Maan ki Naseehat


ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ سفر کرنا تھا اور ان کو ماں نے نصیحت کی تھی جب تم سفر میں نکلا کرو تو اللہ کے راستے میں کچھ نہ کچھ ضرور خرچ کیا کرو۔ ایک روز سفر کے دوران وہ بزرگ کھانا کھانے بیٹھے تو ایک سائل آپ کے پاس آیا انہوں نے اپنی روٹی سائل کو دے دی اور اپنا سفر جاری رکھا۔ راستے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک سانپ ہے‘ اس کے اوپر ان کا پائوں پڑا وہ بڑے پریشان ہوئے کہ کہیں ڈس نہ لے۔ جب پ
یچھے ہٹے توکیا دیکھتے ہیں کہ اس سانپ کے منہ میں کوئی چیز ہے جس نے اس کے منہ کو بند کیا ہوا ہے۔ وہ بڑے حیران ہوئے کہ اس کے منہ میں کیا چیز پھنسی ہوئی ہے؟ جب اس کو مارا تو دیکھا کہ وہ روٹی کا ایک ٹکڑا تھا جو اس کے منہ میں پھنسا ہوا تھا۔
پھر کسی بزرگ نے انہیں بتایا کہ تم نے جو اپنی روٹی کسی فقیر کو دی تھی‘ تمہاری موت کا وقت تو آج ہی لکھا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس صدقے کی وجہ سے تمہاری عمر میں برکت دے دی اور وہی روٹی کا ٹکڑا گویا اس سانپ کے منہ میں جاکر پھنس گیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ انسان اللہ کے راستے میں جو بھی خرچ کرتا ہے اس کی بلائیں اور مصیبتیں اس کے بدلے میں دور ہوتی ہیں۔

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on December 9, 2012, in اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: