Category Archives: Urdu Islamic Stories

لوگ اب بھی ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے ھیں


حضرت شمس تبریز رحمت اللہ علیہ بغداد کی حدود سے نکلے ھی تھے کہ اچانک بادشاہ کا بیٹا بیمار پڑ گیا اور دوسرے دن مر گیا. بادشاہ کو گمان گزرا شاید یہ سب واقعہ حضرت شمس تبریز رح سے بدسلوکی کی وجہ سے رونما ھوا ھے. بادشاہ نے اپنے مشیران کو حکم دیا. کوئی بھی صورت ھو انہیں بغداد واپس لاو.
حکم پاتے ھی مشیران تیز گھوڑوں پر سوار ہو کر دوڑ پڑے. شاھی قاصدوں نے انھیں جا لیا پھر دست بدست عرض کی حضور واپس بغداد تشریف لے چلیں
یہ سن کر حضرت شمس رح کے چہرے پر اذیت کا رنگ ابھر آیا کل جس جگہ مجھے ذلیل کیا گیا آج پھر اسی مقام پر جانے کا کہ رھے ھو؟؟؟؟
حضرت شمس رح نے انکار کر دیا لیکن شاھی کارندے بہت دیر تک عاجزی کا مظاہرہ کرتے رھے تو آپ کو ان پر رحم آ گیا
جب آپ شاھی محل پہنچے وہاں صف ماتم بچھی ھوئ تھی
یہ سب کیا ھے آپ نے بادشاہ سے پوچھا
یہ میرے جواں مرگ بیٹے کی میت ھے آپ کے بغداد سے جاتے ھی اچانک بیمار ھوا اور دیکھتے ھی دیکھتے آغوش فنا میں چلا گیا
میں سمجھتا ھوں آپ کی دل آزاری کے باعث میرا بیٹا اس انجام کو پہنچا. شدت غم سے بادشاہ کی آواز کانپ رھی تھی.
فی الواقع اگر یہی بات ھے تو آپ کے بیٹے کو سزا کیوں ملی؟؟؟ گناہ تو آپ نے کیا تھا. حضرت شمس رح نے فرمایا
ممکن ھے قدرت نے. میرے لیے یہی سزا منتخب کی ھو کہ تمام عمر بیٹے کی جدائی میں تڑپتا رہوں. بادشاہ نے کہا.
میری درخواست ھے کہ آپ میرے بیٹے کے حق میں دعائے خیر فرما دیں. بادشاہ نے کہا ھو سکتا ھے آپ کی دعاؤں سے اسے نئی زندگی مل جائے.
ایسا ھوتا تو نہیں ھے پھر بھی تمہاری تالیف قلب کے لیے مالک کی بارگاہ میں عرض کیے دیتا ھوں. ایوان شاھی کے ایک کمرے میں ابھی دعا کے الفاظ کی گونج باقی ھی تھی کہ شہزادے کے جسم کو جنبش ھوئ اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور حیرت زدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا
یہ منظر دیکھ کر بادشاہ حضرت شمس تبریز رح کے قدموں میں گر گیا کہ یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ھے
ھرگز نہیں یہ تو قادر مطلق کی کرم نوازی کا ادنی سا مظاہرہ ھے جو اپنی ذات میں لاشریک ھے اسی کا شکر ادا کرو. آپ رح نے فرمایا.
یہی کرامت آپ کے لیے وبال جان بن گئی. لوگوں نے آپکو شعبدے باز کہا اور آپ کے خلاف صف آراء ھو گیے.
حضرت شمس تبریز رح کی کھال کھینچ لی گئی اسی حالت میں بغداد سے نکال دیا جب آپ لہو لہان تھے
ولی عہد سلطنت شہزاد محمد کو آپ سے بہت عقیدت تھی جب آپ شہر بدر ھوے تو شہزاد محمد بھی آپ کے ساتھ ھو لیے.
بغداد سے نکل کر ھندوستان کا رخ کیا اور طویل مسافت کے بعد ملتان پہنچے اور سکونت اختیار کی
ملتان کے لوگوں نے بھی اھل بغداد کی طرح آپ کی مخالفت کی. ایک بار یوں ھوا حضرت شمس رح کو گوشت بھوننے کے لیے آگ کی ضرورت پیش آئی آپ نے شہزاد محمد کو آگ لانے کے لیے بھیجا مگر پورے شہر میں سے کسی نے بھی آگ نہ دی ایک سنگدل شخص نے اس وجہ سے شہزادے کو اتنا مارا کہ چہرے پر زخموں نے نشان ابھر آے.
واپس آ کر شہزاد نے پورہ واقع سنایا تو آپ رح کو جلال آ گیا آپ نہایت غصے کی حالت میں خانقاہ سے نکلے گوشت کا ٹکڑا ھاتھ میں تھا پھر حضرت شمس رح نے آسمان پر نظر کر کے سورج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
؛ تو بھی شمس میں بھی شمس اس گوشت کے ٹکڑے کو بھون دے؛
اتنا کہنا تھا کہ گرمی کی شدت میں اضافہ ھو گیا پھر یہ گرمی اتنی بھڑی کہ اھل ملتان چیخ اٹھے پورا شہر آگ کی بھٹی بن کہ رہ گیا
کچھ باخبر لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ کیا چند نادانوں کے جرم کی سزا پورے شہر کو دے ڈالیں گے. آپ رح نے فرمایا
یہ نادان نہیں سفاک ھیں آگ جیسی بے قیمت چیز نہیں دے سکتے میرے محبوب کے چہرے کو زخموں سے سجا دیا آخر اس کا جرم کیا تھا. جانتے ھو یہ کون ھے؟؟؟ بغداد کا شہزادہ میری خاطر بھیک مانگنے گیا لیکن اس کو شہر والوں سے زخم ملے. ان جب تک سارے شہر کے جسم آبلوں سے نہیں بھر جائیں گے مجھے قرار نہیں آے گا.
خدا کے لیے انہیں معاف کر دیں. ملتان کے داناے راز حضرات نے شفارس کرتے ھوے کہا.
خیر جب خدا کو درمیان میں لے آے ھو تو معاف کیے دیتا ھوں. آپ رح نے فرمایا .
پھر سورج سے مخاطب ھوے اپنی حرارت کم کر دے معلوم نہیں یہ لوگ روز حشر کی گرمی کیسے برداشت کریں گے. آپ کا یہ فرمانا تھا سورج کی حرارت اعتدال پر آ گئی.
لوگ اب بھی ملتان کی گرمی کو اسی واقعے کا نتیجہ سمجھتے ھیں…
از؛ نور الہی کے پروانے.. مصنف محمد اسلم لودھی
احمد

Download Urdu Quotes & Poetry Collection ||  Download Jaun Elia Famous Poetry Collection

اہل مغرب مریخ پر زندگی تلاش کر رہا ہے اور مسلمان آلو پر اللہ تلاش کر رہا ہے۔


کہنے تو یہ جملہ بڑا بامعنی لگتا ہے۔ اس میں غلط بھی کچھ نہیں ہے۔ مغرب سچ مچ مریخ پر زندگی تلاش کر رہا ہے اور مسلمان آلو پر اللہ کا نام تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ جملہ سچ مچ بامعنی ہے؟ تھوڑی دیر کے لئے کچھ اور جملوں پر غور کریں۔
مسلمان عورتیں پردہ کرتی ہیں اور مغرب کے مرد جینز پہنتے ہیں۔۔!
مسلمان جنت کے حصول کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور مغرب میں لوگ بی ایم ڈبلیو گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔۔!
مسلمان کرتا پہنتا ہے اور مغرب میں لوگ پتلون پہنتے ہیں۔
ویسے تو یہ جملے کچھ غلط نہیں ہیں۔ مسلمان عورتیں سچ مچ پردہ کرتی ہیں ، مسلمان جنت کے حصول کے لئے کوشش بھی کرتا ہے اور مسلمان کرتا بھی پہنتا ہے۔ مغرب میں مرد جینز پہنتے ہیں، وہ بی ایم ڈبلیو گاڑی میں سفر بھی کرتے ہیں اور مغرب پتلون بھی پہنی جاتی ہے۔ صحیح ہونے کے باوجود جو بھی ان جملوں کو پڑھے گا وہ انہیں کم از کم لغویات قرار دے گا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی سب عورتیں پردہ نہیں کرتیں اور مسلمانوں کے پردہ کرنے اور مغرب میں مردوں کے جینز پہننے کا کوئی منفی یا مثبت تعلق نہیں ہے اور مسلمان مرد بھی جینز پہنتے ہیں۔ اس لئے اس جملے میں کچھ غلط نہ ہونے کے باوجودیہ جملہ انتہائی غلط اور احمقانہ ہے۔
مسلمان جنت کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے اور مغرب کے بہت سارے مسیحی بھی اپنی دانست میں جنت کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے قطع نظر اس سے کہ ان کی یہ کوشش کامیاب ہوگی یا نہیں۔ بی ایم ڈبلیو میں مسلمان بھی سفر کرتے ہیں اور بی ایم ڈبلیوں میں سفر کرنے اور جنت کے حصول کے لئے کوشش کرنے میں کوئی تناقض نہیں ہے۔ اس لئے یہ جملہ بھی لغو ہے۔
اسی پر آپ تیسرے جملے کو بھی قیا س کرسکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ کچھ جملے صحیح ہونے کے باوجود بے معنی اور لغو ہوتے ہیں۔
علم منطق کی ایک اصطلاح ہے جسے فالس ڈیکوٹامی* کہتے ہیں۔ اس میں ایک فریق اپنی غلط بات کو ثابت کرنے کے لئے دو ایسی چیزوں کو بطور ضدین کے پیش کرتا ہے جو کہ در اصل ضدین ہوتے نہیں۔
اب اسی منطق کےتناظر میں اس جملے پر غور کریں۔
اہل مغرب مریخ پر زندگی تلاش کر رہا ہے اور مسلمان آلو پر اللہ تلاش کر رہا ہے۔
اس اعتبار سے یہ بات سچ مچ افسوسنا ک ہے کہ مسلمان ممالک میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو سائنسی ترقی میں مغرب کے مقابلے پر کیا قریب بھی ہو۔لیکن کیا آلو پر اللہ کے نام کی تلاش کرنے والے صرف مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں؟ کتنی بار ایسا ہوا کہ مغرب کے مسیحی حضرات کو بادلوں میں، پہاڑوں میں فروٹوں میں جیسس کا نام اور شکل نظر آئی ۔۔؟ اتنا ہی نہیں, مغربی ممالک میں کتنی ہی بار مختلف گروہوں نے قیامت کی تاریخ کا اعلان کیا بلکہ جمع ہوکر مسیح کے اترنے کا انتظار بھی کرتے رہے۔ اور ویسے بھی صدر بش کو عراق اور افغانستان پر حملہ کرنے کی ترغیب کے لئے عجیب و غریب آوازیں بھی سنائی دیتی رہی۔اس سب کے باوجود مغرب سائنسی اور علمی ترقی کرتا رہا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔
دراصل آلو پر اللہ کے نام کو تلاش کرنے والی دینداری ہر جگہ پائی جاتی ہے۔انسانوں کاآئی کیو لیول ایک نہیں ہوتا۔ ہر معاشرے میں بے وقوف اور سادہ لوح انسان پائے جاتے ہیں۔ آپ کوشش کر کے بھی اس طرح کے لوگوں کو معاشرے سے ختم نہیں کرسکتے۔ بلکہ بعض دفعہ انسانوں میں عجیب کامپلیکس قسم کی نفسیات پائی جاتی ہے کہ آپ کو ایسے بندے ملیں گے جو سائنسی اعتبار سے انتہائی ترقی یافتہ ہونے کے باوجود توہم پرستانہ خیالات رکھتے ہوں۔
اس اعتبار سے زیر بحث جملہ ایک لغو اور فالس ڈیکوٹامی ہے۔ مسلمانوں میں بہت سارے سادہ لوح لوگ پائے جاتے ہیں جنہیں پھلوں، سبزیوں، بادلوں اور پہاڑوں پر خدا کا نام نظر آجاتا ہے۔ لیکن اس بات کا کوئی تعلق مسلمانوں کی سائنسی ترقی نہ ہونے سے نہیں ہے۔ اس طرح کےسادہ لوح لوگ شاید سائنسی ترقی میں کوئی کردار ادا نہ کریں لیکن جو اس طرح کے نہیں ہیں اور جو ایسی دینداری کے نقاد ہیں ان کو چاہئے کہ ان پر تنقید کرنے کے بجائے اپنا سائنسی سفر جاری رکھیں۔ مغرب کی سائنسی کامیابی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اب یہاں ایسے لوگ پائے نہیں جاتے بلکہ ان کی کامیابی کی وجہ یہ ہے جو دوسرے قسم کے لوگ ہیں انہوں نے اپنا کام امانت داری ور دلجمعی کے ساتھ کیا۔ عبدالقدیر خان نے اپنے اوپر جو ذمہ داری لی وہ کرکے دکھائی باجود اس کے کہ پاکستانی معاشرے میں آلو پر اللہ کا نام ڈھونڈنے والے تب بھی پائے جاتے تھے اور اب بھی پائے جاتے ہیں۔ اگر وہ اسی کا رونا لے کر بیٹھ جاتے تو عبدالقدیر کے بجائے پرویز ہودبھائی ہوجاتے۔
سائنسی اور علمی ترقی کا تعلق یونیورسٹی کے علمی معیارات اور سیاست دانوں کی اس بارے میں دلچسپی سے متعلق ہے۔ فی زمانہ یہ دونوں میدان دینی حلقوں کے پاس نہیں بلکہ ان حلقوں کے پاس ہیں جنہیں مولوی نہیں سمجھا جاتا۔ یا ایک اعتبار سے انہیں سیکولر یا دنیاداری کامیدان سمجھا جاتا ہے۔
اس طرح کے فقروں سے یہ تأثر ملتا ہے کہ مسلمان ممالک میں سائنس دان جب بھی ترقی کرتے ہیں تو کوئی اعلان کرتا ہے کہ آلو پر اللہ کا نام دریافت ہوگیا ہے تو سب مسلمان چاہے وہ یونی ورسٹی کے پروفیسر ہوں یا لیباریٹیری میں پائے جانے والے سائنسدان، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کرآلو دیکھنے کے لئے آجاتے ہیں جس کی وجہ سے سائنسی ترقی نہیں ہوپاتی۔یہ کتنا احمقانہ تاثر اسکے لئے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر مسلمان ممالک سائنس میں ترقی نہیں کرسکے تو وہ اس لئے نہیں ہے کہ کچھ سادہ لوح مسلمان آلو پر اللہ کا نام تلاش کرتے ہیں بلکہ اصل وجہ ہے کہ مسلم ممالک میں جن میدانوں کو عام طور پر دنیاداری سمجھا جاتا ہے اس کو چلانے والوں کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ یہ علمی اور سائنسی اداروں کوچلانے والے نکمے تھا یا بدنیت جس کی وجہ سے مسلمان سائنس میں ترقی نہیں کرسکے؟
آلو تو صرف ایک بہانہ ہے نالائق سیکولروں کی ناکامی کو چھپانے کا۔ اچھی خاصی سرکاری اور بیرونی فنڈنگ ہوکر بھی مسلمان کیوں پیچھے ہیں؟ اس کی وجہ آپ کو آلو سے آگے بڑھ کر کہیں اور ڈھونڈنی پڑھے گی۔پرویز ہودبھائی جیسے سائنسدان قوم کو سائنس پڑھانے کے بجائے، مذہب پڑھائیں گے تو اور کیا نتیجہ نکلے گا؟ صرف قوم کا رونا رو کراور مولویوں کو دوچار گالیاں دے کر اصل ذمہ داری دوسروں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

Sabaq Amooz Baaton ke Liye Urdu Adab Updates Haasil Karen aur Is k Ilava aap khubsurat aur dard bhari sher o shayari bhi download kar sktey hen apney zauq ko barhanay k liye.

Facebook Ke Mufti


ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﺑﮍﺍ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺭﮐﺸﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﮐﺮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔۔۔ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ’’ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻗﺪ، ﮐﯿﻨﺴﺮ، ﮨﭙﺎﭨﺎﺋﭩﺲ، ﮔﺮﺗﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ، ﺑﮯ ﺍﻭﻻﺩﯼ، ﻣﻮﭨﺎﭘﮯ، ﺟﻮﮌﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﺩ، ﺍﻣﺮﺍﺽِ ﻣﺨﺼﻮﺻﮧ، ﮐﺎﻟﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ، ﮔﺮﺩﻥ ﺗﻮﮌ
ﺑﺨﺎﺭ، ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ، ﭘﭩﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﻨﭽﺎﺅ ،ﺩﻝ ﮐﮯ
ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ، ﮨﺮ ﻣﺮﺽ ﮐﺎ ﺷﺎﻓﯽ ﻋﻼﺝ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔۔۔
ﻓﺮﺍﺯ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮧ ۔۔۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ، ﺍﮔﻠﮯ ﮨﯽ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔
ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﯿﮩﻮﺩﮦ ﺳﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﺳﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﺟﺐ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﺩﺭﺳﺖ
ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺵ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ،
ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﺳﺎ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ’’ﺑﮍﺍ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﻓﺮﯼ۔۔۔‘‘
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻻﺋﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﯽ ﺗﺮﻏﯿﺐ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ، ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ’’ﭼﺎﺭ ﺩﻓﻌﮧ ﺭﯾﮕﻮﻟﺮ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﻧﻌﺎﻣﯽ ﮐﻮﭘﻦ ﺣﺎﺻﻞ
ﮐﺮﯾﮟ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺁﭖ ﮐﺎ 70 ﺳﯽ ﺳﯽ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺑﮭﯽ
ﻧﮑﻞ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ‘‘ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺒﻮﮞ ﮐﯽ
ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ
ﻧﮑﻞ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺩﻭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﮯ ﻃﻮﯾﻞ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﮔﺌﯽ، ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﭼﮭﻞ ﭘﮍﮮ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﻠﯿﮟ، ﺑﺎﺯﻭ ﭘﺮ ﭼﭩﮑﯽ ﮐﺎﭨﯽ، ﺯﻭﺭ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﺩﯾﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﯽ۔۔۔ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻭﺳﺖ ﻓﺮﺍﺯ ﺑﮭﭩﯽ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﮈ ﺑﮭﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ
ﻧﮑﻠﺘﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ، ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ
ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﮐﺮﮔﮭﮕﮭﯿﺎﯾﺎ’’ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺴﯽ
ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﻧﮧ ﭼﻠﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﮨﻮﮞ۔‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ’’ﺍﻭﮐﮯ، ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﮐﺐ ﺳﮯ ﺣﮑﯿﻢ ﮨﻮﮔﺌﮯ؟ ۔‘‘ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﮩﺮﯼﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ ’’ﺗﻤﮩﯿﮟ
ﺗﻮ ﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﭼﮫ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﭘﺮﺍﺑﻠﻢ ﺗﮭﯽ،
ﺍﺗﻨﮯ ﺣﮑﯿﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﻣﻌﺪﮦ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﮑﻤﺖ ﺁﮔﺌﯽ، ﺍﺏ ﺩﻭﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮧ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ۔‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﻮﺭﺍ’’ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﻌﺪﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ؟‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ’’ﮨﺎﮞ! ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺪﮦ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺧﺮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻭ ﺟﺐ
ﺳﮯ ﺩﻭﺍﺧﺎﻧﮧ ﮐﮭﻮﻻ ﮨﮯ، ﺭﻭﺯ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﮐﯽ ﺩﯾﮩﺎﮌﯼ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﭨﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﻣﻌﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﮭﯽ۔‘‘ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ’’ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ
ﺣﮑﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ
ﮨﻮ؟۔‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ’’ﺍﺑﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮍﮮ ﻭﮨﻤﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﻝ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﮐﯽ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﺧﺮﯾﺪﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﯽ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻟﻔﺮﺽ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﮐﯽ
ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﻮ ﻏﻠﻂ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﺮﯾﺾ ﻻﮐﮫ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻟﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻣﻮﭨﯽ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﮨﻮﮨﯽ
ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮩﯽ ﮐﻮﺗﺎﮨﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺎﻡ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﮑﯿﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ، ﻏﻠﻄﯽ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﮯ۔۔۔‘‘!!!

ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻣﻔﺘﯽ ﺑﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺧﺒﺎﺭِ ﺳﮯ ﺟﻤﻊ ﺷﺪﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﻗﺺ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﻮ ﻋﻮﺍﻡ ﭘﺮ ﺟﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﻋﻮﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ
ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺧﻮﺩ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻟﮩﺬﺍ ﻣﻠﺘﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﻧﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﯾﺌﮯ ﺍﺻﻞ
ﻣﻮﻟﻮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﺳﯿﮑﮭﯿﺌﮯ۔

Get Live Urdu Adab Updates & Best Urdu Aqwal e Zareen & Sad Shayari

Muhabbat Kya Hai ? – Gul Nokhez Akhtar


Get Designed Urdu Poetry & Aqwal e Zareen

ایک طوائف کی بیٹی جوان ہوئی تو ایک دن اپنی ماں سے پوچھنے لگی کہ ’’اماں محبت کیا ہوتی ہے؟؟؟‘‘ طوائف جل کر بولی’’ ہونہہ مفت عیاشی کے بہانے‘‘۔ہمارے ہاں زیادہ تر محبت کی شادیاں‘ نفر ت کی طلاقوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی دھڑا دھڑ محبتیں اور ٹھکا ٹھک طلاقیں جاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ محبت سے نفرت کا سفر ایک شادی کی مار ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ لڑکا لڑکی اگر ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جائیں تو ان کی محبت بڑھنے کی بجائے دن بدن کم ہوتی چلی جاتی ہے؟ ایک دوسرے سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کا آغاز خوبصورت اور انجام بھیانک نکلتا ہے؟؟؟ آخرایک دوسرے کی خاطر مرنے کے دعوے کرنے والے ایک دوسرے کو مارنے پر کیوں تل جاتے ہیں؟؟؟
وجہ بہت آسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلبل کا بچہ کھچڑی بھی کھاتا تھا‘ پانی بھی پیتا تھا‘ گانے بھی گاتا تھا‘ لیکن جب اسے اڑایا تو پھر واپس نہ آیا۔ اس لیے کہ محبت آزادی سے ہوتی ہے‘ قید سے نہیں۔ ہمارے ہاں الٹ حساب ہے‘ جونہی کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے محبت ہوتی ہے‘ ساتھ ہی ایک عجیب قسم کی قید شروع ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
لڑکیوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں’’شکیل اب تم نے روز مجھے رات آٹھ بجے چاند کی طرف دیکھ کر آئی لو یو کا میسج کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ہم چونکہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے ہیں لہذا ہر بات میں مجھ سے مشورہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔روز انہ کم ازکم پانچ منٹ کے لیے فون ضرور کرنا۔۔۔۔۔۔۔میں مسڈ کال دوں تو فوراً مجھے کال بیک کرنا۔۔۔۔۔۔۔فیس بک پر روز مجھے کوئی رومانٹک سا میسج ضرور بھیجنا۔۔۔۔۔۔۔!!!
لڑکوں کی فرمائشیں کچھ یوں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔جان! اب تم نے اپنے کسی Male کزن سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔کپڑے خریدتے وقت صرف میری مرضی کا کلر خریدنا۔۔۔۔۔۔۔وعدہ کرو کہ بے شک تمہارے گھر میں آگ ہی کیوں نہ لگی ہو‘ تم میرے میسج کا جواب ضرور دو گی۔۔۔۔۔۔۔جان شاپنگ کے لیے زیادہ باہر نہ نکلاکرو‘ مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔‘‘
محبت کے ابتدائی دنوں میں یہ قید بھی بڑی خمار آلود لگتی ہے‘ لیکن جوں جوں دن گذرتے جاتے ہیں دونوں طرف کی فرمائشیں بڑھتے بڑھتے پہلے ڈیوٹی بنتی ہیں پھر ضد اور پھر انا کا روپ دھار لیتی ہیں اور پھر نفرت میں ڈھلنے لگتی ہیں۔ اسی دوران اگر لڑکے لڑکی کی شادی ہوجائے تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جاتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں محبت آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے‘ لیکن ہم لوگ اسے مشکلات کا گڑھ بنا دیتے ہیں۔
غور کیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں جن سے محبت ہوتی ہے ہم جگہ جگہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘ ہم اپنے بچے کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر اس کی فیس دیتے ہیں‘ خود بھوکے بھی رہنا پڑے تو اولاد کے لیے کھانا ضرور لے آتے ہیں‘ لائٹ چلی جائے تو آدھی رات کو اپنی نیند برباد کرکے‘ ہاتھ والا پنکھا پکڑ کر بچوں کو ہوا دینے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہم بے شک جتنے مرضی ایماندار ہوں لیکن اپنے بچے کی سفارش کرنی پڑے تو سارے اصول بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ ساری آسانیاں ہوتی ہیں جو ہم اپنی فیملی کو دے رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں اُن سے محبت ہوتی ہے۔
اسی طر ح جب لڑکے لڑکی کی محبت شروع ہوتی ہے تو ابتداء آسانیوں سے ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور یہی آسانیاں محبت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں‘ لیکن آسانیاں جب مشکلات اور ڈیوٹی بننا شروع ہوتی ہیں تو محبت ایک جنگلے کی صورت اختیار کرنے لگتی ہے‘ محبت میں ڈیوٹی نہیں دی جاسکتی لیکن ہمارے ہاں محبت ایک فل ٹائم ڈیوٹی بن جاتی ہے‘ ٹائم پہ میسج کا جواب نہ آنا‘ کسی کا فون اٹینڈ نہ کرنا‘ زیادہ دنوں تک ملاقات نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔۔
ان میں سے کوئی بھی ایک بات ہو جائے تو محبت کرنے والے شکایتی جملوں کا تبادلہ کرتے کرتے زہریلے جملوں پر اُتر آتے ہیں اور یہیں سے واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ جب کوئی کسی کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو محبت بھی اپنا دامن سکیڑنے لگتی ہے‘ میں نے کہا ناں۔۔۔۔۔۔محبت نام ہی آسانیاں پیدا کرنے کا ہے ‘ ہم اپنے جن دوستوں سے محبت کرتے ہیں ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ بھی چونکہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے‘ اس لیے ان کے لیے جا بجا آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
مجھے محبت میں گرفتار ہونے والے بالکل بھی پسند نہیں‘ محبت گرفتاری نہیں رہائی ہے۔۔۔۔۔۔ٹینشن سے رہائی۔۔۔۔۔۔تنہائی سے رہائی۔۔۔۔۔۔مایوسی سے رہائی۔ لیکن ہمارے معاشرے میں محبت ہوتے ہی ٹینشن ڈبل ہو جاتی ہے اور دونوں پارٹیاں ذہنی مریض بن کر رہ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محبت شروع تو ہو جاتی ہے لیکن پوری طرح پروان نہیں چڑھ پاتی۔ لیکن جہاں محبت اصلی محبت کی شکل میں ہوتی ہے وہاں نہ صرف پروان چڑھتی ہے بلکہ دن دوگنی اور’’رات‘‘ چوگنی ترقی بھی کرتی ہے۔
ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں محبت سے مراد صرف جنسی تعلق لیا جاتا ہے‘ یہ محبت کا ایک جزو تو ہوسکتا ہے لیکن پوری محبت اس کے گرد نہیں گھومتی‘ بالکل ایسے جیسے کسی اسلم کا ایک ہاتھ کاٹ کر الگ کر دیا جائے تو اُس کٹے ہوئے ہاتھ کو کوئی بھی اسلم نہیں کہے گا‘ اسلم وہی کہلائے گا جو جڑے ہوئے اعضاء رکھتا ہوگا۔ ویسے بھی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ساری محبت کا انحصار چند لمحوں کی رفاقت کو قرار دے دیا جائے۔
محبت زندان نہیں ہوتی‘ حوالات نہیں ہوتی‘ جیل نہیں ہوتی‘ بند کمرہ نہیں ہوتی‘ کال کوٹھڑی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔محبت تو تاحد نظر ایک کھلا میدان ہوتی ہے جہاں کوئی جنگلے‘ کوئی خاردار تاریں اور کوئی بلند دیواریں نہیں ہوتیں۔ آپ تحقیق کر کے دیکھ لیجئے‘ جہاں محبت ناکام ہوئی ہوگی وہاں وجوہات یہی مسائل بنے ہوں گے۔ ہر کوئی اپنی محبت جتلاتا ہے اور دوسرے کو بار بار یہ طعنے مارتا ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی نہیں جاتی‘ ہو جاتی ہے۔ غلط ہے۔۔۔۔۔۔۔محبت کی ایک چھوٹی سی کونپل دل میں از خود ضرور پھوٹتی ہے لیکن اسے تناور درخت بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ محبت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جہاں شکوے ‘شکایتیں اور طعنے شامل ہو جائیں۔ ایسے لوگ بدقسمت ہیں جو محبت کرنا نہیں جانتے لیکن محبت کر بیٹھتے ہیں اور پھر دوسرے کو اتنا بددل کر دیتے ہیں کہ وہ محبت سے ہی انکاری ہو جاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محبت کی شادی کرنے والے اکثر جوڑوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد اس رستے پر نہ چلے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم میں سے اکثر نے صرف محبت کا نام سنا ہے‘ اس کے تقاضوں سے واقف نہیں۔ ہمیں کوئی پسند آجائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس سے محبت ہو گئی ہے۔ پسند آنے اور محبت ہونے میں بڑا فرق ہے‘ کسی کو پسند کرنا محبت نہیں ہوتا لیکن محبت تک پہنچنے کے لیے پہلا زینہ ضرور ہوتا ہے۔
میں نے بے شمار لوگوں کو انا کے خول میں لپٹے محبت کرتے دیکھا ہے‘ یہ محبت میں بھی اپنی برتری چاہتے ہیں‘ ان کے نزدیک محبت میں بھی سٹیٹس ہوتا ہے‘ حالانکہ محبت میں تو محمود و ایاز کی طرح ایک ہونا پڑتا ہے‘ رہ گئی بات انا کی ‘ تو یہ وقتی سکون تو دے دیتی ہے لیکن اِس کمبخت کے سائڈ ایفیکٹس بہت ہیں!!
انا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن
پھر اُس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے
(اقتباس: گل نوخیز اختر کا کالم “محبت کیا ہے؟”)

میں جب چھوٹاتھا تو قبرستان میں چلا جایا کرتا، تھا


Khoobsurat Urdu shayari aur Aqwal

 

؎ابدی زندگی اورمھمان؎؎
میں جب چھوٹاتھا تو قبرستان میں چلا جایا کرتا، تھا،،
مجھے قبرستان کی خاموشی بڑی اچھی لگا کرتی تھی، ھم چار یار ھوا کرتےتھے، اور قبرستان میں پرندوں کا شکار کیا کرتےتھے،
حلال جانور ھی زیادہ مارتے تھے۔ جن میں فاختہ،کبوتر،چڑیا، لبیڑ،تیتر، وغیرہ،
لیکن ایسے میں کوّا بہت شور کیا کرتا تھا،
جیسےھی ایئرگن کی بیرل آسمان کیطرف اُٹھتی کوّا بھی آسمان سر پر اُٹھا لیتا تھا،
یہ ویسے بھی قبروں پر سے باجرہ،چاول، دال چنتا رھتا تھا،
کیئ زائرین آتے اور ایصال ثواب کے لئےوھاں کافی دانہ ،دُنکا بکھیر دیا کرتے،
کوّا اپنے قریب کسی دوسرے جانور کو برداشت بھی نھی کرتا تھا،لیکن اُن کے شکار کئے جانے پر شور بہت کیا کرتا تھا، اور لوگ کہتے تھے کہ آج پھر قبرستان میں میں کویئ دفن ھونےآرہا ہے،
جب کہ یہ ڈرپوک جانور تو چوکیدار کا ڈنڈا دیکھ کر ھی بھاگ جایا کرتا تھا، چوکیدا ھمیں کچھ کہہ نھی سکتا تھا میرے تایا انجمن کے صدر تھے، اور سارا قبرستان ھماری اپنی بردری سے پُر تھا،ھم درختوں پر چڑھ جایا کرتے اور رَا طوطوں کے بچے نکال کر لے جایا کرتے تھے،
سارا دِن ایسے ھی گُزر جاتا،
کبھی کویئ جنازہ آجاتا تو پڑھ لیا کرتے تھے،اور اگر کویئ جاننے والے نے دیکھ لیا تو گھر شکایات کا انبار لگ جاتا،تھاایک دو دفعہ تو شکایت کرنے والے کو ٹھیک ٹھاک پھینٹی پڑی تو پھر شکایت آنا بند ھو گیئ،
وقت گُزرتا گیا ھم بھی مصروف ھو گیئے، شھر بھی جدید ھو گیا اور کثرت شکارسے پرندے بھی آنا بند ھو گیئے نیئ قبروں کے لیئے جگہ کم پڑی تو درخت بھی کٹنا شروع ھو گیئے،
اب قبرستان کی وہ بات نھی رھی،لیکن سب سے زیادہ کوّے متاثر ھویئے،اب لوگ کم آتے ھیں قبرستان پُر ھو گیا ھے، ،
اور میّیت بھی کم آتی ھیں،
لیکن خاموشی وھی ھے،اگربتیوں کی خوشبو بھی وہی ھے، ہاں اب ھم وہ نہیں ھیں اور دَور وہ نھی ھے، لیکن یاد رھے جانا وھیں ھے، اس کی تیاری کر لیں تو مناسب ھے،

Hamaray Zindagi Ke Muamalaat – Gul Nokhez Akhtar


اردو شاعری اور اقوال

 

دو سال پہلے کی بات ہے ‘ میں شرٹ خریدنے کے لیے ریڈی میڈ کپڑوں کی ایک دوکان میں داخل ہوا جہاں چمکتی روشنیوں میں ایک سے ایک شرٹس جگمگا رہی تھیں۔

ہر شرٹ قیمتی ہینگر میں لٹکی ہوئی تھی اور کچھ اس انداز سے اپنا جلوہ دکھا رہی تھی کہ دیکھتے ہی اپنی طرف کھینچنے لگتی۔

کافی ساری شرٹس دیکھنے کے بعد مجھے ’’سی گرین‘‘ کلر کی ایک شرٹ بہت پسند آئی‘ اس کی قیمت میرے بجٹ سے زیادہ تھی لیکن میں نے جیسے تیسے کرکے اِسے خرید ہی لیا۔

اِس شرٹ کا رنگ روپ بہت شاندار تھا‘ کالر کا ’’بکرم‘‘ نہایت اعلیٰ کوالٹی کا تھا‘ کپڑا بھی بہت عمدہ تھا اور سب سے بڑی بات کہ سائز میں بالکل ٹھیک تھی۔

پہلی دفعہ میں نے یہ شرٹ پہنی تو خاص طور پر خیال رکھا کہ اس پر کوئی داغ نہ لگنے پائے‘ اُس روز میں نے سگریٹ بھی نہیں پیا کہ کہیں راکھ کا کوئی ذرہ میری شرٹ کو خراب نہ کردے۔

میں یہ شرٹ پہن کردوستوں میں گیا تو سب نے بہت تعریف کی‘ مجھے بھی بڑا فخر محسوس ہوا کہ میری چوائس کتنی اچھی ہے۔یہ شرٹ مجھے اپنی ساری شرٹس سے عزیز تھی‘

کہیں جانے کے لیے جب بھی شرٹ کی چوائس کا مسئلہ درپیش ہوتا تو میری نظر اِسی ’’سی گرین کلر‘‘ کی شرٹ پر پڑتی۔

کئی دفعہ تو دوستوں نے مذاق بھی اڑایا کہ لگتا ہے تمہارے پاس ایک ہی شرٹ ہے۔ اب میں انہیں کیا بتاتا کہ مجھے اِس شرٹ سے عشق ہوچکا ہے۔میں نے اس شرٹ کو بلیک اور گرے کلر کی پینٹ کے ساتھ بہت دفعہ پہنا‘

یہ جینز پر بھی سوٹ کرجاتی تھی لہذا ہر بار میری توجہ کا مرکز رہی۔

چھ سات ماہ تک میں اِس شرٹ کے جنون میں مبتلا رہا‘ پھر رفتہ رفتہ کچھ اور شرٹس خرید لیں اور’’سی گرین کلر‘‘ کی یہ شرٹ ہینگر میں لٹکی لٹکی پرانی شرٹس کے ہجوم کی طرف دھیرے دھیرے کھسکنے لگی۔

وقت گذرتا رہا اور ایک سال بعد مجھے یاد بھی نہ رہا کہ میں نے کبھی سی گرین کلر کی کوئی شرٹ بھی پہنی تھی۔ اسی دوران میری کپڑوں کی الماری کا دروازہ خراب ہوگیا اورمیں اسے جتنا بند کرنے کی کوشش کرتا وہ ایک جھٹکے میں دوبارہ کھل جاتا۔ میں نے سوچا کارپینٹر کو بلوانا چاہیے۔۔۔

اور تب بیگم نے مجھے بتایاکہ دروازہ بالکل ٹھیک ہے ‘ اندر کپڑوں کا ڈھیر اتنا بڑھ گیا ہے کہ دروازہ بند نہیں ہورہا۔ بات میری سمجھ میں آگئی تھی لہذا گذارش کی کہ پرانے سارے کپڑے ڈرائیور کو دے دیے جائیں۔

میری بات پر عمل ہوا اوراگلے ہی دن الماری کا دروازہ بڑے آرام سے بند ہونا شروع ہوگیا۔

اب یہ شرٹ میرے ڈرائیور نے پہننا شروع کر دی تھی‘ اسے بھی شائد یہ کلر پسند تھا لہذا ہر تیسرے دن یہی شرٹ پہن کر آجاتا۔

ایک سال تک اس نے یہ شرٹ تواتر سے پہنی ‘ پھر کوئی اور شرٹ پہننے لگا۔میں نے بھی اس تبدیلی پر غور نہیں کیا اورمعاملات یونہی چلتے رہے۔

ایک دن ڈرائیور کا ایک کزن اس کے ساتھ آیا تو اس کے بدن پر یہی شرٹ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ شرٹ اب تیسرے ہاتھ چلی گئی ہے‘

لیکن اب اس شرٹ کا کالر بہت گندہ ہوچکا تھا‘ سامنے کے تین بٹن بھی ٹوٹے ہوئے تھے جن پر کسی اور کلر کے بٹن ٹانک دیے گئے تھے‘ کف کی حالت دیکھ کر بھی لگ رہا تھا کہ کافی دنوں سے دھلائی کا منہ نہیں دیکھا۔

ایک دن میں نے ڈرائیور سے فرمائش کی کہ اب کی بار اپنے گاؤں جاؤ تومیرے لیے کچھ ’’گنے‘‘ ضرور لے کر آنا۔

اس نے حامی بھر لی اور دو تین ہفتوں بعدہی آٹھ دس گنے لیے حاضر ہوگیا۔یہ گنے اُس نے ’’سی گرین کلر‘‘ کی شرٹ سے باندھے ہوئے تھے۔ شرٹ دوبارہ میرے گھر آگئی تھی۔

پہننے کے قابل تو یہ رہی نہیں تھی لہذا طے پایا کہ اسے گاڑی صاف کرنے والے کپڑے کے طور پر استعمال میں لایا جائے۔ تین چارماہ تک یہ شرٹ اپنی چمک کھو کر میری گاڑی کو چمکاتی رہی اور پھر ایک دن کام کرنے والی ماسی نے اسے وائپر کے آگے باندھ کر ’’پوچا‘‘ بنا لیا۔

یہ شرٹ فینائل میں ڈبو کر فرش پر پھیری جاتی اوربعد میں لانڈری کے ایک کونے میں بے حیثیت چیز کی طرح پڑی رہتی۔

بچوں کو حکم تھا کہ نہ اس ’’پوچے‘‘ کو ہاتھ لگانا ہے نہ اس کے قریب سے گذرنا ہے کیونکہ اس میں بہت سے جراثیم ہوتے ہیں۔

وہ شرٹ جس پر میں راکھ کا ذرہ بھی برداشت نہیں کرتا تھا اب انتہائی مہلک چیز کا روپ دھار چکی تھی۔ اِس کا کلر کالا سیاہ ہوچکا تھااور دیکھتے ہی گھن آتی تھی۔ماسی اسے فرش پر پھیرتی اور پھر اچھی طرح سے دھو کر ایک طرف سوکھنے کے لیے رکھ دیتی۔

کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ گنداترین کپڑا کبھی ایک شرٹ تھا اور شہر کی سب سے مہنگی دوکان میں پورے کروفر کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔

چار دن پہلے ’’سی گرین کلر‘‘ کی شرٹ یہ کہہ کر کچرے کے کنٹینر میں پھینک دی گئی کہ اب یہ ’’پوچے‘‘ کے قابل بھی نہیں رہی۔

آج میں آفس جانے کے لیے نکلا تو راستے میں دیکھا کہ کچرا اٹھانے والے دو لڑکے کچرے کے کنٹینر میں سے مڑے تڑے کاغذ‘ گندے شاپنگ بیگ اور پلاسٹک کی خالی بوتلیں اپنے بڑے سے تھیلے میں ڈال رہے ہیں‘ دونوں باری باری شرٹ کو اٹھا کر دیکھتے ہیں اور پھر منہ بنا کر واپس پھینک دیتے ہیں ۔۔۔’’سی گرین کلر‘‘ کی شرٹ اُن کے کسی معیار پر پوری نہیں اتر رہی۔

زندگی میں بہت سی چیزیں ہم بڑے شوق سے خریدتے ہیں‘ ہر چیز کا پہلا لمس‘ پہلی نظر‘ پہلا حصول بہت پرجوش ہوتاہے‘

ہمیں لگتا ہے کہ بس یہی چیز وہ چیز تھی جس کی ہمیں تلاش تھی‘ شروع شروع میں ہم اسے ’’سی گرین شرٹ‘‘ کی طرح سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں‘ کوئی داغ نہیں لگنے دیتے‘ ہر جگہ پہلی ترجیح دیتے ہیں۔۔۔لیکن جوں جوں وقت گذرتاہے ہماری ترجیحات بھی بدلنے لگتی ہیں اور ایک دن وہ بھی آتاہے جب ہماری پسند سب کے لیے ناپسند ہوجاتی ہے۔

جوانی سے بڑھاپے کا سفر بھی سی گرین شرٹ کی طرح ہوتاہے‘ جب تک ہماری روشنیاں اور توانائیاں برقرار رہتی ہیں تب تک دنیا ہمیں نوازتی رہتی ہے ‘لیکن ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل ہوتے ہوتے جب ہم ’’پوچا‘‘بن جاتے ہیں تو گھر کا ایک کونا مقدر میں لکھ دیا جاتاہے

اور بچوں کو سختی سے تنبیہ کر دی جاتی ہے کہ’’ قریب بھی مت جانا‘ اس میں بہت سے جراثیم ہوتے ہیں‘‘۔

اپنی چیزوں کا جائزہ لیجئے اور سوچئے کہ اِنہیں جب آپ نے پہلی بار خریدا تھا تو آپ کتنے خوش تھے‘ آپ نے گھنٹوں اچھی طرح دیکھ بھال کر یہ چیز پسند کی تھی‘ قیمت کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تھا

اور جب گھر لے کر آئے تھے تو کتنے غرور سے اِسے استعمال کیا تھا۔پھر ایسا کیا ہوا کہ یہ چیز رفتہ رفتہ آپ کے دل سے اترتی چلی گئی؟

شائد اس لیے کہ یہی نظام قدرت ہے‘ ہر چیز کو فنا ہونا ہے ۔ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ مارکیٹ میں پڑی کون سی چیز اس کے نصیب میں لکھ دی گئی ہے‘

لیکن ہر جگہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور پڑا ہوا ہے جو صرف ہمارے لیے ہے اور کوئی دوسرا اُسے استعمال نہیں کر سکتا۔

اسی طرح کئی چیزیں ایسی بھی ہیں جنہیں استعمال تو ہم نے کرنا ہے لیکن خریدے گا کوئی اور۔۔۔غالباًحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قول کا مفہوم ہے کہ انسان زندگی کے معاملات میں اتنا مگن ہے کہ اسے پتا ہی نہیں کہ جس کپڑے سے اس کا کفن بننا ہے وہ بازار میں آچکا ہے۔

از گل نوخیز اختر

Ek Larki Ki Khoon Rula Deney Wali Kahaani


Urdu Sher o Shayari aur Achi Baaton ke Liye Yeh App Download Karen

میری کلاس میں ایک لڑکی شازیہ(فرضی نام)پڑھتی ھے وہ ایک فری پریڈ میں میرے پاس آئی اور کہنے لگئی میم مجھے آپ کے دو منٹ مل سکتے ہیں ؟؟
تو میں نے کہا کیوں نہیں بولیں آپ کیا کہنا چاہتی ہیں میں سمجھی کے کوئی تعلیم مدد لینے ھو گئی اکثر لڑکیاں فری پریڈ میں ایسے آ جاتی ہیں
تو اس نے کہا میم آپ آپنے پرانے کپڑے کس کو دیتی ہیں میں اس کی بات سے حیران رہ گئی کہ یہ کیسا سوال ھے –
میں نے پوچھا کہ کیوں آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟
تو اس نے بتایا کہ میم میں بہت غریب گھرانے سے ھوں میرے ساتھ پڑھنے والی لڑکیاں بہت زیادہ امیر ہیں اور وہ روز میری پرانے کپڑوں کا مذاق اڑاتی ہیں میں آپنے گھر سے تعلیم کا خرچا بہت مشکل سے لے رہی ھوں نئے کپڑے کہاں سے لو آپ کی جلدی شادی ھونے والی ھے آپ نے پرانے کپڑے کسی کو تو دینے ہیں مجھے دے دیں – اس کی بات سن کر پہلی بار میں نے اس کے کپڑے دیکھے جو واقعے ہی پرانے ھو گے تھے لیکن سلیقے سے استری کر کے پہنے ھوئے تھے
مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ ہم کسی کی ذات پر بات کرتے ھوئے ایک منٹ بھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں کیا حق پہنچتا ھے کسی کو کمتر کہنے کا یا کسی کے ذاتی معاملے میں ٹانگ آڑانے کا اگر کوئی امیر ھے اور اللہ کا دیا اس کے پاس سب کچھ ھے تو کیا ہمیں یہ حق مل گیا ھے کہ ہم جس کی چاہیں بےعزتی کر دیں کوئی خوف خدا نہیں ھے پلیز اس بات پر سوچیں ایک دن ہم نے بھی اللہ کو منہ دیکھانا ھے جب یہ دکھی دل اللہ کو آپنی پریشانیاں بتائیں گے اور رو رو کر کہیں گے کہ اے اللہ تو نے انھیں دولت دی تھی اور ہمیں نہیں ہمارا کیا قصور تھا تو آپ کو اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا !!
پلیز سوچیں اور لوگوں کے ذاتی معاملات میں دخل دینے سے گریز کریں
کیا پتہ وہ کس حالت میں زندگئی گزار رہے ھوں

Ek Ameer Aurat ka Qissa


Download Urdu Aqwal & Poetry in Your Phone For Free

 

ایک دفعہ بابا جی فرید رحمتہ اللہ علیہ اپنے سیلانی دور میں ایک بستی سے گزرے۔ دیکھا کہ ایک خوبصورت عورت ایک غریب عورت کو مار رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بابا جی نے وجہ دریافت فرمائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اطلاع ملی کہ یہ امیر عورت ایک عشرت گاہ کی مالکہ ہے اور غریب اس کی ملازمہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ مشاطہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دن نوکرانی نے مالکن کو کاجل ڈالا اور اس کے ساتھ کوئی ریت کا ذرّہ بھی تھا جو اس کی خوبصورت آنکھوں میں بڑا تکلیف دہ لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لیے اس نے خادمہ کو مارا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بابا جی اپنے سفر پر گامزن ہو گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک مدت کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا اور اسی بستی کے قبرستان میں قیام کے دوران بابا جی نے ایک عجیب منظر دیکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک چڑیا نے ایک انسانی کھوپڑی میں اپنے بچے دیے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ چڑیا آتی اور چونچ میں خوراک لا کر بچوں کو کھلاتی، لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بچے کھوپڑی کی آنکھوں سے باہر منہ نکالتے اور خوراک لے کر اندر چلے جاتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسانی کھوپڑی کا یہ مصرف بابا جی کو عجیب سا لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے یہ دیکھنے کے لئے مراقبہ کیا کہ یہ کھوپڑی کس آدمی کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو اسی خوبصورت عورت کی ہے جو آنکھ میں ریت کا ذرّہ برداشت نہ کرتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج اس کی آنکھوں میں چڑیا کے بچے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بابا جی نے اس موقع پر فرمایا
جن لوئیں جگ موہیا سو لوئیں میں ڈٹھ
کجرا ریکھ نہ سہندیاں تے پنچھی سوئے بٹھ
( جو آنکھیں جگ کو موہنے والی تھیں آج میں نے وہ آنکھیں دیکھ لیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کاجل میں ریت کا ذرّہ برداشت نہ ہوا آج پنچھی کے بچے اسی آنکھ میں بیٹھے ہیں۔ )
≓≓ ≓≓ ≓≓ ≓≓
واصف علی واصف “حرف حرف حقیقت”

%d bloggers like this: