Category Archives: اردو شاعری

Hum Tera Naaz They, Phir Teri Khushi ki Khatir – Joun Elia


Download John Elia Poetry

ہم بصد ناز دل و جاں‌ میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے

ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے

کج ادائی سے سزا کج کُلہی کی پائی
میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے

کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں‌ جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے

ہم سے روٹھا بھی گیا یم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے

جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں‌ کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے

جون! دل َ شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر توّہم کے بسائے بھی گئے

Download Urdu Quotes & Shayari

Advertisements

Zindagi Ki Raahon Main – Mohsin Nizami


اردو شاعری اور اقوال زریں

زندگی کی راہوں میں

بار ہا یہ دیکھا ہے

صرف سُن نہیں رکھا

خود بھی آزمایا ہے

جو بھی پڑھتے آئے ہیں

اسکو ٹھیک پایا ہے

اسطرح کی باتوں میں

منزلوں سے پہلے ہی

ساتھ چھوٹ جاتے ہیں

لوگ روٹھ جاتے ہیں

یہ تمہیں بتا دوں میں

چاہتوں کے رشتوں میں

پھر گرہ نہیں لگتی

لگ بھی جائے تو اُس میں

وہ کشش نہیں رہتی

ایک پھیکا پھیکا سا رابطہ تو رہتا ہے

تازگی نہیں رہتی

۔۔۔ روح کے تعلق میں

زندگی نہیں رہتی ۔۔۔

بات پھر نہیں بنتی

لاکھ بار مل کر بھی

دل کبھی نہیں ملتے!

ذہن کے جھروکوں میں

سوچ کے دریچوں میں

تتلیوں کے رنگوں میں

پھول پھر نہیں کھلتے!

اس لئیے میں کہتا ہوں

اس طرح کی باتوں میں

احتیاط کرتے ہیں

اسطرح کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں!

(محسن نظامی)

Meri Zaat Ke Andar Jo Jungle Hai


مجھے کچھ باخبر لوگوں نے
جنگل سے نکلنے کے کئی رستے بتائے تھے
میں جنگل سے نکل آیا
میں خوش تھا
جان چھوٹی
اب نئی دنیا بساؤں گا
میں اپنی سوچ سے،تدبیر سے
دھرتی کی بے ترتیب راہوں کو
نئی ترتیب دوں گا
خوبصورت شہر،
سندر بستیاں آباد کر دوں گا
مگر اب ایک مدت سے
مجھے محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے میری ہر تدبیر،
ہر اک سوچ باطل تھی
جو میں نے بستیاں آباد کی تھیں
شہر جو میں نے بسائے تھے
وہاں اب بھوک ہے،افلاس ہے
نفرت ہی نفرت ہے
جو میرے خواب تھے ،جو سوچ تھی
وہ بے اماں دہشت زدہ ماحول میں
سر پکڑے بیٹھی ہے
مجھے لگتا ہے جیسے سفر سارا رائیگاں ٹھیرا
میں پھر جنگل کی جانب جا رہا ہوں
کہ میری ذات کے اندر جو جنگل ہے
میں اس جنگل سے باہر آ نہیں پایا

IshQ aur Love Shayari

Aankhon Se Mere Is Liye Laali Nahi’n Jaati – Ghazal


Download Urdu Aqwal e Zareen & Shayari

آنکھوں سے میرے اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی
مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھےدےدیں
تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی
آئے کوئی آ کر یہ تیرے درد سنبھالے
ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی
معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے تیرے قصے
یہ بات تیری ہم سے اچھالی نہیں جاتی
ہمراہ تیرے پھول کھلاتی تھی جو دل میں
اب شام کوئی درد سے خالی نہں جاتی
ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی
تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی..

Ghazal – Aurat – Saghar Siddiqui


اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی

ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی

جبینوں پہ نور مسرت نہ ہوتی نگاہوں میں شانِ مروت نہ ہوتی

گھٹاؤں کی آمد کو ساون ترستے فضاؤں میں بہکی بغاوت نہ ہوتی

فقیروں کو عرفان ہستی نہ ملتا عطا زاہدوں کو عبادت نہ ہوتی

مسافر سدا منزلوں پر بھٹکتے سفینوں کو ساحل کی قربت نہ ہوتی

ہر اک پھول کا رنگ پھیکا سا ہوتا نسیم بہاراں میں نکہت نہ ہوتی

خدائی کا انصاف خاموش رہتا سنا ہے کسی کی شفاعت نہ ہوتی​

(ساغر صدیقی)

 

Keep Visiting Urdu Adab – Urdu Shayari Blog and Read More Literature Posts.

Shareer Chiryo – شریر چڑیو


شریر چڑیو!
سنو مجھے اک گلہ ہے تم سے
کہ منہ اندھیرے
تمہاری بک بک، تمہاری جھک جھک
تمہاری چوں چاں
سماعتوں پر تمہاری دستک
ہے غل مچاتی، مجھے جگاتی، بڑا ستاتی
شریر چڑیو!

یہ تم نہ جانو
میں رات مشکل سے سو سکی تھی
اداسیوں کے سمندروں میں
میں اپنی آنکھیں ڈبو چکی تھی
بہت سے تکیے بھگو چکی تھی
چلے گئے سب ہی جاننے والے
ڈسیں جدائی کے ناگ کالے
پڑے ہیں کیوں مجھ کو جاں کے لالے
یہ تم نہ جانو، یہ تم نہ جانو
شریر چڑیو!

ہے چہچہانا اگر ضروری
نئی سحر کی نوید لاؤ
کوئی نویلا سا گیت گاؤ
مجھے جگانا ہے گر ضروری
تو سن لو پہلے شریر چڑیو!
مرے مقدر جو ایک مدت سے سو رہے ہیں
انہیں جگاؤ، شریر چڑیو انہیں جگاؤ

Chidriya Ghazal

Tohmaten To Lagti Hen


اُن کو کیا خبر جاناں !!

تہمتیں تو لگتی ہیں
روشنی کی خواہش میں
گھر سے باہر آنے کی کُچھ سزا تو ملتی ہے
لوگ لوگ ہوتے
ان کو کیا خبر جاناں !
آپ کے اِرادوں کی خوبصورت آنکھوں میں
بسنے والے خوابوں کے رنگ کیسے ہوتے ہیں
دل کی گود آنگن میں پلنے والی باتوں کے
زخم کیسے ہوتے ہیں
کتنے گہرے ہوتے ہیں
کب یہ سوچ سکتے ہیں
ایسی بے گناہ آنکھیں
گھر کے کونے کھدروں میں چھُپ کے کتنا روتی ہیں
پھر بھی یہ کہانی سے
اپنی کج بیانی سے
اس قدر روانی سے داستان سنانے
اور یقین کی آنکھیں
سچ کے غمزدہ دل سے لگ کے رونے لگتی ہیں
تہمتیں تو لگتی ہیں
روشنی کی خواہش میں
تہمتوں کے لگنے سے
دل سے دوست کو جاناں
اب نڈھال کیا کرنا
تہمتوں سے کیا ڈرنا

Reza Reza Sapno Walay


ریزہ ریزہ سپنوں والے
ٹوٹے چہرے
آدھے لوگ
جانے والے کب آتے ہیں
کیوں کرتے ہیں وعدے لوگ

آس میں بیٹھی شہزادی کی
مانگ میں چاندی جھانک چکی
اتنی دیر سے کیوں آتے ہیں
آخر یہ شہزادے لوگ

پیار کی راہ پہ انگلی تھامے
اندھا دھند چل پڑتی ہیں
نا سمجھی میں مر جاتے ہیں
ہم سے سیدھے سادے لوگ

ہم دونوں میں کون ہے مجرم
یہ طے ہونا مشکل ہے
آدھا شہر تھا حامی اسکا
ساتھ تھے میرے آدھے لوگ .

Also Read:

Best 2 Line Urdu Poetry

%d bloggers like this: