یہ مائیں اپنے بچوں کے لیے خدا کی شکل میں کیسے ڈھل جاتیں ہیں ؟


Download Urdu Shayari & Quotes CollectionGet Urdu Adab Live Posts

یہ مائیں اپنے بچوں کے لیے خدا کی شکل میں کیسے ڈھل جاتیں ہیں ؟
تحریر: ڈاکٹر بلند اقبال
بھائی د یکھیں میں کوئی ادیب افسانہ نگار یا اس قسم کے بڑے منصب کا انسان نہ تو تھا نہ ہوں ۔میں تو محض ایک ماں کا بیٹا تھا، بہت سی باتیں تھیں جو مجھے اپنی ماں سے کرنی تھیں اور میں اس بدنما اتفا ق کی و جہ سے کر نہیں پایا ۔کچھ مجھے وقت نہیں ملا کچھ اُنہیں وقت نہیں ملا ۔میں اسillusion میں تھا کہ مائیں مرا ہی نہیں کرتی اور میرے پاس ایک طویل زندگی ہے اُن سے باتیں کرنے کے لیے،اپنے غموں کے پھپولے پھوڑنے کے لیے، اپنی خوشیوں کو شئیر کرنے کے لیے ، بہت کچھ سیکھنا تھا مجھے اُن سے یہ لفظوں کے معنی لفظوں کے باہر ہی کیوں ملتے ہیں ، یہ خیالات آوارہ پرندوں کی طرح گمنام منزلوں کی طرف کیوں پرواز کرتے رہتے ہیں ۔ یہ احساسات جذبوں کے بناء تنہائی سے مر کیوں نہیں جاتے ہیں ، یہ رنگ بے رنگ ہوکر بھی آخر کن رنگوں میں آنکھوں میں بستے ہیں اوریہ مائیں ۔۔ یہ مائیں اپنے بچوں کے لیے خدا کی شکل میں کیسے ڈھل جاتیں ہیں ؟ مگر۔۔ سارے سوالات ادھورے ہی رہ گئے وہ اچانک سے میرے پاس سے چلے گئی اور مجھے معنوں کے بنا کسی خالی خولی لفظ کی شکل میں ،کسی بے منزل آوارہ خیال کی صورت میں،کسی تنہا جذبے کی طرح، اپنے دل کی عبادت گاہ میں بے شکل بے رنگ یہ سب سوچنے کے لیے بس اکیلا چھوڑ گئی۔۔میرے دل کی عبادت گاہ میں جہاں اب وہ ایک خدا کی شکل میں ڈھل گئی ہیں اور میں۔۔میں محض ’ نہیں‘ کی شکل رہ گیا ہوں کہ اس سارے تلخ تجربے نے میری ناقص عقل کو صرف اسی سمجھ سے نوازاہے کہ انکار ہی تواصل میں اقرار کی پہلی منزل ہے اور یہ انکار ہے اپنی ذات کا، ذات کے نہ ہونے کے ہونے کا،میں جو زماں و مکاں میں جکڑا اپنے وجود کے جال میں بند اس بے معنی دنیا میںIn-itself کی شکل میں اپنی زندہ ماں میں سے برآمد ہوا تھا اور اُس کی موجودگی میں’ ہاں‘ کی شکل میں تھا اُس کے مر جانے پر اپنے انہدام کا شکار ہو گیا اور پھر مجھ سے for itself کا وہ شعور بیدار ہواجو ’ نہیں‘ کی شکل میں تنہا ، خوفزدہ اور بے بس تھا اور پھر ڈیکارٹ کے مطابق I think therfore I am کے اردگرد گھومنے لگا ۔وجودیت کے اس نئے احساس نے جہاں زندگی کی بے معنویت سے مجھے آشنا کیا تو وہی ایک نئی فکری جہت ،قوت ارادی اور آزادی عمل کا بھی احساس دیا ۔میری ماں جنہوں نے زندگی میں تو میری تعمیر کی ہی تھی جانے کے بعد بھی میری زندگی کا راستہ متعین کر گئی ۔وہ جاتے جاتے دھیمے سے ایک بند دریچہ کھلا چھوڑ گئی ۔۔وہ دریچہ جو پہلے کسی دھیان میں نہ تھا پر جو کھلا تو جیسے میرے گیان کاسبب بن گیا ۔۔گیان زندگی اور موت کے اتفاق کا ۔۔گیان چہار سو پہلے تنہا سے دن رات کا ۔۔۔گیان اپنی بے بس سی تنہا ذات کا ۔۔۔گیان تاریکی میں تیرتے ہوئے گمنام سے خیال کا ۔۔یہ گیان ہی تو تھا کہ دھیمے دھیمے اُس گمنام خیال پر ساری تجلیاں روشن ہوتی چلی گئی ۔بے ہنگم نقطے آپس میں ملے تو ایک نئی دنیا وجود میں آگئی پھر ایسے لوگ اور منظر تھے جو پہلے کسی وہم و گمان میں نہ تھے ۔۔۔روشنیوں کی وہ کہکشائیں کہ آنکھیں چندھیا جائیں اور پھر وہ گھپ اندھیرا کہ دل خوف سے بند ہوجائے ۔وہ روحانی تصور کہ محبت اپنے وجود پر حیراں اور وہ مکرو کردار بھی کہ طبعیت متلاہٹ سے بھر جائے ۔کہیں تو سائنس اپنی توجہات دونوں ہاتھوں میں لیے میری خالی مٹھیوں کو تھامنے کوتیار اور کہیں ننگ دھڑنگ سوالیہ خیال �آنکھوں کی پتلیوں کے پیچھے ناچے ۔۔کردار دوست ہوتے ہیں پر جان لینے والے دشمن بھی ۔۔۔کہانیاں پیار سے جذب کرتی ہیں تو نفرت سے تھوک بھی دیتی ہیں ۔۔اُن کی ریکھاؤں کا تخلیق کار کی ریکھاوءں سے ملنا ضروری نہیں ہوتا ۔۔وہ تو جیسے اُن چاند ستاروں سے اُترتی ہیں جو تخلیق کے سوتوں میں الجھی ہوئی کسی گمنام سی کہکشاں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور پھر اچانک کسی بھی لمحے نمودار ہوکر خود تخلق کار کی آنکھوں کو خیرہ کردیتے ہیں ۔۔بس یہی کل گیان ہے جو پچھلے کئی سال کے تخلقی سفر میں مجھے ملا وہی کہ جس کے بعد میرا تخلیق کار سے وہی رشتہ بن گیا ہے جو خود میرا اپنے تخلیق کردہ کرداروں سے ہے ۔۔یعنی پیار کا رشتہ

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on May 10, 2015, in اقتباس کولیکشن. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: