Mujhey Ek Khuda Chahiye – Ahmad Nadeem Qasmi


مجھے ایک خدا چاہئے

” میں پھولوں کے انبار کو پسند نہیں کرتا۔۔ گلدستوں میں پتیوں کے مڑ جانے کا احتمال ہوتا ہے۔۔ میں ستاروں کے جمگھمٹ کو پسند نہیں کرتا،، اس طرح نگاہیں بھٹک جاتی ہیں۔۔۔ میں انسانوں کے ہجوم کو پسند نہیں کرتا،، کیونکہ ہجوم کا تصور صرف قیامت سے متعلق ہے۔۔۔

مجھے ایک پھول،، ایک ستارہ،، ایک انسان چاہئے۔۔۔۔ اور اس وحدت کو صرف افسانہ ہی سہارا دے سکتا ہے ۔۔۔ میں ایک پھول کی پنکھڑیوں کا ذکر کروں گا،، تو سب پھولوں کی نمائندگی ہوجائے گی ۔۔۔۔ میں ایک ستارے کی پرواز کا حال بتاؤں گا تو سارے نظام شمسی کی سیمابی سرشت کا احساس مکمل ہوجائے گا۔۔

میں ایک انسان کو اپنے فن کا مرکز بناؤں گا تو ہبوطِ آدم سے لے کر موجودہ دور تک کا انسانی سفرنامہ سامنے آجائے گا۔۔۔ مجھے وحدت سے محبت ہے،، نقادوں کی زمانی اور مکانی وحدتیں میرے نزدیک محض اضافی حیثیت رکھتی ہیں۔۔۔ مجھے ایک خدا چاہئے اور ایک کائنات اور ایک انسان ۔۔۔ متفق اور مجتمع !”

احمد ندیم قاسمی ۔۔۔۔ کتاب ۔۔۔۔ آنچل

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on September 24, 2014, in Ahmad Nadeem Qasmi, اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: