Akhtar Sheerani Ka IshQ e Rasool (S.A.W) Ek Waqea


کہا جاتا ہے اختر شیرانی ایک شام اپنے ایک کیمونسٹ دوست کے ساتھ بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ دوست خدا اور مذہب کا منکر تھا۔ جب اختر شراب کے نشے میں دھت ہو گئے تو دوست نے موقع غنیمت سمجھا اور اختر شیرانی سے دنیا کی بڑی بڑی قد آور ادبی اور سیاسی شخصیات کے بارے میں انکی رائے لینے لگا۔ اختر عظیم آدمی تھے،مزاج میں بڑائی اور جرأت تھی ،نام سنتے اور اْڑا دیتے ،کسی کو خاطرمیں نہیں لا رہے تھے۔بالآخر کیمونسٹ دوست نے کہا اچھا محمد (ﷺ) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ۔

اختر شیرانی نے یہ جملہ سنا نشے میں دھت شراب کی بوتل کیمونسٹ کے سر میں دے ماری، ایسے لگا جیسے وہ مکمل ہوش میں ہوں۔ بے قابو ہو کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے تو نے کیا سمجھا میں نشے میں یہ نام نہیں پہچان پاؤں گا، یہی ایک تو دولت ہے میرے پاس تم یہ بھی چھیننا چاہتے ہو۔

( یہ واقعہ عرب ہوٹل لاہور میں ہوا تھا اور اس کی تصدیق ابو الحسن علی نے اپنی کتاب “الطریق الی المدینہ” میں بھی کی ہے )

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on September 9, 2014, in Urdu Islamic Stories. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: