Hum Tera Naaz They, Phir Teri Khushi ki Khatir – Joun Elia


Download John Elia Poetry

ہم بصد ناز دل و جاں‌ میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے

ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے

کج ادائی سے سزا کج کُلہی کی پائی
میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے

کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں‌ جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے

ہم سے روٹھا بھی گیا یم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے

جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں‌ کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے

جون! دل َ شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر توّہم کے بسائے بھی گئے

Download Urdu Quotes & Shayari

Ism e Azam – اسم اعظم


Download Urdu Poetry & Quotes | Download John Elia’s Poetry

وہ شخص ساری زندگی اسم اعظم کی تلاش میں رہا، اس نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا! وہ جانتا تھا کہ اسم اعظم وہ اللہ کا پاک نام ہے جس سے اسے پکارا جائے تو سارے بگڑے کام بن جاتے ہیں، بہت تحقیق کی ، سب کی رائے مختلف تھی، کوئ کہتا کہ اللہ ہی اسم اعظم ہے، کوئ کہتا کہ حی القیوم اسم اعظم ہے کوئ کہتا ، واحد اسم اعظم ہے۔ اس نے پڑھا تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اسم اعظم کا علم تھا ،یہ مبارک نام ان کی انگوٹھی پر نقش تھا، جس کی وجہ سے ساری دنیا پر انھوں نے حکومت کی۔

اس کا دین سے کوئی خاص لگاؤ بھی نہیں تھا، مگر یہ اسم اعظم کا خیال اس کے سر پر ہمیشہ سوار رہتا ، وہ اللہ کے مختلف نام جو اس کے خیال میں اسم اعظم ہوسکتے ہیں لے کر پکارتا! پھر مشاہدہ کرتا کہ کیا اس سے اس کے حالات میں کوئ تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ مگر اس کے حالات پہلے کی طرح ہی خستہ تھے!

آج وہ سخت مایوس تھا، ہر طرف سے ناکامی کے بعد،جیسے اس نے زندگی کی آرزو ہی چھوڑ دی ہو، اس نے خودکشی کا فیصلہ کیا! اس نے خودکشی کے مختلف طریقوں پر غور کیا، پھر اسے خیال آیا کہ اگر کچھ ادویات زیادہ مقدار میں کھا لی جائیں تو اس سے آدمی مر جاتا ہے۔ اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ کون سی ادویات ہوتی ہیں، اس کے گھر میں ادویات کا ذخیرہ تھا، جو مختلف اقسام کی تھیں! اس میں سیرپ، اور بہت سی گولیاں تھیں، اس نے کافی مقدار میں گولیاں کھائیں اور سیرپ پر سیرپ پینے شروع کردئیے!جب وہ یہ سب کچھ کرچکا ،تو اسے اللہ کا خیال آیا، اسے اس بات کا خیال آیا کہ خودکشی حرام ہے، اور اس کی سزا جہنم ہے۔ اس پر شدید خوف طاری ہوگیا، کچھ اس بات سے کہ وہ عنقریب مرنے والا ہے کچھ اس بات سے کہ جس طریقے سے مر رہا ہے وہ بھی حرام ہے۔

اس نے رونا شروع کردیا، کچھ دیر بعد اٹھا، وضو کیا ، جائے نماز بچھایا اور نماز پڑھنے لگا، اس کے آنسو جائے نماز پر گر رہے تھے۔ نماز کے بعد اس نے دعا کے لیے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے! آج جیسے پہلی بار دل سے دعا کررہا تھا، یااللہ مجھے بچا لے! میں ناسمجھ ہوں، یااللہ میں آئندہ کبھی بھی اس طرح کا عمل نہیں کروں گا۔ کافی دیر تک دعا میں روتا رہا۔ سارا دن پریشان رہا کہ جو اس نے ادویات کھائ ہیں کہیں اس کی وجہ سے اس کا برا حال نہ ہوجائے! مگر دن خیریت سے گزر گیا اور اسے کچھ نہ ہوا!

اب اسے سمجھ آئی کہ اسم اعظم اللہ کو دل سے پکارنے کا نام ہے، چاہے جس نام سے مرضی پکارو! اللہ سنتا ہے۔

یہ مائیں اپنے بچوں کے لیے خدا کی شکل میں کیسے ڈھل جاتیں ہیں ؟


Download Urdu Shayari & Quotes CollectionGet Urdu Adab Live Posts

یہ مائیں اپنے بچوں کے لیے خدا کی شکل میں کیسے ڈھل جاتیں ہیں ؟
تحریر: ڈاکٹر بلند اقبال
بھائی د یکھیں میں کوئی ادیب افسانہ نگار یا اس قسم کے بڑے منصب کا انسان نہ تو تھا نہ ہوں ۔میں تو محض ایک ماں کا بیٹا تھا، بہت سی باتیں تھیں جو مجھے اپنی ماں سے کرنی تھیں اور میں اس بدنما اتفا ق کی و جہ سے کر نہیں پایا ۔کچھ مجھے وقت نہیں ملا کچھ اُنہیں وقت نہیں ملا ۔میں اسillusion میں تھا کہ مائیں مرا ہی نہیں کرتی اور میرے پاس ایک طویل زندگی ہے اُن سے باتیں کرنے کے لیے،اپنے غموں کے پھپولے پھوڑنے کے لیے، اپنی خوشیوں کو شئیر کرنے کے لیے ، بہت کچھ سیکھنا تھا مجھے اُن سے یہ لفظوں کے معنی لفظوں کے باہر ہی کیوں ملتے ہیں ، یہ خیالات آوارہ پرندوں کی طرح گمنام منزلوں کی طرف کیوں پرواز کرتے رہتے ہیں ۔ یہ احساسات جذبوں کے بناء تنہائی سے مر کیوں نہیں جاتے ہیں ، یہ رنگ بے رنگ ہوکر بھی آخر کن رنگوں میں آنکھوں میں بستے ہیں اوریہ مائیں ۔۔ یہ مائیں اپنے بچوں کے لیے خدا کی شکل میں کیسے ڈھل جاتیں ہیں ؟ مگر۔۔ سارے سوالات ادھورے ہی رہ گئے وہ اچانک سے میرے پاس سے چلے گئی اور مجھے معنوں کے بنا کسی خالی خولی لفظ کی شکل میں ،کسی بے منزل آوارہ خیال کی صورت میں،کسی تنہا جذبے کی طرح، اپنے دل کی عبادت گاہ میں بے شکل بے رنگ یہ سب سوچنے کے لیے بس اکیلا چھوڑ گئی۔۔میرے دل کی عبادت گاہ میں جہاں اب وہ ایک خدا کی شکل میں ڈھل گئی ہیں اور میں۔۔میں محض ’ نہیں‘ کی شکل رہ گیا ہوں کہ اس سارے تلخ تجربے نے میری ناقص عقل کو صرف اسی سمجھ سے نوازاہے کہ انکار ہی تواصل میں اقرار کی پہلی منزل ہے اور یہ انکار ہے اپنی ذات کا، ذات کے نہ ہونے کے ہونے کا،میں جو زماں و مکاں میں جکڑا اپنے وجود کے جال میں بند اس بے معنی دنیا میںIn-itself کی شکل میں اپنی زندہ ماں میں سے برآمد ہوا تھا اور اُس کی موجودگی میں’ ہاں‘ کی شکل میں تھا اُس کے مر جانے پر اپنے انہدام کا شکار ہو گیا اور پھر مجھ سے for itself کا وہ شعور بیدار ہواجو ’ نہیں‘ کی شکل میں تنہا ، خوفزدہ اور بے بس تھا اور پھر ڈیکارٹ کے مطابق I think therfore I am کے اردگرد گھومنے لگا ۔وجودیت کے اس نئے احساس نے جہاں زندگی کی بے معنویت سے مجھے آشنا کیا تو وہی ایک نئی فکری جہت ،قوت ارادی اور آزادی عمل کا بھی احساس دیا ۔میری ماں جنہوں نے زندگی میں تو میری تعمیر کی ہی تھی جانے کے بعد بھی میری زندگی کا راستہ متعین کر گئی ۔وہ جاتے جاتے دھیمے سے ایک بند دریچہ کھلا چھوڑ گئی ۔۔وہ دریچہ جو پہلے کسی دھیان میں نہ تھا پر جو کھلا تو جیسے میرے گیان کاسبب بن گیا ۔۔گیان زندگی اور موت کے اتفاق کا ۔۔گیان چہار سو پہلے تنہا سے دن رات کا ۔۔۔گیان اپنی بے بس سی تنہا ذات کا ۔۔۔گیان تاریکی میں تیرتے ہوئے گمنام سے خیال کا ۔۔یہ گیان ہی تو تھا کہ دھیمے دھیمے اُس گمنام خیال پر ساری تجلیاں روشن ہوتی چلی گئی ۔بے ہنگم نقطے آپس میں ملے تو ایک نئی دنیا وجود میں آگئی پھر ایسے لوگ اور منظر تھے جو پہلے کسی وہم و گمان میں نہ تھے ۔۔۔روشنیوں کی وہ کہکشائیں کہ آنکھیں چندھیا جائیں اور پھر وہ گھپ اندھیرا کہ دل خوف سے بند ہوجائے ۔وہ روحانی تصور کہ محبت اپنے وجود پر حیراں اور وہ مکرو کردار بھی کہ طبعیت متلاہٹ سے بھر جائے ۔کہیں تو سائنس اپنی توجہات دونوں ہاتھوں میں لیے میری خالی مٹھیوں کو تھامنے کوتیار اور کہیں ننگ دھڑنگ سوالیہ خیال �آنکھوں کی پتلیوں کے پیچھے ناچے ۔۔کردار دوست ہوتے ہیں پر جان لینے والے دشمن بھی ۔۔۔کہانیاں پیار سے جذب کرتی ہیں تو نفرت سے تھوک بھی دیتی ہیں ۔۔اُن کی ریکھاؤں کا تخلیق کار کی ریکھاوءں سے ملنا ضروری نہیں ہوتا ۔۔وہ تو جیسے اُن چاند ستاروں سے اُترتی ہیں جو تخلیق کے سوتوں میں الجھی ہوئی کسی گمنام سی کہکشاں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور پھر اچانک کسی بھی لمحے نمودار ہوکر خود تخلق کار کی آنکھوں کو خیرہ کردیتے ہیں ۔۔بس یہی کل گیان ہے جو پچھلے کئی سال کے تخلقی سفر میں مجھے ملا وہی کہ جس کے بعد میرا تخلیق کار سے وہی رشتہ بن گیا ہے جو خود میرا اپنے تخلیق کردہ کرداروں سے ہے ۔۔یعنی پیار کا رشتہ

اہل مغرب مریخ پر زندگی تلاش کر رہا ہے اور مسلمان آلو پر اللہ تلاش کر رہا ہے۔


کہنے تو یہ جملہ بڑا بامعنی لگتا ہے۔ اس میں غلط بھی کچھ نہیں ہے۔ مغرب سچ مچ مریخ پر زندگی تلاش کر رہا ہے اور مسلمان آلو پر اللہ کا نام تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ جملہ سچ مچ بامعنی ہے؟ تھوڑی دیر کے لئے کچھ اور جملوں پر غور کریں۔
مسلمان عورتیں پردہ کرتی ہیں اور مغرب کے مرد جینز پہنتے ہیں۔۔!
مسلمان جنت کے حصول کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور مغرب میں لوگ بی ایم ڈبلیو گاڑی میں سفر کرتے ہیں۔۔!
مسلمان کرتا پہنتا ہے اور مغرب میں لوگ پتلون پہنتے ہیں۔
ویسے تو یہ جملے کچھ غلط نہیں ہیں۔ مسلمان عورتیں سچ مچ پردہ کرتی ہیں ، مسلمان جنت کے حصول کے لئے کوشش بھی کرتا ہے اور مسلمان کرتا بھی پہنتا ہے۔ مغرب میں مرد جینز پہنتے ہیں، وہ بی ایم ڈبلیو گاڑی میں سفر بھی کرتے ہیں اور مغرب پتلون بھی پہنی جاتی ہے۔ صحیح ہونے کے باوجود جو بھی ان جملوں کو پڑھے گا وہ انہیں کم از کم لغویات قرار دے گا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی سب عورتیں پردہ نہیں کرتیں اور مسلمانوں کے پردہ کرنے اور مغرب میں مردوں کے جینز پہننے کا کوئی منفی یا مثبت تعلق نہیں ہے اور مسلمان مرد بھی جینز پہنتے ہیں۔ اس لئے اس جملے میں کچھ غلط نہ ہونے کے باوجودیہ جملہ انتہائی غلط اور احمقانہ ہے۔
مسلمان جنت کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے اور مغرب کے بہت سارے مسیحی بھی اپنی دانست میں جنت کے حصول کے لئے کوشش کرتا ہے قطع نظر اس سے کہ ان کی یہ کوشش کامیاب ہوگی یا نہیں۔ بی ایم ڈبلیو میں مسلمان بھی سفر کرتے ہیں اور بی ایم ڈبلیوں میں سفر کرنے اور جنت کے حصول کے لئے کوشش کرنے میں کوئی تناقض نہیں ہے۔ اس لئے یہ جملہ بھی لغو ہے۔
اسی پر آپ تیسرے جملے کو بھی قیا س کرسکتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ کچھ جملے صحیح ہونے کے باوجود بے معنی اور لغو ہوتے ہیں۔
علم منطق کی ایک اصطلاح ہے جسے فالس ڈیکوٹامی* کہتے ہیں۔ اس میں ایک فریق اپنی غلط بات کو ثابت کرنے کے لئے دو ایسی چیزوں کو بطور ضدین کے پیش کرتا ہے جو کہ در اصل ضدین ہوتے نہیں۔
اب اسی منطق کےتناظر میں اس جملے پر غور کریں۔
اہل مغرب مریخ پر زندگی تلاش کر رہا ہے اور مسلمان آلو پر اللہ تلاش کر رہا ہے۔
اس اعتبار سے یہ بات سچ مچ افسوسنا ک ہے کہ مسلمان ممالک میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو سائنسی ترقی میں مغرب کے مقابلے پر کیا قریب بھی ہو۔لیکن کیا آلو پر اللہ کے نام کی تلاش کرنے والے صرف مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں؟ کتنی بار ایسا ہوا کہ مغرب کے مسیحی حضرات کو بادلوں میں، پہاڑوں میں فروٹوں میں جیسس کا نام اور شکل نظر آئی ۔۔؟ اتنا ہی نہیں, مغربی ممالک میں کتنی ہی بار مختلف گروہوں نے قیامت کی تاریخ کا اعلان کیا بلکہ جمع ہوکر مسیح کے اترنے کا انتظار بھی کرتے رہے۔ اور ویسے بھی صدر بش کو عراق اور افغانستان پر حملہ کرنے کی ترغیب کے لئے عجیب و غریب آوازیں بھی سنائی دیتی رہی۔اس سب کے باوجود مغرب سائنسی اور علمی ترقی کرتا رہا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔
دراصل آلو پر اللہ کے نام کو تلاش کرنے والی دینداری ہر جگہ پائی جاتی ہے۔انسانوں کاآئی کیو لیول ایک نہیں ہوتا۔ ہر معاشرے میں بے وقوف اور سادہ لوح انسان پائے جاتے ہیں۔ آپ کوشش کر کے بھی اس طرح کے لوگوں کو معاشرے سے ختم نہیں کرسکتے۔ بلکہ بعض دفعہ انسانوں میں عجیب کامپلیکس قسم کی نفسیات پائی جاتی ہے کہ آپ کو ایسے بندے ملیں گے جو سائنسی اعتبار سے انتہائی ترقی یافتہ ہونے کے باوجود توہم پرستانہ خیالات رکھتے ہوں۔
اس اعتبار سے زیر بحث جملہ ایک لغو اور فالس ڈیکوٹامی ہے۔ مسلمانوں میں بہت سارے سادہ لوح لوگ پائے جاتے ہیں جنہیں پھلوں، سبزیوں، بادلوں اور پہاڑوں پر خدا کا نام نظر آجاتا ہے۔ لیکن اس بات کا کوئی تعلق مسلمانوں کی سائنسی ترقی نہ ہونے سے نہیں ہے۔ اس طرح کےسادہ لوح لوگ شاید سائنسی ترقی میں کوئی کردار ادا نہ کریں لیکن جو اس طرح کے نہیں ہیں اور جو ایسی دینداری کے نقاد ہیں ان کو چاہئے کہ ان پر تنقید کرنے کے بجائے اپنا سائنسی سفر جاری رکھیں۔ مغرب کی سائنسی کامیابی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اب یہاں ایسے لوگ پائے نہیں جاتے بلکہ ان کی کامیابی کی وجہ یہ ہے جو دوسرے قسم کے لوگ ہیں انہوں نے اپنا کام امانت داری ور دلجمعی کے ساتھ کیا۔ عبدالقدیر خان نے اپنے اوپر جو ذمہ داری لی وہ کرکے دکھائی باجود اس کے کہ پاکستانی معاشرے میں آلو پر اللہ کا نام ڈھونڈنے والے تب بھی پائے جاتے تھے اور اب بھی پائے جاتے ہیں۔ اگر وہ اسی کا رونا لے کر بیٹھ جاتے تو عبدالقدیر کے بجائے پرویز ہودبھائی ہوجاتے۔
سائنسی اور علمی ترقی کا تعلق یونیورسٹی کے علمی معیارات اور سیاست دانوں کی اس بارے میں دلچسپی سے متعلق ہے۔ فی زمانہ یہ دونوں میدان دینی حلقوں کے پاس نہیں بلکہ ان حلقوں کے پاس ہیں جنہیں مولوی نہیں سمجھا جاتا۔ یا ایک اعتبار سے انہیں سیکولر یا دنیاداری کامیدان سمجھا جاتا ہے۔
اس طرح کے فقروں سے یہ تأثر ملتا ہے کہ مسلمان ممالک میں سائنس دان جب بھی ترقی کرتے ہیں تو کوئی اعلان کرتا ہے کہ آلو پر اللہ کا نام دریافت ہوگیا ہے تو سب مسلمان چاہے وہ یونی ورسٹی کے پروفیسر ہوں یا لیباریٹیری میں پائے جانے والے سائنسدان، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کرآلو دیکھنے کے لئے آجاتے ہیں جس کی وجہ سے سائنسی ترقی نہیں ہوپاتی۔یہ کتنا احمقانہ تاثر اسکے لئے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر مسلمان ممالک سائنس میں ترقی نہیں کرسکے تو وہ اس لئے نہیں ہے کہ کچھ سادہ لوح مسلمان آلو پر اللہ کا نام تلاش کرتے ہیں بلکہ اصل وجہ ہے کہ مسلم ممالک میں جن میدانوں کو عام طور پر دنیاداری سمجھا جاتا ہے اس کو چلانے والوں کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ یہ علمی اور سائنسی اداروں کوچلانے والے نکمے تھا یا بدنیت جس کی وجہ سے مسلمان سائنس میں ترقی نہیں کرسکے؟
آلو تو صرف ایک بہانہ ہے نالائق سیکولروں کی ناکامی کو چھپانے کا۔ اچھی خاصی سرکاری اور بیرونی فنڈنگ ہوکر بھی مسلمان کیوں پیچھے ہیں؟ اس کی وجہ آپ کو آلو سے آگے بڑھ کر کہیں اور ڈھونڈنی پڑھے گی۔پرویز ہودبھائی جیسے سائنسدان قوم کو سائنس پڑھانے کے بجائے، مذہب پڑھائیں گے تو اور کیا نتیجہ نکلے گا؟ صرف قوم کا رونا رو کراور مولویوں کو دوچار گالیاں دے کر اصل ذمہ داری دوسروں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

Sabaq Amooz Baaton ke Liye Urdu Adab Updates Haasil Karen aur Is k Ilava aap khubsurat aur dard bhari sher o shayari bhi download kar sktey hen apney zauq ko barhanay k liye.

Har Maal Har Cheez – Muhammad Jameel Akhtar


ایک تپتی ہوئی دوپہر میں
ایک دیوار کے سائے میں
ایک اداس ، پریشان آدمی
تھوڑی تھوڑی دیر بعد پکارے
“ہر مال ، ہر چیز”
کون اسکی آواز سنے
کون اسکی بات سنے
ایسی تپتی دوپہر میں
“ہر مال ، ہر چیز”
“ہر چیز دس روپے میں
یہ پلاسٹک کی چوڑیاں
یہ مٹی کے برتن ،
یہ آنکھوں کا سرمہ
یہ کپڑوں کے بٹن
ہر مال ، ہرچیز”
ایسی تپتی دوپہر میں
یہ گاہک تلاش کرتی آنکھیں
تھک ہار کے لوٹ آتی ہیں
گلی کے ایک نکڑ سے
دوسرے نکڑ تک
کون اس کی آواز سنے
کون اس کی بات سنے
ایسی تپتی دوپہر میں
آواز مدھم ہوتی جاتی ہے

شاعر: محمد جمیل اختر   \

اگر آپکو اردو نظموں، شاعری ، اور اچھی باتوں کا شوق ہے تو اردو شاعری ڈاؤنلوڈ کریں۔ مزید اردو ادب کی بہترین سلیکشن ریگولر بھی حاصل کر سکتے ہیں آپ !

Insaan Naik aur Badd Sab ko kese Raazi kr sakta ha?


Sab ko Razi krny ka to me nahe keh rha… bal k me ye keh raha hu keh aap ne kisi k sath naraz nahe hona…. sab ko raazi krny ki baat me nahe kr raha bass aap naraz na hon… beshak aap badi ko bura samjho lekin bdd ko bura na samjhna .. bdd aadmi bemaar ha.. jis tara doctor beemaar aadmi ko dekhta ha ye to nhe dekhta k is ka imaan kya ha.. chahy mareez esaae ho ya sikhh ho ya hindu is ka elaaj krta ha… me ye keh rha hu k badi ik bemaari ha … baaid is ka pasandeeda amal nahe.. bal k bemaari ha… wo majboor ho gaya… wo badi k phandy me aa gaya … ar aaap.. ap ko acha rasta mil gaya … khushgawaar bndy mil gaye… us ko wo raasta mil gaya.. na.khushgawar bnday mil gaye… is ko hamdardi se wahan se nikalo… us se nafrat nahe krni..k ye gunaah.gar ha… shyd nafrat ne us ko gunahgar bnaya ho… r aisa ho sakta ha k aap ki mahabat us ko gunah se wapis le ae… is liye aap us se mahabat karo… shayd wo raasta badal le.. is gareeb ki bemar pursi karo k woo badd ho gaya .. us k liye dua karo…


Hazrat Wasif Ali Wasif….

Mazeed achi baaton ke liye aap Urdu Adab ki Android application download kar saktay hen. Is ke ilava agar aap ko poetry ka shauq hai to aap Urdu sher o shayari with aqwal e zareen ki application bhi download kar k mehzood ho skte hen !!

 

BeWakoof Larkion Ke Naam Jo Roti Hain


کچھ کڑوے مگر سچے سوال ان بیوقوف لڑکیوں کے نام جو لڑکوں سے دھوکہ کھانے کے بعد روتی ہیں____________!!
تو آپ کو ایک لڑکے نے دھوکہ دے دیا..؟
ہمممم _____________________!!
کیسے دے دیا دھوکہ..؟ کچھ روشنی ڈالنا پسند کریں گی..؟؟
اس نے آپ کو پھنسایا..؟؟ مگر کیسے..؟؟
کوئی پھنس کیسے سکتا ہے بھلا’ جب تک خود پھنسنا نہ چاہے..؟
سٹارٹ میں کیوں نہ دھتکار دیا اس لڑکے کو..؟
آپ کے گھر کا ماحول بھی سخت ہے..؟ ابو کے غصے سے ڈر لگتا ہے..؟ بھائیوں سے بھی ڈرتی ہیں..؟
اس سب کے باوجود بھی چکر چلا لیا..؟
ہممممم ______________________!!
جب گھر کے ماحول کی سختی کا بھی علم تھا ‘ پھر بھی موبائل پر باتیں اور چھپ کر ملاقاتیں..؟ امی سے جھوٹ بول کر گھر سے باہر جانا..؟
آپ تو بہت بہادر ہوئیں نہ پھر..؟؟
اس بہادری کا ایسا ہی صلہ ملنا تھا نا.. اچھا نہ سہی’ برا ہی سہی..!!
پھر اب کیوں روتی ہیں آپ..؟
کہ وہ یہ کہہ کر چھوڑ گیا کہ “جو ایک غیر مرد کیلئے اپنے والدین کو دھوکہ دے سکتی ہے میں اس پر کیسے بھروسہ کر سکتا ہوں..”
ثابت ہوا کہ صرف اس نے دھوکہ نہیں دیا بلکہ آپ نے اپنی مرضی سے بھی دھوکہ کھایا..!!
بے شک تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور قصور بھی یہاں دونوں کا ہے مگر سزا صرف آپ کو ہی ملے گی کیونکہ ہمارے معاشرے کا یہی دستور ہے..!!
میری بہنو سنو _________________!!
لڑکے بھی صرف اس لڑکی کی عزت کرتے ہیں جو اپنی عزت خود کرتی ہو.. سمجھدار لڑکیاں ایسے احمقانہ قدم نہیں اٹھاتیں.. ان کو اپنی اور والدین کی عزت کا پاس بھی ہوتا ہے اور اس بات کا احساس بھی کہ ایک غلط قدم ان کو ایسی پستی میں دھکیل دے گا جس سے نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا..
یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ ہمارے معاشرے میں مرد کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے مگر لڑکی کا گناہ معاشرہ تو کیا اپنے گھر والے بھی معاف نہیں کرتے..!!
اللہ پاک ہم سب کی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی عزت محفوظ رکھے اور ان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے
آمین…………
آپ دوسروں کی بیٹیوں کو پاکیزہ رہنے دیں تو آپ کو بھی پاکیزہ بیوی ضرور ملے گی ان شاء الله بات اتنی مشکل نہیں جس پر عمل نہ ہو سکے !!!
اگر آپ اپنے لئے ایک نیک بیوی اور نیک بیٹی کی کی آرزو رکھتے ہو تو دوسروں کی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عزت دینا سیکھو کیونکہ قران پاک میں ہے
الخَبيثٰتُ لِلخَبيثينَ وَالخَبيثونَ لِلخَبيثٰتِ ۖ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبينَ وَالطَّيِّبونَ لِلطَّيِّبٰتِ ۚ﴿٢٦﴾ (سورة النور)
ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے ہیں۔اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں-

اردو دب ||  اردو اقوال زریں اور شاعری

Mein Hamesha Udaas Rehta Hoon


میں ہمیشہ اداس رہتا ہوں، اداسی میرے اندر بس چکی ہے۔ میں گھومنے جاتا ہوں، تو میری نظر بڑی بڑی عمارتوں پر کبھی نہیں پڑتی، میری نظر ہمیشہ ان کے باہر مانگنے والوں پر پڑتی ہے، وہ لوگ جو پورے خاندان کے ساتھ سردی اور گرمی کی بنا پروا کئے فٹ پاتھ پر سوتے ہیں، تین سال پہلے ایک بار ایسے ہی ایک خاندان کو دیکھتا رہا کافی دیر، باپ کی ٹانگ پر بیٹے نے سر رکھا ہوا تھا، باپ اور ماں بنا تکیہ لئے فٹ پاتھ پر سو رہے تھے۔ تصویر بنانے کا سوچا اور کافی دیر کیمرہ آن کرکے سوچتا رہا اور پھر یہ سوچ کر نہیں بنائی کہ کہیں ان کی نیند خراب نہ ہو جائے، پتا نہیں کیسے ایسی جگہ پر نیند آئی ہوگی انہیں۔ مجھے خود آج بھی اللہ کے کرم سے کوئی پریشانی نہیں ہے، مجھے لوگوں کے مسئلے سننا اچھا لگتا ہے، ان کے مسئلوں کو محسوس کرتا ہوں، لوگوں کے اتنے مسئلے ہیں کہ بس خدا اپنی پناہ میں رکھے، ایسے ایسے واقعات ہیں کہ انسان کو نیند نہ آئے سن کر۔ میرے پاس آج بھی اتنی تصویریں پڑی ہیں ایسی ہی جوکہ خود اپنے ہاتھ سے کھینچی ہوئی ہیں اور کسی دن مجھے اپنے گرم کمرے میں، اپنے کمبل میں ایسے لوگ یاد آجائیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا حالت ہوتی ہوگی۔
ابرارالزمان
از ہم کلامی۔

 

Download Urdu PoetryGet Live Urdu Adab Updates

%d bloggers like this: