Har Maal Har Cheez – Muhammad Jameel Akhtar


ایک تپتی ہوئی دوپہر میں
ایک دیوار کے سائے میں
ایک اداس ، پریشان آدمی
تھوڑی تھوڑی دیر بعد پکارے
“ہر مال ، ہر چیز”
کون اسکی آواز سنے
کون اسکی بات سنے
ایسی تپتی دوپہر میں
“ہر مال ، ہر چیز”
“ہر چیز دس روپے میں
یہ پلاسٹک کی چوڑیاں
یہ مٹی کے برتن ،
یہ آنکھوں کا سرمہ
یہ کپڑوں کے بٹن
ہر مال ، ہرچیز”
ایسی تپتی دوپہر میں
یہ گاہک تلاش کرتی آنکھیں
تھک ہار کے لوٹ آتی ہیں
گلی کے ایک نکڑ سے
دوسرے نکڑ تک
کون اس کی آواز سنے
کون اس کی بات سنے
ایسی تپتی دوپہر میں
آواز مدھم ہوتی جاتی ہے

شاعر: محمد جمیل اختر   \

اگر آپکو اردو نظموں، شاعری ، اور اچھی باتوں کا شوق ہے تو اردو شاعری ڈاؤنلوڈ کریں۔ مزید اردو ادب کی بہترین سلیکشن ریگولر بھی حاصل کر سکتے ہیں آپ !

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on May 7, 2015, in اقتباس کولیکشن. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: