Mere Abbu


ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کے لیے بہت کچھ لکھا جاتا ہے ، واقعی ماں کی عظمت بہت زیادہ ہے لیکن ایک ہستی اور بھی ہے جو ماں کی طرح ہی محترم ہے اور ماں کی طرح ہی پیار کرنے اور خیال رکھنے والی ہے ، لیکن اس ہستی کے بارے میں بہت کم لکھا جاتا ہے
تو میری یہ پوسٹ اس ہستی کے نام

جب میں چھ سال کا تھا

لگتا ہے میرے ابو سب کچھ جانتے ہیں

جب میں دس سال کا تھا
میرے ابوبہت اچھے ہیں لیکن بس ذرا غصے کے تیز ہیں

جب میں بارہ سال کا تھا
میرے ابو تب بہت اچھے تھے جب میں چھوٹا تھا

جب میں چودہ سال کا تھا
لگتا ہے میرے ابو بہت حساس ہوگئے ہیں

جب میں سولہ سال کا تھا
میرے ابوجدید دور کے تقاظوں سے آشنا نہیں ہیں

جب میں اٹھارہ سال کا تھا
میرے ابو میں برداشت کی کمی بڑھتی جارہی ہے

جب میں بیس سال کا تھا
میرے ابو کے ساتھ تو وقت گزارنا بہت ہی مشکل کام ہے، پتہ نہیں امی بیچاری کیسےان کے ساتھ اتنی مدت سے گزارہ کررہی ہیں

جب میں پچیس سال کا تھا
لگتا ہے میرے ابو کو ہر اس چیز پر اعتراض ہے جو میں کرتا ہوں

جب میں تیس سال کا تھا
میرے ابو کے ساتھ باہمی رضامندی بہت ہی مشکل کام ہے۔شاید دادا جان کو بھی ابو سے یہی شکایت ہوتی ہوگی جو مجھے ہے۔

جب میں چالیس سال کا تھا
ابو نے میری پرورش بہت ہی اچھے اصولوں کے ذریعے کی، مجھے بھی اپنے بچوں کی پرورش ایسی ہی کرنی چاہیے۔

جب میں پینتالیس سال کا تھا
مجھے حیرت ہے کہ ابو نے ہم سب کو کیسے اتنے اچھے طریقے سے پالا پوسا۔

جب میں پچاس سال کا تھا
میرے لیے تو بچوں کی تربیت بہت ہی مشکل کام ہے، پتہ نہیں ابو ہماری تعلیم و تربیت اور پرورش میں کتنی اذیت سے گزرے ہوں گے۔

جب میں پچپن سال کا تھا
میرے ابو بہت دانا اور دور اندیش تھے اور انہوں نے ہماری پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے بہت ہی زبردست منصوبہ بندی کی تھی۔

جب میں ساٹھ سال کا ہوا
میرے ابو سب سے اچھے ہیں

غور کیجیے کہ اس دائرے کو مکمل ہونے میں چھپن سال لگے اور بات آخر میں پھر پہلے والے قدم پرآگئی کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں۔
اور کیوں نہ اچھے ہوں انہوں نے ہماری زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ، ہمارے چین سکون آرام کے لیے بہت زیادہ محنت کی ، اور ہمیشہ ایک گھنی چھاؤ ں جیسے درخت کی ماند ہمارے سر پر اپنی شفقت کا سایہ رکھا ،
———————————————————————

آئیے ہم اپنے والدین سے بہترین سلوک کریں، ان کے سامنے اف تک نہ کریں، ان کی خوب خدمت کریں اور ان سے بہت سا پیار کریں قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے [اللہ ہم سب کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک جو بقید حیات ہیں کو اچھی صحت اور لمبی عمر دے اور ان کا سایہ ہمارے سر پر سلامت رکھے، آمین]۔ اور یہ دعا کریں کہ اے اللہ میرے والدین پراس طرح رحم فرما جیسے انہوں نے مجھ پراس وقت مہربانی کی جب میں کمسن تھا

 

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on December 9, 2012, in اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: