Ghazal – Muhabbat ka Doosra Roop


 

محبت کیا ہے
محبت کیسی ہوتی ہے
سُنتے آئے ہیں کہ
محبت
گلاب پہ شبنم کے جیسی ہوتی ہے
محبت ٹوٹے دلوں پہ مرہم لگاتی ہے
محبت غیروں کو اپنا بناتی ہے
محبت چٹانوں کو بھی
موم کی طرح پگھلاتی ہے
یہ صحراوں کو گلستان بناتی ہے
محبت پت جھڑ میں نوید بہار لاتی ہے
محبت چکور کو حد پرواز سے گزرنے پہ اُکساتی ہے
یہ پروانے کو شمع پہ مٹنا سکھاتی ہے
محبت سادہ سی آنکھوں کو
حسیں خوابوں سے سجاتی ہے
محبت عام سے چہرے کو
اپنا نور بخشتی ہے

لیکن

چلو دیکھیں ہم آج اس کا روپ دوسرا

محبت
گلاب سے چہرے سے شبنم
اک پل میں نچوڑ لیتی ہے
یہ خوش باش سے دل کو
زخم ناسور سا دیتی ہے
محبت پل میں اپنوں سے
کسی کو باغی کرتی ہے
کبھی یہ موم سے دل کو
پتھر کا بناتی ہے
یہ اپنی سے کرنے پہ اگر آجائے تو
بہار رُت میں بھی جھڑی ساون کی لگاتی ہے
محبت دیوانگی میں اُڑتے چکور کو
بے دم کر کے گراتی ہے
محبت پروانے کی معصومیت کو
ہر شمع پہ لُٹاتی ہے
یہ سادہ آنکھوں کو حسین خوابوں سے سجا کر
پھر ہر اک خواب کو نوچ لیتی ہے
محبت پُر نور چہروں کے دیپ بُجھا دیتی ہے

محبت ایسی بھی تو ہوتی ہے

یہ کیوں دل ویران کرتی ہے
کیوں گھر برباد کرتی ہے
کسی کی کیوں نہیں سُنتی
کیوں ہر بار اپنی سی کرتی ہے

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on September 9, 2014, in اردو شاعری. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: