Yeh Kesi Muhabbat Hai?: Naseema


  • یہ کیسی محبت ہے؟ ♥ ♥

    وہ کب سے ایک ہی جگہ کسی لُٹے ہوئے کی مسافر کی طرح بیٹھی تھی
    “ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا ،نہیں یہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔”اس نے اپنی ہی بات کو جھٹلایا
    یہ سب جھوٹ ہے اس کے پاپا بھلا کیسے ۔۔۔۔۔وہ ابھی تک بے یقین تھی اور مسلسل خود کو جھٹلا رہی تھی
    لیکن سچ کی یہی تو خامی ہے اسے جتنا بھی جھٹلاؤ وہ سچ ہی رہتا ہے
    شدت غم سے اسکا دل پھٹا جا رہا تھا پر اس کی آنکھیں ابھی بھی خشک تھیں۔
    وہ کسی طرح بھی یہ سب ماننے کو تیار نہ تھی کہ اس کے پاپا اسے ہمیشہ۔ ۔ ۔ اس سے آگے وہ سوچ ہی نہ پائی اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔

    ********

    میں سارہ احمد جو اپنے پاپا سے بے حد محبت کرتی تھی جو کہتی تھی وہ ماما کی نہیں پاپا کی بیٹی ہے اسے اپنے پاپا کو کبھی کچھ بتانا نہیں پڑا جو اس کے چہرے کے مدہم پڑتے رنگوں کو دیکھ کے ہی جان جاتے کہ وہ پریشان ہے۔

    وہ کتنے دن اللہ سے اس بات پہ خفا رہی کہ اس پہ پاپا سے زیادہ ماما کا حق ہے۔ وہ سمجھ ہی نہ پا رہی تھی کہ ماما کا حق کیوں زیادہ ہے جب کہ پیار تو پاپا زیادہ کرتے ہیں۔ وہ ہر کام اپنے پاپا کی پسند کا کرتی۔ جو انہیں ناپسند ہو سارہ احمد نے کبھی اسکی خواہش ہی نہ کی۔

    میں کتنا ہی بڑا نقصان کر دیتی پاپا کے چہرے پہ کبھی شکن تک نہ آتی۔ ماما بہت ڈانٹتیں ان کے لیے گھر کی بے جان چیزیں زیادہ اہم تھیں جبکہ پاپا کہتے “چھوڑو جو ہونا تھا ہوگیا کوئی بھی چیز میری بیٹی سے زیادہ تو قیمتی نہیں نا۔”

    ماما کبھی میرا خیال نہ کرتیں، انھیں کبھی اس بات کی فکر نہ ہوئی کہ میں کیا سوچتی ہوں کیا چاہتی ہوں وہ تو بس زبردستی مجھ سے ہر بات منوانے کی کوشش کرتیں، جبکہ پاپا میرے دل کی بات جان جاتے۔ وہ میری ہر خواہش پوری کرتے میں جس چیز پہ ہاتھ رکھ دیتی وہ مجھے ضرور دلاتے چاہے کتنی بھی مہنگی ہو جس پہ مجھے اکثر ماما سے ڈانٹ پڑ جاتی وہ پاپا کو بھی منع کرتیں۔ مجھے ماما پہ بہت غصہ آتا۔ پاپا ہمیشہ کہتے جس چیز کو لینے سے میری بیٹی کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آتی ہو میں وہ کیسے نہ لے کے دوں میری بیٹی تو میری جان ہے میں اسے اداس دیکھ ہی نہیں سکتا پر ماما کو تو مجھ سے کوئی دشمنی تھی ان سے میری کوئی خوشی برداشت ہی نہ ہوتی تھی۔

    مجھے یاد ہے ایک دفعہ مجھے ’میرے دوست‘ پہ مضمون لکھنے کو کہا گیا تو میں نے پاپا کے بارے میں لکھا ٹیچر نے کہا ’پاپا‘ پہ نہیں ’دوست‘ پہ لکھنا ہے تو میں نے کہا “پاپا ہی میرے دوست ہیں۔”
    “ہاں لیکن یہ آپ کسی دوست کے بارے میں لکھیے،” ٹیچر کو شاید میری بات سمجھ ہی نہ آئی تھی تو میں نے بتایا “میرے دوست صرف میرے پاپا ہیں۔”

    میں جب بیمار پڑ جاتی تو دوا نہ لیتی کہ مجھے کڑوی لگتی ہے تو ماما بہت غصہ ہوتیں۔ کبھی کبھی ایک ہاتھ بھی جڑ دیتیں۔ “میری بیٹی کو دوا ہم خود پلائیں گے۔” پاپا یہ کہتے ہوئے مجھے گود میں بٹھا لیتے، میرے آنسو صاف کرتے، میرے ماتھے پہ بوسہ دیتے اور دوا پلاتے۔ پاپا کے ہاتھوں سے مجھے کبھی دوا کڑوی لگی ہی نہیں تھی۔

    ماما جو میرے دل کی بات کبھی جان ہی نہ سکیں جانے انھیں کیسے میرے دل میں چھپے راز کی خبر ہوگئی جبکہ یہ بات تو میں اپنے آپ سے بھی چھپائے پھرتی تھی۔ انہی دنوں گھر میں میری شادی کا ذکر چلنے لگا پر مجھے پتہ تھا فیصلہ میرے ہی حق میں ہو گا۔ ماما جو میری خواہش کبھی جان ہی نہیں پائیں جب وہ جان گئی ہیں تو میرے پیارے پاپا تو پھر میرے ہر ہر انداز کو جانتے ہیں۔ انھیں تو بس میری خوشی عزیز ہے۔ میں بہت خوش اور مطمئن تھی۔

    “میں نے سارہ کا رشتہ نفیس سے طے کر دیا ہے، ایک ہفتے میں مگنی اور پڑھائی کے بعد شادی۔” پاپا ماما کو بتا رہے تھے۔ میں روز کی طرح سونے سے پہلے پاپا کے کمرے میں آئی تھی لیکن ابھی دروازے میں ہی کھڑی تھی کہ مجھے لگا کسی نے میرے پیروں تلے زمین کھینچ لی ہے۔

    “لیکن کیا آپ نے سارہ سے اس کی مرضی پوچھ لی ہے؟” میں نے اپنے گم ہوتے حواسوں سے ماما کو کہتے سنا۔
    “سارہ کی مرضی سے کیا مراد ہے تمہاری؟ میں سارہ کا باپ ہوں اس کے بارے میں سارے فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا ہوں، اب کیا میں اس سے پوچھ کر فیصلے کروں گا؟” پاپا ایک دم غصے میں آگئے۔
    “لیکن سارہ کو تو وہ۔ ۔ ۔” ماما ابھی بات مکمل بھی نہ کر پائیں کہ پاپا غضب ناک ہو گئے اور ماما پہ گرجنے لگے۔
    “یہ تربیت کی ہے تم نے بیٹی کی کہ وہ اپنے فیصلے خود کرتی پھرے، کتنی دفعہ کہا ہے تمہیں جوان لڑکی ہے اس پہ نظر رکھو لیکن تمہیں اپنے رشتے داروں سے فرصت ملے تو پھر نا۔ ۔ ۔ یہ سب تمہاری ہی شہہ ہوگی۔”

    “اسی دن کے لیے لوگ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالتے تھے کہ بیٹیاں تو ہوتی ہی عزت کی دشمن ہیں اور تمہاری بیٹی تو۔ ۔ ۔”
    پاپا نے ایک لمحے میں مجھے ماما کی بیٹی بنا ڈالا اور میں تو سمجھتی تھی کہ میں پاپا کی۔ ۔ ۔
    “تم جاہل کی جاہل ہی رہنا۔ ۔ ۔ اور وہ میری عزت کو مٹی میں رول دے گی۔”

    “پر یاد رکھنا اگر تمہاری بیٹی نے میری عزت کو داغ دار کرنے کی کوشش کی تو میں تم دونوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔” پاپا کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کر ڈالیں

    “نہیں ایسا نہیں وہ تو بس۔ ۔ ۔” ماما وضاحتیں دینے لگیں۔
    “بس ایک لفظ اور نہیں۔ ۔ ۔” پاپا ماما کی بات کاٹتے ہوئے بولے۔
    “پہلے تو مجھے اس کی منگنی کرنا تھی، اب نکاح کر رہا ہوں، کیونکہ مجھے اس پہ بالکل یقین نہیں۔”
    مجھے لگا کسی نے میرے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا ہے۔ کوئی مجھے جان سے مار دیتا تو بھی اتنی تکلیف نہ ہوتی۔
    کاش میں یہ سب سن ہی نہ پاتی۔ ساری زندگی ایک بھرم میں گزار دیتی کہ میں پاپا کی۔ ۔ ۔
    “ارے تم یہاں کیا کررہی ہو۔ ۔ ۔؟” ماما کی آواز پہ میں نے ماما کو خالی نظروں سے دیکھا۔ “اچھا پاپا کے پاس آئی ہو لیکن وہ تو آج جلدی سو گئے ہیں تھک گئے تھے تو تم صبح مل لینا۔” ماما نظریں چراتے ہوئے بولیں۔

    “ایسا کچھ نہیں ہے، وہ تمہارے پاپا غصے میں تھے تو اس لیے۔ ۔ ۔ ورنہ تم تو جانتی ہو کہ وہ تم سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ تم فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائے گا۔” وہ مجھے دلاسہ دیتے ہوئے بولیں۔

    اور میرا دل چاہا کہ میں ماما سے لپٹ کر چیخ چیخ کر روؤں۔ ۔ ۔کہ پاپا کیسے میرے بارے میں یہ سب کہہ سکتے ہیں۔
    میری ماما جنہیں میں اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتی تھی میری وجہ سے اتنا کچھ سننے کے بعد بھی میرے لیے ہی پریشان ہو رہی تھیں۔
    یہ مائیں بھی کیسی محبت کرتیں ہیں اولاد سے کہ اس کی وجہ سے اتنا کچھ برداشت کرتی ہیں پھر بھی اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتیں۔

    اس لمحے میں نے جانا کہ اللہ نے اپنی محبت کو ماں کی محبت سے ہی کیوں تشبیہ دی ہے۔ ۔ ۔

    یہ کیسی محبت ہے؟
    از نیسمہ (القصیم، سعودی عرب)
    Countesy Urdu Public Library

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on October 29, 2012, in اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: