

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on October 29, 2012, in اقتباس کولیکشن. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: