ایک شخص نے ایک فقیر سے اپنے خواب کی تعبیر چاہی


کہتے ہیں ایک شخص نے ایک فقیر سے اپنے خواب کی تعبیر چاہی اور بیان کیا کہ میں جنگل میں چلا جا رہا ہوں کہ نا گہاں ایک شیر میرے پیچھے دوڑا، میں خوف کے مارے بھاگا اور جلد ہی ایک درخت کے اوپر چڑھ گیا- اور شیر درخت کے پاس کھڑا ہو گیا-

میں جس شاخ پر بیٹھا تھا، دیکھا کہ دو چوہے ایک سیاہ اور دوسرا سفید اسے کاٹ رہے ہیں- نیچے جو دیکھا تو ایک بہت بڑی غار نظر آئی، جس میں ایک اژدہا منہ کھولے اس انتظار میں بیٹھا ہے کہ جونہی میں گروں وہ مجھے اپنا نوالہ بنا لے-

میں خوف سے کانپنے لگا، پھر اوپر نگاہ کی تو شاخ کے ساتھ شہد کا ایک چھتہ دیکھا ، میں نے اسے چھیڑا، تو ایک طرف سے شہد ٹپکنے لگا- اور میں اسے چاٹنے میں مصروف ہو گیا-
شہد کی لذت میں ایسا مبتلا ہوا کہ مجھے شیر، اژدہا اور شاخ کاٹنے والے چوہوں کا احساس تک نہ رہا- پھر اس کے بعد میری آنکہ کھل گئی-

فقیر نے کہا ہے بندہ خدا! جنگل سے مراد دنیا ہے- شیر سے مراد ملک الموت ہے- درخت کی شاخ جس پر تو نے کچھ دیر آرام پایا تیری عمر ہے ، جسے دن اور رات کاٹ رہے ہیں-

غار اور اژدہا تیری قبر و لحد ہیں کہ جوںہی تیری عمر کی شاخ کٹ گئی تو اس میں جا گرے گا-

شہد لذت دنیا ہے جس نے تمہیں انجام کار سے غافل کر دیا ہے-

از عبدالحمید قادری عفی عنہ، قلب سلیم، صفحہ نمبر 217

Recommended

Urdu Quotes & Aqwal e Zareen
Read Best 2 Line Urdu Shayari

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on September 27, 2014, in Urdu Islamic Stories, اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: