Author Archives: NimdA

5 Popular Qawwalis of Nusrat Fateh Ali Khan


جیسا کہ اس سے پہلے بلاگ پوسٹ میں ہم بتا چکے ہیں کہ نصرت فتح علی خان کی آواز کیا کیا جادو جگا سکتی ہے سننے والوں کے دلوں پر، اب ہم اس پوسٹ میں پانچ ایسی مشہور قوالیاں پوسٹ کریں گے جو شاعری اور صوفیانہ دنیا سے تعلق رکھنے والوں کو بے حد مسرور کریں گی۔

اگر آپ ساری کی ساری قوالیاں اپنے موبائل میں ڈاؤنلوڈ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے لنک پہ کلک کریں۔

Download Nusrat Fateh Ali Khan Qawwali Collection MP3

اب ہم آتے ہیں نصرت کی دس مشہور قوالیوں پہ جو کہ آپ کو بہت سرور دیں گی۔

1 -یہ جو ہلکا ہلا سرور ہے

2 – دل پہ زخم

3 – تم ایک گورکھ دھندہ ہو

4 – اکھیاں اڈیکدیاں

5 – سن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک

سنیں یہ مشہور قوالیاں اور ڈاؤنلوڈ کریں آڈیو اور ویڈیو قوالیاں نصرت فتح علی خان کی ۔

splashorg

Nusrat Fateh Ali Khan – Qawwali Ustaad


نصرت فتح علی خان، نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے نقشہ پہ ابھرنے والے ان چند فنکاروں میں ہیں جن کی آواز ان کے دنیا سے جانے کے بعد بھی اب تک لوگوں کے کانون میں گونجتی ہے۔

قوالی اور صوفیانہ شاعری کا حسین امتزاج جو نصرت کی قوالیوں میں ملتا ہے وہ دنیا کے کسی اور قوال یا غزل گائک نے نہیں پیسش کیا۔ اپنے آواز سے جادو جگانے والے یہ مایہ ناز گلوگار قوالیوں اور غزلوں کی ایک ان گنت وراثت اس دنیا میں چھوڑ گئے جسے سن کے اب بھی درد سے بھرے دل کھل اٹھتے ہیں، درویش سر دھنتے ہیں اور ادیب واہ واہ کرتے ہیں۔

اگر آپ نصرت فتح علی خان کی قوالیاں سننا چاہتے ہیں تو ہم نے یہ ایک ایسی موبائل ایپلیکیشن بنائی ہے جو نہ صرف نصرت فتح علی خان کی ویڈیو قوالیاں دکھاتی ہے بلکہ اس میں آڈیو قوالیوں کا ایسا مجموعہ ہے جو آپ کو محذوذ کرے گا۔

 

Download Nusrat Fateh Ali Khan MP3 Qawwalis

ضرور انسٹال کریں اور اپنے حلقہ و احباب میں بتائیں۔ یہ ایسی لازوال کولیکشن ہے کہ آپ جھوم اٹھیں گے۔

splashorg

Jin Gharo Main Bachay Hotey Hen Wahan Aisa Zaroor Hota Hai


Urdu Quotes aur Shayari | Jaun ELia ki Sher o Shayari

ﺟﻦ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﭽﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ
ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﭘﯿﺶ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺩﻧﯿﺎ
ﻧﯿﻨﺪ ﮐﮯ ﻣﺰﮮ ﻟﮯ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ , ﺳﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﭽﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺗﺎ
ﮨﻮﺍ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻓﻮﺭﺍً
ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺑﭽﮧ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ , ﺑﺴﺘﺮ
ﮔﯿﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﭙﮍ ﮮ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻏﺮﺽ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ , ﻣﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺁﺭﺍﻡ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ
ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﯾﮩﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
ﻟﻮﮒ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ , ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ
ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ
ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﭙﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ
ﺩﻋﺎ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮨﻮ , ﻭﮦ ﻣﻔﺎﺩ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﻣﻔﺎﺩ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻭﮦ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﺸﯿﻦ ﺳﻤﺠﮫ
ﮐﺮ ﭘﮑﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺟﺐ ﺩﻋﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ﻧﻈﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻋﻨﺎﯾﺖ,
ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ , ﺻﻔﺎﺕ ﻋﺎﻟﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ
ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺑﮩﺖ ﮐﺮﯾﻢ ﮨﯿﮟ ۔ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ
ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﻭ ﻣﺼﻠﺤﺖ
ﮐﯽ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﻋﮑﺲ ﻣﻌﺮﻓﺖ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﺍﺱ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻨﺎﯾﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺎﺕ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﻝ ﺑﭽﮯ
ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﺮ ﺗﮍ ﭖ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﮕﺮ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﮑﺎﺭﻧﺎ ﻣﺤﺾ ﭘﮑﺎﺭﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻭﮦ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺗﺮﯾﻦ
ﺑﯿﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ
ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ’’ ﺍﮮ ﺭﺏ ﯾﮧ ﺳﻮﺋﯽ ﻣﺎﮞ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﺍﭨﮫ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﺏ ﺟﺴﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺍﻭﻧﮕﮫ
ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﺁﮦ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﮐﮫ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻧﮧ ﺍﭨﮭﮯ ﮔﺎ ‘‘ ۔ ﯾﮩﯽ
ﻭﮦ ﺩﻋﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﺮ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻭ ﺯﻣﯿﻦ
ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﻟﭙﮏ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﮐﯽ ﺩﺳﺘﮕﯿﺮﯼ
ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﮕﺮ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺁﺝ ﮐﺜﺮﺕ ﺩﻋﺎ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ
ﻣﻌﺮﻓﺖ ﺑﮭﺮﯼ ﺩﻋﺎ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮨﮯ ۔

Ek Naik aur Maldaar Shakhs ka Qissa


Best Urdu Poetry | Jaun Elia Poetry

ایک نیک اور مالدار شخص نے اپنا قصہ لکھا ہے کہ… ایک دن میرا دل بہت بے چین ہوا… ہر چند کوشش کی کہ دل بہل جائے، پریشانی کا بوجھ اُترے اور بے چینی کم ہو،مگر وہ بڑھتی ہی گئی… بالآخر تنگ آکر باہر نکل گیا اور بے مقصد اِدھر اُدھر گھومنے لگا، اسی دوران ایک مسجد کے پاس سے گذراتو دیکھا کہ دروازہ کھلا ہے… فرض نمازوں میں سے کسی کا وقت نہیں تھا، میں بے ساختہ مسجد میں داخل ہوا کہ وضو کر کے دو چار رکعت نماز ادا کرتاہوں، ممکن ہے دل کو راحت ملے… وضو کے بعد مسجد میں داخل ہوا تو ایک صاحب کو دیکھا… خوب رو رو کر گڑ گڑا کر دعاء مانگ رہے ہیں اور کافی بے قرار ہیں… غور سے ان کی دعاء سنی تو قرضہ اتارنے کی فریاد میں تھے… اُن کو سلام کیا، مصافحہ ہوا، قرضہ کا پوچھا… بتانے لگے کہ آج ادا کرنے کی آخری تاریخ ہے اپنے مالک سے مانگ رہا ہوں… اُن کاقرضہ چند ہزار روپے کا تھا وہ میں نے جیب سے نکال کر دے دیئے… ان کی آنکھوں سے آنسوچھلک پڑے…اور میرے دل کی بے چینی سکون میں تبدیل ہو گئی… میں نے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکال کر پیش کیا کہ آئندہ جب ضرورت ہو مجھے فون کر لیں… یہ میرا پتا ہے اور یہ میرا فون نمبر… انہوں نے بغیر دیکھے کارڈ واپس کر دیا اور فرمایا… نہ جناب! یہ نہیں… میرے پاس اُن کا پتا موجود ہے جنہوں نے آج آپ کو بھیجا ہے… میں کسی اور کا پتا جیب میں رکھ کر اُن کو ناراض نہیں کر سکتا…

 

 

Funny Story of a Chaudhry Sahab


Download Urdu Quotes & Poetry | Jaun Elia Poetry | Live Urdu Magazine

ﺍﯾﮏ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺩﯾﮩﺎﺕ ﮔﯿﺎ ﺗﻮﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ
ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﺘﺮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﮯ؟
ﻟﮍﮐﺎ : ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯﺳﮯ ” ﻟﻮﺟﮑﺲ” ﮐﻠﯿﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ .
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﯾﮧ “ﻟﻮﺟﮑﺲ” ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ؟
ﻟﮍﮐﺎ : ” ﻟﻮﺟﮑﺲ” ﻣﻨﻄﻖ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﯾﮧ ﻣﻨﻄﻖ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﻟﮍﮐﺎ : ﻣﻴﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺁﭖ ﮐﻮ۔۔۔۔
ﻟﮍﮐﺎ : ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺁّﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﮨﺎﮞ ﮨﮯ
ﻟﮍﮐﺎ : ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﮔﺎ؟ (ﺟﺲ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﮐﺘﺎ
ﺭﮐﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ)
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﮨﺎﮞ ﮔﮭﺮ ﺗﻮﺑﮍﺍ ﮨﮯ ..
ﻟﮍﮐﺎ : ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻧﻮﮐﺮ ﭼﺎﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎ ﻓﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ؟؟ ( ﺑﮍﮮﮔﮭﺮﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ
ﺑﮭﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ)
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﮨﺎﮞ ﺟﯽ ﻧﻮﮐﺮﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﯿﮟ ..
ﻟﮍﮐﺎ : ﺍﺳﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺎﺻﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ؟؟؟ (ﻧﻮﮐﺮﻭﮞ
ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ)
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﮨﺎﮞ ﺟﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺎﺻﯽ ﮨﮯ ..
ﻟﮍﮐﺎ : ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭﺁﭖ ﮐﯽ
ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ۔ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ
ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔!
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﺑﺲ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯﺳﮯ ” ﻟﻮﺟﮑﺲ”
ﮐﯿﺴﮯ ﮐﻠﯿﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺷﯿﺪﺍ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺩﺑﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ :
ﺷﯿﺪﺍ : ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ ﺟﻮ ﻟﮍﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﺍ؟؟
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﺷﯿﺪﮮ , ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ “ﻟﻮﺟﮑﺲ” ﮐﻠﯿﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ
ﮨﯿﮟ ..
ﺷﯿﺪﺍ : ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ “ﻟﻮﺟﮑﺲ” ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ؟
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ” ﻟﻮﺟﮑﺲ” ﻣﻨﻄﻖ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ..
ﺷﯿﺪﺍ : ﯾﮧ ﻣﻨﻄﻖ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﻣﻴﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﮐﻮ۔۔۔۔
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﺷﯿﺪﺍ : ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ , ﻣﯿﺮﮮﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ..
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﯿﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ..!!

یہی اعلی ظرفی ھے


یہی اعلی ظرفی ھے
رشتے اور دوستیاں استوار کرنے کے معاملے میں ہم اگر دوسروں کے ساتھ زبردستیاں کرنی چھوڑ دیں تو ذندگی قدرے آسان ہو سکتی ھے۔ ھم ذندگی کے داخلی اور خارجی راستوں پر پہرے نہیں بٹھا سکتے۔ بس جو آئے اس کو خوش دلی سے خوش آمدید کہیں اور جو جانا چاھے اسے الوداع کہہ کر رخصت کر دیں، یہی اعلی ظرفی ھے۔۔ کیونکہ اگر یہ طے پا چکا ھے تو یہ ہو کر رھے گا۔ ہماری زبردستی سوائے ہمیں تکلیف میں مبتلا کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی۔

Download Urdu Quotes & Poetry | Jaun Elia Poetry | Live Urdu Magazine

Kaash ! Main Paida Hi Na Hui Hoti


کاش میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی …. !!

اس کا چہرہ آسمان کی طرف تھا، آنکھوں سے آنسو بہہ کر گالوں پر آرہے تھے اور ہچکیاں لے لے کر بس ایک ہی دعا مانگ رہی تھی کہ کاش میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی، یہ صرف اس کی ہی نہیں اس جیسی سینکڑوں لڑکیوں کے دل سے نکلنے والی دعا ہے جو روز آسمان کر چیرتی ہے، اس بیچاری کا کوئی قصور بھی نہیں تھا، وہ تو بس تھوڑی موٹی تھی، حالانکہ نین نقش مناسب تھے پڑھی لکھی حافظ قرآن تھی، پانچ وقت کی نماز پڑھنے والی اور اپنے اللہ کو راتوں کو جاگ کر یاد کرنے والی تھی
.
لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اس معاشرے میں باپردہ، پانچ وقت کی نمازی اور پرہیزگار لڑکی کی ضرورت اب نہیں رہی ، یہاں پر حوس کے پجاری نوجوان اپنی جسمانی تسکین کیلئے خوب صورت لڑکی کا انتخاب کرتے ہیں اور ان میں ان نوجوانوں سے زیادہ ان کی ماوں کا قصور ہے جن کی خواہش ہوتی ہے بیٹا خود جیسا بھی ہو لیکن بیٹے کیلئے خوبصورت لڑکی ڈھونڈیں جس کو پورے خاندان والے بھی اوپر سے نیچے تک جانوروں کی طرح دیکھیں، محلے میں بھی واہ واہ ہو اور بیٹا بھی خوب دل لگا کر اپنے نئی نویلی دلہن سے پیار کرے-
.
جب یہ خوب صورت لڑکی تھوڑے پر نکالتی ہے تو والدین پچھتاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے تو بس خوبصورتی دیکھی تھی کاش سیرت دیکھ لیتے اور پھر نوبت لڑائی جھگڑوں تک آجاتی ہے، بیٹا یا تو ماں کو چھوڑ دیتا ہے یا بیوی کو چھوڑ دیتا ہے غرض ایک انمول رشتہ ختم ہو جاتا ہے-
.
کسی نے نہیں سوچا کہ ان لڑکیوں کا کیا ہوگا…؟ جو اتنی پیاری نہیں، دیکھنے میں سمارٹ بھی نہیں، ان کے بھی ارمان ہوں گے ان کی بھی تمنا ہوگی کہ کوئی ہو جو ان کا اپنا ہو جس کے کندھے پر سر رکھ کر وہ بھی تھوڑا سکون کرلیں، وہ بھی پسند پسند کے کھانے پکائیں، ہنسیں، مسکرائیں لیکن کون ہے…؟ جو آج کے دور میں ایسی لڑکی سے شادی کرے گا، سب کے سب مطلبی ہیں-
.
جو لڑکیاں موبائل فون پر بات نہیں کرتیں ، جو پردہ کرکے گھروں سے نکلتی ہیں یہ سوچ کر کہ وہ صرف اس شخص کیلئے بنی ہیں جس سے ان کا نکاح ہوگا اس سے پہلے وہ اپنا آپ کسی کو نہیں دکھائیں گی، سوچتا ہوں کتنی بے وقوف لڑکیاں ہیں…؟، کیا ضرورت ہے پردہ کرنے کی…؟، باحیا ہونے کی…؟
.
موبائل پر دوست بنائیں، بے حیاوں کی دنیا میں بے حیا بن کر رہیں، یہ دنیا اچھے لوگوں کیلئے بنی ہی نہیں اورنہ ہی اچھے لوگوں کو برداشت کرتی ہے، جھوٹ، فریب، بے

حیا معاشرے میں صرف بے حیا لوگوں کی ہی قدر کی جاتی ہے ۔

Download Urdu Quotes & Poetry | Jaun Elia Poetry | Live Urdu Magazine

لوگ اب بھی ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے ھیں


حضرت شمس تبریز رحمت اللہ علیہ بغداد کی حدود سے نکلے ھی تھے کہ اچانک بادشاہ کا بیٹا بیمار پڑ گیا اور دوسرے دن مر گیا. بادشاہ کو گمان گزرا شاید یہ سب واقعہ حضرت شمس تبریز رح سے بدسلوکی کی وجہ سے رونما ھوا ھے. بادشاہ نے اپنے مشیران کو حکم دیا. کوئی بھی صورت ھو انہیں بغداد واپس لاو.
حکم پاتے ھی مشیران تیز گھوڑوں پر سوار ہو کر دوڑ پڑے. شاھی قاصدوں نے انھیں جا لیا پھر دست بدست عرض کی حضور واپس بغداد تشریف لے چلیں
یہ سن کر حضرت شمس رح کے چہرے پر اذیت کا رنگ ابھر آیا کل جس جگہ مجھے ذلیل کیا گیا آج پھر اسی مقام پر جانے کا کہ رھے ھو؟؟؟؟
حضرت شمس رح نے انکار کر دیا لیکن شاھی کارندے بہت دیر تک عاجزی کا مظاہرہ کرتے رھے تو آپ کو ان پر رحم آ گیا
جب آپ شاھی محل پہنچے وہاں صف ماتم بچھی ھوئ تھی
یہ سب کیا ھے آپ نے بادشاہ سے پوچھا
یہ میرے جواں مرگ بیٹے کی میت ھے آپ کے بغداد سے جاتے ھی اچانک بیمار ھوا اور دیکھتے ھی دیکھتے آغوش فنا میں چلا گیا
میں سمجھتا ھوں آپ کی دل آزاری کے باعث میرا بیٹا اس انجام کو پہنچا. شدت غم سے بادشاہ کی آواز کانپ رھی تھی.
فی الواقع اگر یہی بات ھے تو آپ کے بیٹے کو سزا کیوں ملی؟؟؟ گناہ تو آپ نے کیا تھا. حضرت شمس رح نے فرمایا
ممکن ھے قدرت نے. میرے لیے یہی سزا منتخب کی ھو کہ تمام عمر بیٹے کی جدائی میں تڑپتا رہوں. بادشاہ نے کہا.
میری درخواست ھے کہ آپ میرے بیٹے کے حق میں دعائے خیر فرما دیں. بادشاہ نے کہا ھو سکتا ھے آپ کی دعاؤں سے اسے نئی زندگی مل جائے.
ایسا ھوتا تو نہیں ھے پھر بھی تمہاری تالیف قلب کے لیے مالک کی بارگاہ میں عرض کیے دیتا ھوں. ایوان شاھی کے ایک کمرے میں ابھی دعا کے الفاظ کی گونج باقی ھی تھی کہ شہزادے کے جسم کو جنبش ھوئ اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور حیرت زدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا
یہ منظر دیکھ کر بادشاہ حضرت شمس تبریز رح کے قدموں میں گر گیا کہ یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ھے
ھرگز نہیں یہ تو قادر مطلق کی کرم نوازی کا ادنی سا مظاہرہ ھے جو اپنی ذات میں لاشریک ھے اسی کا شکر ادا کرو. آپ رح نے فرمایا.
یہی کرامت آپ کے لیے وبال جان بن گئی. لوگوں نے آپکو شعبدے باز کہا اور آپ کے خلاف صف آراء ھو گیے.
حضرت شمس تبریز رح کی کھال کھینچ لی گئی اسی حالت میں بغداد سے نکال دیا جب آپ لہو لہان تھے
ولی عہد سلطنت شہزاد محمد کو آپ سے بہت عقیدت تھی جب آپ شہر بدر ھوے تو شہزاد محمد بھی آپ کے ساتھ ھو لیے.
بغداد سے نکل کر ھندوستان کا رخ کیا اور طویل مسافت کے بعد ملتان پہنچے اور سکونت اختیار کی
ملتان کے لوگوں نے بھی اھل بغداد کی طرح آپ کی مخالفت کی. ایک بار یوں ھوا حضرت شمس رح کو گوشت بھوننے کے لیے آگ کی ضرورت پیش آئی آپ نے شہزاد محمد کو آگ لانے کے لیے بھیجا مگر پورے شہر میں سے کسی نے بھی آگ نہ دی ایک سنگدل شخص نے اس وجہ سے شہزادے کو اتنا مارا کہ چہرے پر زخموں نے نشان ابھر آے.
واپس آ کر شہزاد نے پورہ واقع سنایا تو آپ رح کو جلال آ گیا آپ نہایت غصے کی حالت میں خانقاہ سے نکلے گوشت کا ٹکڑا ھاتھ میں تھا پھر حضرت شمس رح نے آسمان پر نظر کر کے سورج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
؛ تو بھی شمس میں بھی شمس اس گوشت کے ٹکڑے کو بھون دے؛
اتنا کہنا تھا کہ گرمی کی شدت میں اضافہ ھو گیا پھر یہ گرمی اتنی بھڑی کہ اھل ملتان چیخ اٹھے پورا شہر آگ کی بھٹی بن کہ رہ گیا
کچھ باخبر لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ کیا چند نادانوں کے جرم کی سزا پورے شہر کو دے ڈالیں گے. آپ رح نے فرمایا
یہ نادان نہیں سفاک ھیں آگ جیسی بے قیمت چیز نہیں دے سکتے میرے محبوب کے چہرے کو زخموں سے سجا دیا آخر اس کا جرم کیا تھا. جانتے ھو یہ کون ھے؟؟؟ بغداد کا شہزادہ میری خاطر بھیک مانگنے گیا لیکن اس کو شہر والوں سے زخم ملے. ان جب تک سارے شہر کے جسم آبلوں سے نہیں بھر جائیں گے مجھے قرار نہیں آے گا.
خدا کے لیے انہیں معاف کر دیں. ملتان کے داناے راز حضرات نے شفارس کرتے ھوے کہا.
خیر جب خدا کو درمیان میں لے آے ھو تو معاف کیے دیتا ھوں. آپ رح نے فرمایا .
پھر سورج سے مخاطب ھوے اپنی حرارت کم کر دے معلوم نہیں یہ لوگ روز حشر کی گرمی کیسے برداشت کریں گے. آپ کا یہ فرمانا تھا سورج کی حرارت اعتدال پر آ گئی.
لوگ اب بھی ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے ھیں…
از؛ نور الہی کے پروانے.. مصنف محمد اسلم لودھی
احمد

Download Urdu Quotes & Poetry Collection ||  Download Jaun Elia Famous Poetry Collection

%d bloggers like this: