Hazrat Abu Sufeyaan R.A ka Qabool e Islam Ka Waaqea


فتح مکہ سے پہلے ابو سفیان اور انکے دو ساتھی ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ!
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ: وہ اللہ کی وحدت اور انکی رسالت کی شہادت دیں۔ ابو سفیان کے دونوں ساتھیوں نے فورا کلمہ پڑھ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ـ
مگر ابو سفیان نے صرف اتنا کہا :
“لا الہ الا اللہ”
اور چپ ہو گیا ۔جب انہیں رسالت کی شہادت کا کہا گیا تو انہوں نے چٹائی پر نظریں گاڑ لیں اور چٹائی ہی کی طرف دیکھتے دیکھتے بولے:
“محمد میرے دل میں اب بھی شک ہے، مجھے کچھ وقت چاہیئے” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو سفیان کے جواب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کچھ کہنا چاہ رہے تھے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے خاموش کروا دیا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ مہمانوں کے رات ٹہرنے کا انتظام کریں۔
اگلے دن صبح حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کی اذان دی تو پہاڑوں کے سناٹے میں انکی آواز توقع سے زیادہ گونجی ـ دیکھتے دیکھتے سب خیموں سے باہر نکل آۓ ـ ہر شخص وضو کے لیے دوڑ پڑا ـ سارا لشکر جاگ اٹھا ـ ابو سفیان بھی ہڑ بڑا کر اٹھے اور حضرت عباس سے پوچھنے لگے:
کیا ہو گیا ہے ،کیا ماجرا ہے ؟
حضرت عباس نے بتایا :نماز کا وقت ہے ـ
ابو سفیان نے پوچھا : کتنی مرتبہ ہوتی ہے یہ نماز؟
حضرت عباس نے کہا : دن رات میں پانچ مرتبہ ـ
ابو سفیان نے حیرت سے کہا : پانچ مرتبہ تو بہت زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہ ابو سفیان خیمے سے باہر آگئے اور باہر آکر انہوں نے دیکھا کہ فدایئن اسلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہیں ـ ایک دوسرے پر گرے پڑ رہے ہیں،اس کوشش میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کی ایک چھینٹ ان پر پڑ جاۓ ـ انکے وضو سے بچے ہوۓ پانی کا ایک قطرہ انہیں میسر آجاۓ ـ ابو سفیان یہ دیکھ کر حیران ہو گئے اور کہنے لگے :
“عباس میں نے ایسی عقیدت آج تک نہیں دیکھی”
حضرت عباس نے جواب میں اتنا ہی کہا ”
“ابو سفیان اب تمھیں کس کا انتظار ہے ـ تم بھی رسالت کی شہادت دو” ۔
ابو سفیان نے بہت دھیمے لہجے میں کہا :
“مجھے انکے پاس لے چلو ” ۔
فجر کی نماز کے بعد حضرت عباس ابو سفیان کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے جہاں ابو سفیان نے انکی رسالت کی گواہی دی اور پورا کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کو گلے لگایا اور مبارک باد دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت بلال نے آگے بڑھ کر ابو سفیان سے ہاتھ ملایا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ دہراۓ :
اللہ تعالی کی طرف سے ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے ـ ایمان بندے کی صفت میں نہیں ، اللہ کا عطیہ ہے ـ
یہ سن کر ابو سفیان مسکرا دیئے اور کہا:
“ارے حبشی تو تو بہت بڑا معلم بن گیا ” ـ
(یاد رہے کہ حضرت بلال ، ابو سفیان کے غلام ہوا کرتے تھے اور اسلام کی محبت ایسی ان اصحاب رسول کے دل میں پیدا ہوئی کہ ان ہستیوں نے دنیا میں اسلام کا جہنڈا لہرایا ! یہ تھے وہ عظیم لوگ ، عظیم ہستیاں !!!)
اللہ ہمیں صحابہ رضی اللہ عنہا کے نقش قدم پر چلنے اور محبت رسول و اطاعت رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرماۓ ـ آمین

نا معلوم !!

معلوماتی پوسٹس :

اردو اقوال زریں اور اچھی باتیں

مزید اچھی پوسٹس کے لیئے اس ادبی فارم Urdu Adab کو Visit کرتے رہیئے !!

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on November 22, 2014, in Urdu Islamic Stories, اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: