Kaash ! Main Paida Hi Na Hui Hoti


کاش میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی …. !!

اس کا چہرہ آسمان کی طرف تھا، آنکھوں سے آنسو بہہ کر گالوں پر آرہے تھے اور ہچکیاں لے لے کر بس ایک ہی دعا مانگ رہی تھی کہ کاش میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی، یہ صرف اس کی ہی نہیں اس جیسی سینکڑوں لڑکیوں کے دل سے نکلنے والی دعا ہے جو روز آسمان کر چیرتی ہے، اس بیچاری کا کوئی قصور بھی نہیں تھا، وہ تو بس تھوڑی موٹی تھی، حالانکہ نین نقش مناسب تھے پڑھی لکھی حافظ قرآن تھی، پانچ وقت کی نماز پڑھنے والی اور اپنے اللہ کو راتوں کو جاگ کر یاد کرنے والی تھی
.
لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اس معاشرے میں باپردہ، پانچ وقت کی نمازی اور پرہیزگار لڑکی کی ضرورت اب نہیں رہی ، یہاں پر حوس کے پجاری نوجوان اپنی جسمانی تسکین کیلئے خوب صورت لڑکی کا انتخاب کرتے ہیں اور ان میں ان نوجوانوں سے زیادہ ان کی ماوں کا قصور ہے جن کی خواہش ہوتی ہے بیٹا خود جیسا بھی ہو لیکن بیٹے کیلئے خوبصورت لڑکی ڈھونڈیں جس کو پورے خاندان والے بھی اوپر سے نیچے تک جانوروں کی طرح دیکھیں، محلے میں بھی واہ واہ ہو اور بیٹا بھی خوب دل لگا کر اپنے نئی نویلی دلہن سے پیار کرے-
.
جب یہ خوب صورت لڑکی تھوڑے پر نکالتی ہے تو والدین پچھتاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے تو بس خوبصورتی دیکھی تھی کاش سیرت دیکھ لیتے اور پھر نوبت لڑائی جھگڑوں تک آجاتی ہے، بیٹا یا تو ماں کو چھوڑ دیتا ہے یا بیوی کو چھوڑ دیتا ہے غرض ایک انمول رشتہ ختم ہو جاتا ہے-
.
کسی نے نہیں سوچا کہ ان لڑکیوں کا کیا ہوگا…؟ جو اتنی پیاری نہیں، دیکھنے میں سمارٹ بھی نہیں، ان کے بھی ارمان ہوں گے ان کی بھی تمنا ہوگی کہ کوئی ہو جو ان کا اپنا ہو جس کے کندھے پر سر رکھ کر وہ بھی تھوڑا سکون کرلیں، وہ بھی پسند پسند کے کھانے پکائیں، ہنسیں، مسکرائیں لیکن کون ہے…؟ جو آج کے دور میں ایسی لڑکی سے شادی کرے گا، سب کے سب مطلبی ہیں-
.
جو لڑکیاں موبائل فون پر بات نہیں کرتیں ، جو پردہ کرکے گھروں سے نکلتی ہیں یہ سوچ کر کہ وہ صرف اس شخص کیلئے بنی ہیں جس سے ان کا نکاح ہوگا اس سے پہلے وہ اپنا آپ کسی کو نہیں دکھائیں گی، سوچتا ہوں کتنی بے وقوف لڑکیاں ہیں…؟، کیا ضرورت ہے پردہ کرنے کی…؟، باحیا ہونے کی…؟
.
موبائل پر دوست بنائیں، بے حیاوں کی دنیا میں بے حیا بن کر رہیں، یہ دنیا اچھے لوگوں کیلئے بنی ہی نہیں اورنہ ہی اچھے لوگوں کو برداشت کرتی ہے، جھوٹ، فریب، بے

حیا معاشرے میں صرف بے حیا لوگوں کی ہی قدر کی جاتی ہے ۔

Download Urdu Quotes & Poetry | Jaun Elia Poetry | Live Urdu Magazine

Advertisements

About NimdA

nothing

Posted on May 30, 2015, in اقتباس کولیکشن. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: