Zindagi Bhar Itni Khushi Nahin Hui


♥ عمر بھر ایسی خوشی نہیں ہوئی، جیسی کہ اس دن تھی۔ ♥

ایک مرتبہ عید کو ایک بڑی بھاری ٹوپی مجھ کو اماں جان نے بنا دی تھی۔ وہی ٹوپی اوڑھے ہوئے میں خالہ جان کے یہاں جاتا تھا۔ میاں مسکین کے کوچے میں پہنچا تو بہت سے چپڑاسی پیادے ایک گھر کو گھیرے ہوئے تھے اور بہت سے تماشائی بھی وہاں جمع تھے۔ یہ دیکھ کر میں بھی لوگوں میں جا گھسا تو معلوم ہوا کہ ایک نہایت غریب بوڑھی سی عورت ہے اور چھوٹے چھوٹے کئی بچے ہیں۔ سرکاری پیادے اس کے میاں کو پکڑے لیے جاتے تھے۔ اس واسطے کہ اس نے کسی بنیے کے یہاں سے ادھار کھایا تھا اور بنیے نے اس پر ڈگری جاری کرائی تھی۔ وہ مرد مانتا تھا کہ قرضہ واجب ہے، مگر کہتا تھا کہ میں کیا کروں، اس وقت بالکل تہی دست ہوں۔ ہر چند اس بے چارے نے بنیئے کی اور سرکاری پیادوں کی بہتری ہی خوشامد کی، مگر نہ بنیا مانتا تھا، نہ پیادے باز آتے تھے اور پکڑے لیے جاتے تھے۔ لوگ جو وہاں کھڑے تھے، انہوں نے بھی کہا : ” لالہ، جہاں تم نے اتنے دنوں صبر کیا، دس پانچ روز اور صبر جاؤ۔” تو بنیا بولا : ” اچھی کہی میاں جی، اچھی کہی! برسوں کا نانواں اور درج کی ٹال مٹول۔ بھگوان جانے ابھی تو کھان صاحب کی اجت اتروائے لیتا ہوں۔

وہ شخص جس پر ڈگری جاری تھی، غریب تو تھا، لیکن غیرت مند بھی تھا۔ بنئے نےجو عزت اتروانے کا نام لیا، سرخ ہو گیا اور گھر میں گھس، تلوار میان سے نکال چاہتا تھا کہ بنئے کا سر الگ کر دے کہ اس کی بیوی اس کے پیروں میں لپٹ گئی اور رو کر کہنے لگی : ” خدا کے لیے کیا غضب کرتے ہو۔ یہی تمہارا غصہ ہے تو پہلے مجھ پر اور بچوں پر ہاتھ صاف کرو۔ کیوں کہ تمہارے بعد ہمارا تو کہیں بھی ٹھکانا نہیں۔” ماں کو روتا دیکھ بچے اس طرح دھاڑیں مار کر روئے کہ میرا دل ہل گیا اور دوڑ کر سب کے سب باپ کو لپٹ گئے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر خان صاحب بھی ٹھنڈے ہوئے اور تلوار کو میان کر کھونٹی سے لٹکا دیا اور بی بی سے کہا : “اچھا تو نیک بخت، پھر مجھ کو اس بے عزتی سے بچنے کی کوئی تدبیر بتا۔” بی بی نے کہا : ” بلا سے جو چیز گھر میں ہے، اس کو دے کر کسی طرح اپنا پنڈ چھڑاؤ۔ تم کسی طرح رہ جاؤ تو پھر جیسی ہو گی دیکھی جائے گی۔

توا، چکی، پانی پینے کا کٹورا، نہیں معلوم کن کن وقتوں کی ہلکی ہلکی بے قلعی دو پتیلیاں، بس یہی اس گھر کی کل کائنات تھی۔ چاندی کی دو چوڑیاں، لیکن ایسی جیسے تار، اس نیک بخت کے ہاتھوں میں تھیں۔ یہ سب سامان خان صاحب نے باہر لا کر اس بنئے کے رو بہ رو رکھ دیا۔ اول تو بنیا ان چیزوں کو ہاتھ ہی نہیں لگاتا تھا۔ لوگوں نے بہت کچھ کہا سنا۔ یہاں تک کہ ان سرکاری پیادوں کو بھی رحم آیا، انہوں نے بھی بنئے کو سمجھایا۔ بارے خدا خدا کر کے وہ اس بات پر رضا مند ہوا کہ پانچ روپے اصل، دو روپے سود، ساتوں کے ساتوں دے دیں تو فارغ خطی لکھ دے۔ لیکن خان صاحب کا کل اثاثہ چار ساڑھے چار سے زیادہ کا نہ تھا۔ تب پھر گھر میں گئے اور بی بی سے کہا ڈھائی روپے کی کسر رہ گئی ہے۔ تو بی بی نے کہا : اب تو کوئی چیز بھی میرے پاس نہیں، ہاں لڑکی کے کانوں میں چاندی کی بالیاں ہیں۔ دیکھو جو ان کو ملا کر پوری پڑے۔

وہ لڑکی کوئی چھ برس کی تھی۔ بس بعینہ جتنی ہماری حمیدہ۔ماں جو لگی اس کی بالیاں اتارنے تو وہ لڑکی اس حسرت کے ساتھ روئی کہ مجھ سے ضبط نہ ہو سکا اور میں نے دل میں کہا کہ الہٰی اس وقت مجھ سے کچھ بھی اس کی مدد نہیں ہو سکتی۔ فوراً خیال آیا کہ ایک روپیہ اور کوئی دو آنے کے پیسے تو نقد میرے پاس ہیں۔ دیکھوں ٹوپی بک جائے تو شاید خاں صاحب کا سارا قرضہ چک جائے۔ بازار تو قریب تھا ہی، فوراً گلی کے باہر نکل آیا۔ رومال تو سر سے لپیٹ لیا اور ٹوپی ہاتھ میں لے کر ایک گوٹے والے کو دکھائی۔ اس نے چھ کی آنکی۔ میں نے بھی چھوٹتے ہی کہا : لا بلا سے چھ ہی دے۔” غرض چھ وہ، ایک میرے پاس نقد تھا، ساتوں روپے لے کر میں نے چپکے سے اس عورت کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ تب تک پیادے خاں صاحب کو گرفتار کر کے لے جا چکے تھے اور گھر میں رونا پیٹنا مچ رہا تھا۔ دفعتہً پورے سات روپے ہاتھ میں دیکھ کر اس عورت پر شادی مرگ کی سی کیفیات طاری ہو گئی۔ اور اس خوشی میں اس نے کچھ نہیں سوچا کہ یہ روپیہ کیسا ہے اور کس نے دیا۔ فوراً اپنے ہمسائے کو روپیہ دے کر دوڑایا اور خود بچوں سمیت دروازے میں آ کھڑی ہوئی۔ بات کی بات میں خاں صاحب چھوٹ آئے تو بچوں کو کیسی خوشی کہ کودیں اور اُچھلیں، کبھی باپ کے کندھے پر، کبھی ماں کی گود میں اور کبھی ایک پر ایک۔

اب اس عورت کو میرا خیال آیا اور بچوں سے بولی : کم بختو، کیا اودھم مچائی ہے۔ (اور میری طرف اشارہ کر کے کہا) دعا دو اس اللہ کے بندے کی جان و مال کو جس نے آج باپ کی اور تم سب کی جانیں رکھ لیں، نہیں تو ٹکڑا بھی مانگا نہ ملتا۔ کوئی چچا یا ماموں بیٹھا تھا کہ اس کو تمہارا درد ہوتا اور اس مصیبت کے وقت تمہاری دست گیری کرتا۔ صرف ایک باپ کے دم کا سہارا کہ اللہ رکھے، اس کے ہاتھ پاؤں چلتے ہیں تو محنت سے مزدوری سے، خدا کی شکر ہے، روکھی سوکھی روز کے روز، دو وقت نہیں تو ایک ہی وقت ملے تو جاتی ہے۔ ہمارے حق میں تو یہ لڑکا کیا ہے رحمت کا فرشتہ ہے۔ نہ جان نہ پہچان، نہ رشتہ نہ ناتا اور اس اللہ کے بندے نے مٹھی بھر روپے دے کر آج ہم سب کو نئے سرے سے زندہ کیا۔

وہ بچے جس شکر گزاری کی نظر سے مجھ کو دیکھتے تھے، اس کی مسرت اب تک میں اپنے دل میں پاتا ہوں۔ روپیہ خرچ کرنے کے بعد مجھ کو عمر بھر ایسی خوشی نہیں ہوئی، جیسی کہ اس دن تھی۔

توبۃ النصوح از ڈپٹی نذیر احمد

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on November 24, 2012, in اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: