Mein Hamesha Udaas Rehta Hoon


میں ہمیشہ اداس رہتا ہوں، اداسی میرے اندر بس چکی ہے۔ میں گھومنے جاتا ہوں، تو میری نظر بڑی بڑی عمارتوں پر کبھی نہیں پڑتی، میری نظر ہمیشہ ان کے باہر مانگنے والوں پر پڑتی ہے، وہ لوگ جو پورے خاندان کے ساتھ سردی اور گرمی کی بنا پروا کئے فٹ پاتھ پر سوتے ہیں، تین سال پہلے ایک بار ایسے ہی ایک خاندان کو دیکھتا رہا کافی دیر، باپ کی ٹانگ پر بیٹے نے سر رکھا ہوا تھا، باپ اور ماں بنا تکیہ لئے فٹ پاتھ پر سو رہے تھے۔ تصویر بنانے کا سوچا اور کافی دیر کیمرہ آن کرکے سوچتا رہا اور پھر یہ سوچ کر نہیں بنائی کہ کہیں ان کی نیند خراب نہ ہو جائے، پتا نہیں کیسے ایسی جگہ پر نیند آئی ہوگی انہیں۔ مجھے خود آج بھی اللہ کے کرم سے کوئی پریشانی نہیں ہے، مجھے لوگوں کے مسئلے سننا اچھا لگتا ہے، ان کے مسئلوں کو محسوس کرتا ہوں، لوگوں کے اتنے مسئلے ہیں کہ بس خدا اپنی پناہ میں رکھے، ایسے ایسے واقعات ہیں کہ انسان کو نیند نہ آئے سن کر۔ میرے پاس آج بھی اتنی تصویریں پڑی ہیں ایسی ہی جوکہ خود اپنے ہاتھ سے کھینچی ہوئی ہیں اور کسی دن مجھے اپنے گرم کمرے میں، اپنے کمبل میں ایسے لوگ یاد آجائیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا حالت ہوتی ہوگی۔
ابرارالزمان
از ہم کلامی۔

 

Download Urdu PoetryGet Live Urdu Adab Updates

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on May 5, 2015, in اقتباس کولیکشن. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: