اہل مغرب مریخ پر زندگی تلاش کر رہا ہے اور مسلمان آلو پر اللہ تلاش کر رہا ہے۔


کہنے تو یہ جملہ بڑا بامعنی لگتا ہے۔ اس میں غلط بھی کچھ نہیں ہے۔ مغرب سچ مچ مریخ پر زندگی تلاش کر رہا ہے اور مسلمان آلو پر اللہ کا نام تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ جملہ سچ مچ بامعنی ہے؟ تھوڑی دیر کے لئے کچھ اور جملوں پر غور کریں۔
مسلمان عورتیں پردہ کرتی ہیں اور مغرب کے مرد جینز پہنتے ہیں۔۔!
مسلمان جنت کے حصول کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور مغرب میں لوگ بی ایم ڈبلیو گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔۔!
مسلمان کرتا پہنتا ہے اور مغرب میں لوگ پتلون پہنتے ہیں۔
ویسے تو یہ جملے کچھ غلط نہیں ہیں۔ مسلمان عورتیں سچ مچ پردہ کرتی ہیں ، مسلمان جنت کے حصول کے لئے کوشش بھی کرتا ہے اور مسلمان کرتا بھی پہنتا ہے۔ مغرب میں مرد جینز پہنتے ہیں، وہ بی ایم ڈبلیو گاڑی میں سفر بھی کرتے ہیں اور مغرب پتلون بھی پہنی جاتی ہے۔ صحیح ہونے کے باوجود جو بھی ان جملوں کو پڑھے گا وہ انہیں کم از کم لغویات قرار دے گا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی سب عورتیں پردہ نہیں کرتیں اور مسلمانوں کے پردہ کرنے اور مغرب میں مردوں کے جینز پہننے کا کوئی منفی یا مثبت تعلق نہیں ہے اور مسلمان مرد بھی جینز پہنتے ہیں۔ اس لئے اس جملے میں کچھ غلط نہ ہونے کے باوجودیہ جملہ انتہائی غلط اور احمقانہ ہے۔
مسلمان جنت کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے اور مغرب کے بہت سارے مسیحی بھی اپنی دانست میں جنت کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے قطع نظر اس سے کہ ان کی یہ کوشش کامیاب ہوگی یا نہیں۔ بی ایم ڈبلیو میں مسلمان بھی سفر کرتے ہیں اور بی ایم ڈبلیوں میں سفر کرنے اور جنت کے حصول کے لئے کوشش کرنے میں کوئی تناقض نہیں ہے۔ اس لئے یہ جملہ بھی لغو ہے۔
اسی پر آپ تیسرے جملے کو بھی قیا س کرسکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ کچھ جملے صحیح ہونے کے باوجود بے معنی اور لغو ہوتے ہیں۔
علم منطق کی ایک اصطلاح ہے جسے فالس ڈیکوٹامی* کہتے ہیں۔ اس میں ایک فریق اپنی غلط بات کو ثابت کرنے کے لئے دو ایسی چیزوں کو بطور ضدین کے پیش کرتا ہے جو کہ در اصل ضدین ہوتے نہیں۔
اب اسی منطق کےتناظر میں اس جملے پر غور کریں۔
اہل مغرب مریخ پر زندگی تلاش کر رہا ہے اور مسلمان آلو پر اللہ تلاش کر رہا ہے۔
اس اعتبار سے یہ بات سچ مچ افسوسنا ک ہے کہ مسلمان ممالک میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو سائنسی ترقی میں مغرب کے مقابلے پر کیا قریب بھی ہو۔لیکن کیا آلو پر اللہ کے نام کی تلاش کرنے والے صرف مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں؟ کتنی بار ایسا ہوا کہ مغرب کے مسیحی حضرات کو بادلوں میں، پہاڑوں میں فروٹوں میں جیسس کا نام اور شکل نظر آئی ۔۔؟ اتنا ہی نہیں, مغربی ممالک میں کتنی ہی بار مختلف گروہوں نے قیامت کی تاریخ کا اعلان کیا بلکہ جمع ہوکر مسیح کے اترنے کا انتظار بھی کرتے رہے۔ اور ویسے بھی صدر بش کو عراق اور افغانستان پر حملہ کرنے کی ترغیب کے لئے عجیب و غریب آوازیں بھی سنائی دیتی رہی۔اس سب کے باوجود مغرب سائنسی اور علمی ترقی کرتا رہا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔
دراصل آلو پر اللہ کے نام کو تلاش کرنے والی دینداری ہر جگہ پائی جاتی ہے۔انسانوں کاآئی کیو لیول ایک نہیں ہوتا۔ ہر معاشرے میں بے وقوف اور سادہ لوح انسان پائے جاتے ہیں۔ آپ کوشش کر کے بھی اس طرح کے لوگوں کو معاشرے سے ختم نہیں کرسکتے۔ بلکہ بعض دفعہ انسانوں میں عجیب کامپلیکس قسم کی نفسیات پائی جاتی ہے کہ آپ کو ایسے بندے ملیں گے جو سائنسی اعتبار سے انتہائی ترقی یافتہ ہونے کے باوجود توہم پرستانہ خیالات رکھتے ہوں۔
اس اعتبار سے زیر بحث جملہ ایک لغو اور فالس ڈیکوٹامی ہے۔ مسلمانوں میں بہت سارے سادہ لوح لوگ پائے جاتے ہیں جنہیں پھلوں، سبزیوں، بادلوں اور پہاڑوں پر خدا کا نام نظر آجاتا ہے۔ لیکن اس بات کا کوئی تعلق مسلمانوں کی سائنسی ترقی نہ ہونے سے نہیں ہے۔ اس طرح کےسادہ لوح لوگ شاید سائنسی ترقی میں کوئی کردار ادا نہ کریں لیکن جو اس طرح کے نہیں ہیں اور جو ایسی دینداری کے نقاد ہیں ان کو چاہئے کہ ان پر تنقید کرنے کے بجائے اپنا سائنسی سفر جاری رکھیں۔ مغرب کی سائنسی کامیابی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اب یہاں ایسے لوگ پائے نہیں جاتے بلکہ ان کی کامیابی کی وجہ یہ ہے جو دوسرے قسم کے لوگ ہیں انہوں نے اپنا کام امانت داری ور دلجمعی کے ساتھ کیا۔ عبدالقدیر خان نے اپنے اوپر جو ذمہ داری لی وہ کرکے دکھائی باجود اس کے کہ پاکستانی معاشرے میں آلو پر اللہ کا نام ڈھونڈنے والے تب بھی پائے جاتے تھے اور اب بھی پائے جاتے ہیں۔ اگر وہ اسی کا رونا لے کر بیٹھ جاتے تو عبدالقدیر کے بجائے پرویز ہودبھائی ہوجاتے۔
سائنسی اور علمی ترقی کا تعلق یونیورسٹی کے علمی معیارات اور سیاست دانوں کی اس بارے میں دلچسپی سے متعلق ہے۔ فی زمانہ یہ دونوں میدان دینی حلقوں کے پاس نہیں بلکہ ان حلقوں کے پاس ہیں جنہیں مولوی نہیں سمجھا جاتا۔ یا ایک اعتبار سے انہیں سیکولر یا دنیاداری کامیدان سمجھا جاتا ہے۔
اس طرح کے فقروں سے یہ تأثر ملتا ہے کہ مسلمان ممالک میں سائنس دان جب بھی ترقی کرتے ہیں تو کوئی اعلان کرتا ہے کہ آلو پر اللہ کا نام دریافت ہوگیا ہے تو سب مسلمان چاہے وہ یونی ورسٹی کے پروفیسر ہوں یا لیباریٹیری میں پائے جانے والے سائنسدان، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کرآلو دیکھنے کے لئے آجاتے ہیں جس کی وجہ سے سائنسی ترقی نہیں ہوپاتی۔یہ کتنا احمقانہ تاثر اسکے لئے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر مسلمان ممالک سائنس میں ترقی نہیں کرسکے تو وہ اس لئے نہیں ہے کہ کچھ سادہ لوح مسلمان آلو پر اللہ کا نام تلاش کرتے ہیں بلکہ اصل وجہ ہے کہ مسلم ممالک میں جن میدانوں کو عام طور پر دنیاداری سمجھا جاتا ہے اس کو چلانے والوں کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ یہ علمی اور سائنسی اداروں کوچلانے والے نکمے تھا یا بدنیت جس کی وجہ سے مسلمان سائنس میں ترقی نہیں کرسکے؟
آلو تو صرف ایک بہانہ ہے نالائق سیکولروں کی ناکامی کو چھپانے کا۔ اچھی خاصی سرکاری اور بیرونی فنڈنگ ہوکر بھی مسلمان کیوں پیچھے ہیں؟ اس کی وجہ آپ کو آلو سے آگے بڑھ کر کہیں اور ڈھونڈنی پڑھے گی۔پرویز ہودبھائی جیسے سائنسدان قوم کو سائنس پڑھانے کے بجائے، مذہب پڑھائیں گے تو اور کیا نتیجہ نکلے گا؟ صرف قوم کا رونا رو کراور مولویوں کو دوچار گالیاں دے کر اصل ذمہ داری دوسروں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

Sabaq Amooz Baaton ke Liye Urdu Adab Updates Haasil Karen aur Is k Ilava aap khubsurat aur dard bhari sher o shayari bhi download kar sktey hen apney zauq ko barhanay k liye.

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on May 7, 2015, in Urdu Islamic Stories, اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: