لوگ اب بھی ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے ھیں


حضرت شمس تبریز رحمت اللہ علیہ بغداد کی حدود سے نکلے ھی تھے کہ اچانک بادشاہ کا بیٹا بیمار پڑ گیا اور دوسرے دن مر گیا. بادشاہ کو گمان گزرا شاید یہ سب واقعہ حضرت شمس تبریز رح سے بدسلوکی کی وجہ سے رونما ھوا ھے. بادشاہ نے اپنے مشیران کو حکم دیا. کوئی بھی صورت ھو انہیں بغداد واپس لاو.
حکم پاتے ھی مشیران تیز گھوڑوں پر سوار ہو کر دوڑ پڑے. شاھی قاصدوں نے انھیں جا لیا پھر دست بدست عرض کی حضور واپس بغداد تشریف لے چلیں
یہ سن کر حضرت شمس رح کے چہرے پر اذیت کا رنگ ابھر آیا کل جس جگہ مجھے ذلیل کیا گیا آج پھر اسی مقام پر جانے کا کہ رھے ھو؟؟؟؟
حضرت شمس رح نے انکار کر دیا لیکن شاھی کارندے بہت دیر تک عاجزی کا مظاہرہ کرتے رھے تو آپ کو ان پر رحم آ گیا
جب آپ شاھی محل پہنچے وہاں صف ماتم بچھی ھوئ تھی
یہ سب کیا ھے آپ نے بادشاہ سے پوچھا
یہ میرے جواں مرگ بیٹے کی میت ھے آپ کے بغداد سے جاتے ھی اچانک بیمار ھوا اور دیکھتے ھی دیکھتے آغوش فنا میں چلا گیا
میں سمجھتا ھوں آپ کی دل آزاری کے باعث میرا بیٹا اس انجام کو پہنچا. شدت غم سے بادشاہ کی آواز کانپ رھی تھی.
فی الواقع اگر یہی بات ھے تو آپ کے بیٹے کو سزا کیوں ملی؟؟؟ گناہ تو آپ نے کیا تھا. حضرت شمس رح نے فرمایا
ممکن ھے قدرت نے. میرے لیے یہی سزا منتخب کی ھو کہ تمام عمر بیٹے کی جدائی میں تڑپتا رہوں. بادشاہ نے کہا.
میری درخواست ھے کہ آپ میرے بیٹے کے حق میں دعائے خیر فرما دیں. بادشاہ نے کہا ھو سکتا ھے آپ کی دعاؤں سے اسے نئی زندگی مل جائے.
ایسا ھوتا تو نہیں ھے پھر بھی تمہاری تالیف قلب کے لیے مالک کی بارگاہ میں عرض کیے دیتا ھوں. ایوان شاھی کے ایک کمرے میں ابھی دعا کے الفاظ کی گونج باقی ھی تھی کہ شہزادے کے جسم کو جنبش ھوئ اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور حیرت زدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا
یہ منظر دیکھ کر بادشاہ حضرت شمس تبریز رح کے قدموں میں گر گیا کہ یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ھے
ھرگز نہیں یہ تو قادر مطلق کی کرم نوازی کا ادنی سا مظاہرہ ھے جو اپنی ذات میں لاشریک ھے اسی کا شکر ادا کرو. آپ رح نے فرمایا.
یہی کرامت آپ کے لیے وبال جان بن گئی. لوگوں نے آپکو شعبدے باز کہا اور آپ کے خلاف صف آراء ھو گیے.
حضرت شمس تبریز رح کی کھال کھینچ لی گئی اسی حالت میں بغداد سے نکال دیا جب آپ لہو لہان تھے
ولی عہد سلطنت شہزاد محمد کو آپ سے بہت عقیدت تھی جب آپ شہر بدر ھوے تو شہزاد محمد بھی آپ کے ساتھ ھو لیے.
بغداد سے نکل کر ھندوستان کا رخ کیا اور طویل مسافت کے بعد ملتان پہنچے اور سکونت اختیار کی
ملتان کے لوگوں نے بھی اھل بغداد کی طرح آپ کی مخالفت کی. ایک بار یوں ھوا حضرت شمس رح کو گوشت بھوننے کے لیے آگ کی ضرورت پیش آئی آپ نے شہزاد محمد کو آگ لانے کے لیے بھیجا مگر پورے شہر میں سے کسی نے بھی آگ نہ دی ایک سنگدل شخص نے اس وجہ سے شہزادے کو اتنا مارا کہ چہرے پر زخموں نے نشان ابھر آے.
واپس آ کر شہزاد نے پورہ واقع سنایا تو آپ رح کو جلال آ گیا آپ نہایت غصے کی حالت میں خانقاہ سے نکلے گوشت کا ٹکڑا ھاتھ میں تھا پھر حضرت شمس رح نے آسمان پر نظر کر کے سورج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
؛ تو بھی شمس میں بھی شمس اس گوشت کے ٹکڑے کو بھون دے؛
اتنا کہنا تھا کہ گرمی کی شدت میں اضافہ ھو گیا پھر یہ گرمی اتنی بھڑی کہ اھل ملتان چیخ اٹھے پورا شہر آگ کی بھٹی بن کہ رہ گیا
کچھ باخبر لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ کیا چند نادانوں کے جرم کی سزا پورے شہر کو دے ڈالیں گے. آپ رح نے فرمایا
یہ نادان نہیں سفاک ھیں آگ جیسی بے قیمت چیز نہیں دے سکتے میرے محبوب کے چہرے کو زخموں سے سجا دیا آخر اس کا جرم کیا تھا. جانتے ھو یہ کون ھے؟؟؟ بغداد کا شہزادہ میری خاطر بھیک مانگنے گیا لیکن اس کو شہر والوں سے زخم ملے. ان جب تک سارے شہر کے جسم آبلوں سے نہیں بھر جائیں گے مجھے قرار نہیں آے گا.
خدا کے لیے انہیں معاف کر دیں. ملتان کے داناے راز حضرات نے شفارس کرتے ھوے کہا.
خیر جب خدا کو درمیان میں لے آے ھو تو معاف کیے دیتا ھوں. آپ رح نے فرمایا .
پھر سورج سے مخاطب ھوے اپنی حرارت کم کر دے معلوم نہیں یہ لوگ روز حشر کی گرمی کیسے برداشت کریں گے. آپ کا یہ فرمانا تھا سورج کی حرارت اعتدال پر آ گئی.
لوگ اب بھی ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے ھیں…
از؛ نور الہی کے پروانے.. مصنف محمد اسلم لودھی
احمد

Download Urdu Quotes & Poetry Collection ||  Download Jaun Elia Famous Poetry Collection

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on May 24, 2015, in Urdu Islamic Stories, اقتباس کولیکشن, اردو نثر. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: