Bani Israel Ke Ek Zamanay Mein Jab Qehat Par Gaya


اگر وقت ملے تو پورا پڑهیں ……!

بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا، مدتوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی۔ لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس گئے اور عرض کیا ’’یا کلیم اللہ! رب تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ بارش نازل فرمائے۔‘‘ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو جو ستر ہزار کے قریب لوگ تھے ہمراہ لیا اور بستی سے باہر دعا کے لئے آگئے، دعا ہوتی رہی، حاجت روائی جاری رہی مگر بادلوں کا دور دور تک پتا نہ تھا بلکہ سورج کی تپش مزید تیز ہو گئی۔ حضرت موسیٰ ؑ کو بڑا تعجب ہُوا، اللہ تعالیٰ سے دعا قبول نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو وحی نازل ہوئی ’’تمہارے درمیان ایک ایسا شخص ہے جو گزشتہ چالیس سالوں سے مسلسل میری نافرمانی کر رہا ہے۔
اے موسیٰ آپ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ وہ نکل جائے کیوں کہ اس شخص کی وجہ سے بارش رکی ہوئی ہے اور جب تک وہ باہر نہیں نکلتا بارش نہیں ہو گی۔‘‘ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لاتے ہوئے اعلان کر دیا کہ ’’جو شخص چالیس سال سے اپنے رب کو ناراض کر رہا ہے، لوگوں میں سے باہر آ جائے، اس کے گناہوں کے سبب ہم بارش سے محروم ہیں۔‘‘ اس گناہگار نے اپنے دائیں بائیں دیکھا، کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا، وہ سمجھ گیا کہ وہی مطلوب ہے۔ سوچا کہ اگر وہ تمام لوگوں کے سامنے باہر نکلا تو بے حد شرمندگی ہو گی اور اس کی جگ ہنسائی ہو گی اور اگر باہر نہ نکلا تو اس کی وجہ سے تمام لوگ بارش سے محروم رہیں گے۔
اس نے اپنا چہرہ اپنی چادر میں چھپا لیا، اپنے گزشتہ افعال و اعمال پر شرمندہ ہُوا اور یہ دعا کی ’’اے میرے ربّ! تو کتنا کریم ہے کہ میں چالیس سال تک تیری نافرمانی کرتا رہا اور تو مجھے مہلت دیتا رہا اور اب یہاں میں تیرا فرمانبردار بن کر آیا ہوں، میری توبہ قبول فرما اور مجھے ذلت و رسوائی سے بچا لے۔ ابھی اس شخص کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ آسمان سے بادلوں نے برسنا شروع کر دیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا ’’یا الہی! آپ نے بارش کیسے برسا دی وہ نافرمان تو مجمع سے باہر نہیں آیا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے موسی! جس کی بدولت میں نے بارش روک رکھی تھی اسی کی بدولت اب بارش برسا رہاہوں، اس لئے کہ اس نے توبہ کر لی ہے۔‘‘ موسیٰ ؑ نے عرض کیا ’’یا اللہ! اس آدمی سے مجھے بھی ملا دے تاکہ اس کو دیکھ لوں۔
فرمایا ’’موسیٰ! میں نے اس کو اس وقت رسوا اور خوار نہیں کیا جب وہ میری نافرمانی کرتا رہا اور اب جبکہ وہ میرا مطیع اور فرمانبردار بن چکا ہے تو اسے کیسے شرمندہ اور رسوا کر سکتا ہوں….؟‘‘
ہم سب کے لئے اک پیغام هے یہ کہ جو الله 70ماوں سے بڑه کر پیار کرئے وہ کریم رحیم الله بہت مہربان بخشنے والا هے…جس نے رحمت کو اپنے آپ پر لازم کر لیا هے…ہمیں چاهے کہ سچے دل سے توبہ کریں ..الله ہم سب کے صفیرہ و کبیرہ گناہ معاف فرمائے..آمین ثم آمین … هو سکے تو میری بخش کی بهی کیجیے گا….

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on September 27, 2014, in Urdu Islamic Stories, اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: